(آیت 6) ➊ {رَحْمَةًمِّنْرَّبِّكَ:} یہ{”مُرْسِلِيْنَ“} کا مفعول لہ ہے۔ یعنی ہم تیرے رب کی رحمت کی وجہ سے رسول کو بھیجنے والے اور کتاب کو نازل کرنے والے تھے۔ ”اپنی رحمت“ کے بجائے ”تیرے رب کی رحمت“ کا لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف کے اظہار کے لیے ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا نہیں بلکہ کل کائنات کا رب ہے، جیسا کہ آگے یہ بات آ بھی رہی ہے: «رَبِّالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِوَمَابَيْنَهُمَااِنْكُنْتُمْمُّوْقِنِيْنَ» ”آسمانوں اور زمین اور ان چیزوں کا رب جو ان دونوں کے درمیان ہیں، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔“ {”رَحْمَةًمِّنْرَّبِّكَ“} میں لفظ {”رَبٌّ“} کا مطلب یہ ہے کہ بندوں پر یہ رحمت ہمارے رب ہونے کا تقاضا ہے، کیونکہ {”رَبٌّ“} کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے جسم کی پرورش کا انتظام کیا جائے اور ان کی روحانی پرورش کا انتظام نہ کیا جائے، بلکہ انھیں گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دیا جائے۔ ➋ { اِنَّهٗهُوَالسَّمِيْعُالْعَلِيْمُ: ”إِنَّ“} پہلے جملے کی علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے، یعنی ہم نے رسول اس لیے بھیجا کہ تیرا رب خوب سننے اور جاننے والا تھا کہ کس طرح مشرکین بتوں اور باطل معبودوں کی پرستش کر رہے ہیں، کفر کے امام لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور طاقتور کمزوروں پر ظلم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کے تمام اقوال و افعال اور نیتوں کو جانتا تھا اور سن رہا تھا، اس لیے اس نے ان کی اصلاح کے لیے رسولوں کو بھیجا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 یعنی انزال کتب کے ساتھ (رسولوں کا بھیجنا) یہ بھی ہماری رحمت ہی کا ایک حصہ ہے تاکہ وہ ہماری نازل کردہ کتابوں کو کھول کر بیان کریں اور ہمارے احکام لوگوں تک پہنچائیں۔ اس طرح مادی ضرورتوں کی فراہمی کے ساتھ ہم نے اپنی رحمت سے لوگوں کے روحانی تقاضوں کی تکمیل کا بھی سامان مہیا کردیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ اور یہ آپ کے پروردگار کی رحمت کی بنا [4] پر تھا بلا شبہ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
[4] آپ رحمۃ للعالمین تھے :۔
یعنی تمام اہل عالم کے لئے ایک خبردار کرنے والا رسول بھیجنا صرف ہماری حکمت کا ہی تقاضا نہ تھا بلکہ یہ اہل عالم پر ہماری رحمت کا بھی تقاضا تھا۔ وہ لوگوں کی پکار اور فریاد بھی سنتا ہے اور ان کے حالات کو جانتا بھی ہے۔ اسی لیے اس نے عین ضرورت کے مطابق خاتم النبییّن صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن دے کر اور تمام اہل عالم کے لیے رحمت کبریٰ بنا کر مبعوث فرمایا۔ تاکہ کفر و شرک کی گمراہیوں میں پھنسی اور ظلم و جور میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو سیدھی راہ دکھا دی جائے کہ کس طرح وہ اپنی باہمی نہ ختم ہونے والی لڑائیوں، لوٹ مار اور قتل و غارت سے نجات حاصل کر کے دنیا میں امن و چین کے ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔