فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۵۷﴾
تیرے رب کی طرف سے فضل کی وجہ سے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
En
یہ تمہارے پروردگار کا فضل ہے۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے
En
یہ صرف تیرے رب کا فضل ہے، یہی ہے بڑی کامیابی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 57) {فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ:} یعنی جنت میں داخلہ کسی کے استحقاق یا اعمال کی وجہ سے نہیں ہو گا بلکہ محض اللہ کے فضل سے ہو گا، کیونکہ آدمی جتنے اعمال بھی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت کا بدل نہیں ہو سکتے۔ اس سے پہلے آیت (۴۲) کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث گزر چکی ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
57۔ 1 جس طرح حدیث میں آتا ہے، فرمایا یہ بات جان لو! تم میں کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا صحابہ نے عرض کیا۔ یارسول اللہ! آپ کو بھی؟ فرمایا ' ہاں مجھے بھی، مگر اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل میں ڈھانپ لے گا ' (صحیح بخاری)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
57۔ یہ آپ کے پروردگار کا فضل [38] ہو گا۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے
[38] جنت میں داخلہ صرف اللہ کے فضل سے ہو گا اور اس کی وجہ :۔
یعنی اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان دوزخ کے عذاب سے بچ جائے اور اگر اللہ تعالیٰ دوزخ کے عذاب سے بچا کر جنت میں بھی داخل کر دے تو یہ اللہ کا خاص فضل ہوتا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:”کسی شخص کو اس کے عمل بہشت میں نہیں لے جائیں گے“ لوگوں نے عرض کیا:”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! میں بھی اپنے اعمال کے سبب بہشت میں نہیں جاؤں گا۔ اِلایہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت مجھے ڈھانپ لے“ [بخاري۔ كتاب المرضيٰ۔ باب تمني المريض الموت]
علماء کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی خواہ کتنی ہی عبادت اور فرمانبرداری کرے اس سے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ احسانات کا بھی بدلہ نہیں چکایا جا سکتا۔ چہ جائیکہ اسے بہشت بھی عطا کی جائے۔ اور اگر کسی کو جنت میں داخلہ ملتا ہے تو یہ محض اس کا فضل ہوا۔ نیز حدیث میں ہے کہ مومن کو قبر میں اس کا جنت میں ٹھکانا دکھایا جاتا ہے اور دوزخ میں بھی اور کہا جاتا ہے کہ اگر تم اللہ کی فرمانبرداری نہ کرتے تو تمہارا یہ ٹھکانا تھا اور دوزخ میں ٹھکانہ اس لیے دکھایا جاتا ہے کہ جب تک انسان اللہ کی کسی نعمت کے مقابلہ میں اس کے برعکس کوئی تکلیف دیکھ نہ لے وہ اللہ کی نعمت کا صحیح اندازہ کر ہی نہیں سکتا۔ انسان کو اپنی صحت کی قدر بھی اسی وقت معلوم ہوتی ہے جب وہ بیمار پڑتا ہے۔
علماء کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی خواہ کتنی ہی عبادت اور فرمانبرداری کرے اس سے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ احسانات کا بھی بدلہ نہیں چکایا جا سکتا۔ چہ جائیکہ اسے بہشت بھی عطا کی جائے۔ اور اگر کسی کو جنت میں داخلہ ملتا ہے تو یہ محض اس کا فضل ہوا۔ نیز حدیث میں ہے کہ مومن کو قبر میں اس کا جنت میں ٹھکانا دکھایا جاتا ہے اور دوزخ میں بھی اور کہا جاتا ہے کہ اگر تم اللہ کی فرمانبرداری نہ کرتے تو تمہارا یہ ٹھکانا تھا اور دوزخ میں ٹھکانہ اس لیے دکھایا جاتا ہے کہ جب تک انسان اللہ کی کسی نعمت کے مقابلہ میں اس کے برعکس کوئی تکلیف دیکھ نہ لے وہ اللہ کی نعمت کا صحیح اندازہ کر ہی نہیں سکتا۔ انسان کو اپنی صحت کی قدر بھی اسی وقت معلوم ہوتی ہے جب وہ بیمار پڑتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
اسی لیے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو۔[صحیح بخاری:6467]
ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل، بالکل آسان،صاف ظاہر، بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح و بلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بآسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لو گے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہو گی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58- المجادلة: 21]، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40- غافر: 52، 51]، یعنی یقیناً ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔
ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل، بالکل آسان،صاف ظاہر، بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح و بلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بآسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لو گے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہو گی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58- المجادلة: 21]، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40- غافر: 52، 51]، یعنی یقیناً ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔