ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 54

کَذٰلِکَ ۟ وَ زَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ ﴿ؕ۵۴﴾
اسی طرح ہو گا اور ہم ان کا نکاح سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتوں سے کر دیںگے، جو بڑی آنکھوں والی ہیں۔ En
اس طرح (کا حال ہوگا) اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی سفید رنگ کی عورتوں سے ان کے جوڑے لگائیں گے
En
یہ اسی طرح ہے اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54) ➊ {كَذٰلِكَ: أَيْ اَلْأَمْرُ كَذٰلِكَ} یا { يَكُوْنُ كَذٰلِكَ} یعنی ایسے ہی ہو گا، نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
➋ { وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ: حُوْرٌ حَوْرَاءُ} کی جمع ہے، نہایت گوری عورت جس کی آنکھوں کی سیاہی بہت سیاہ اور سفیدی بہت سفید ہو، جسے دیکھتے ہی بندہ حیران رہ جائے۔ بعض نے معنی کیا، سیاہ آنکھ والی عورت جس کی آنکھ میں سفیدی کا حصہ بہت کم ہو۔ { عِيْنٍ عَيْنَاءُ} کی جمع ہے، بڑی آنکھوں والی عورت۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54۔ 2 حُورَاَءُ اس لئے کہا جاتا ہے کہ نظریں ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوجائیں گی کشادہ چشم جیسے ہرن کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں کہ ہر جنتی کو کم ازکم دو حوریں ضرور ملیں گی، جو حسن جمال کے اعتبار سے چندے آفتاب و ماہتاب ہوں گی۔ البتہ ترمذی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، جسے صحیح کہا گیا ہے، کہ شہید کو خصوصی طور پر 72 حوریں ملیں گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ اور ہم انہیں بڑی بڑی آنکھوں والی اور گوری گوری [36] عورتوں سے بیاہ دیں گے
[36] ﴿حور﴾ ﴿حوراء﴾ کی جمع ہے اور ﴿حوراء﴾ بمعنی گورے رنگ کی عورت اور عین عیناء کی جمع ہے۔ بمعنی عورت جس کی آنکھیں موٹی ہوں۔ آنکھ کی پتلی خوب سیاہ ہو اور سفیدی خوب سفید ہو۔ اور ایسی عورت انتہائی خوب صورت ہوتی ہے۔ اہل جنت کو ایک تو ایسی عورتیں ملیں گی دوسرے وہ جو دنیا میں ان کی بیویاں تھیں اور مومن تھیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔