ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 8

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ رَبُّکُمۡ وَ رَبُّ اٰبَآئِکُمُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۸﴾
اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔ En
اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) جِلاتا ہے اور (وہی) مارتا ہے۔ وہی تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا پروردگار ہے
En
کوئی معبود نہیں اس کے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8) ➊ {لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} یہ پچھلی آیت کا نتیجہ ہے کہ جب آسمان و زمین اور ساری کائنات کا مالک اور رب اللہ تعالیٰ ہے تو پھر معبود بھی وہی ہے۔
➋ { يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ:} یہ دونوں جملے اللہ تعالیٰ کے معبود واحد ہونے کی مزید تاکید کے لیے بیان فرمائے کہ معبود اسی کو مانو جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور جو تمھارا اور تمھارے پہلے آباء کا رب ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پہلے آباء و اجداد [6] کا بھی
[6] یعنی تم ہی نہیں بلکہ تمہارے آباء و اجداد بھی اس غلطی اور گمراہی میں مبتلا تھے۔ ان کا پروردگار بھی وہی معبود برحق ہے جو زندہ کر سکتا اور مار سکتا ہے۔ لہٰذا انہیں بھی اسی معبود کی عبادت کرنا چاہئے تھی۔ اب تم اپنے آباء کی اس غلطی اور گمراہی کو ہی سند بنا کر اپنے لیے غیر اللہ کی عبادت کا جواز پیش کرنا چاہتے ہو؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔