ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 43

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ ﴿ۙ۴۳﴾
بے شک زقوم کا درخت۔ En
بلاشبہ تھوہر کا درخت
En
بیشک زقوم (تھوہر) کا درخت En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43){ اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ: الزَّقُّوْمِ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۶۲ تا۶۵)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ بلا شبہ تھوہر کا درخت

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭
منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر» ‏‏‏‏ پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» ‏‏‏‏ [22- الحج: 20، 19]‏‏‏‏، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔
مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [75- القيامة: 34، 35]‏‏‏‏» ‏‏‏‏ تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [52-الطور: 13 - 15]‏‏‏‏ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور ﴿اِنَّ بے شک ان کا کھانا ﴿شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ زقوم کا درخت ہو گا جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ ﴿كَالْ٘مُهْلِ بدبودار پیپ کے مانند ہے، جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہو گا۔وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا۔ ﴿ كَ٘غَ٘لْیِ الْحَمِیْمِ جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔
عذاب میں گرفتار مجرم سے کہا جائے گا ﴿ذُقْ اس دردناک عذاب اور بدترین سزا کا مزا چکھ ﴿اِنَّكَ اَنْتَ الْ٘عَزِیْزُ الْكَرِیْمُ تو اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف سمجھتا تھا۔ یعنی تو اپنے زعم کے مطابق بہت زبردست اور طاقت ور تھا اور سمجھتا تھا کہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو بہت باعزت سمجھتے ہوئے خیال کرتا تھا کہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ پس آج تجھ پر واضح ہو گیا کہ تو انتہائی ذلیل و رسوا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا بے شک یہ عذاب عظیم وہ ہے ﴿مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے، اب تمھیں اس کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذَكَرَ يوم القيامة، وأنه يفصِلُ بين عباده فيه؛ ذَكَرَ افتراقهم إلى فريقين: فريقٍ في الجنة، وفريقٍ في السعير، وهم الآثمون بعمل الكفر والمعاصي، وأنَّ طعامهم {شجرة الزَّقُّوم}: شرُّ الأشجار وأفظعُها، وأنَّ طعامها {كالمهل}؛ أي: كالصديد المنتن خبيث الريح والطعم شديد الحرارة، {يَغْلي في} بطونهم {كغَلْي الحميم}، ويُقال للمعذَّب: {ذُقْ}: هذا العذاب الأليم والعقاب الوخيم، {إنَّك أنتَ العزيزُ الكريمُ}؛ أي: بزعمك أنك عزيزٌ ستمتنع من عذاب الله، وأنك كريم على الله لا يصيبُك بعذابٍ؛ فاليوم تبيَّن لك أنَّك أنت الذَّليل المهان الخسيس. {إنَّ هذا} العذاب العظيم، {ما كنتُم به تمترونَ}؛ أي: تشكُّون؛ فالآن صار عندكم حقَّ اليقين.