(آیت 40){ اِنَّيَوْمَالْفَصْلِمِيْقَاتُهُمْاَجْمَعِيْنَ:} یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ ”ہمارے باپ دادا کو لے آؤ اگر تم سچے ہو۔“ فرمایا، موت کے بعد زندگی کوئی کھیل نہیں کہ جب کوئی اس کا مطالبہ کرے اسے کوئی مردہ زندہ کرکے دکھا دیا جائے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقرر فرما رکھا ہے جس میں وہ سب کو جمع کرکے ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40۔ 1 یعنی وہ اصل مقصد ہے جس کے لئے انسانوں کو پیدا کیا گیا اور آسمان و زمین کی تخلیق کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ فیصلے کا دن ان سب سے وعدہ کا وقت [30] ہے
[30] تیسرا جواب : دوبارہ زندگی کا اصل وقت :۔
یہ بھی کافروں کے مطالبہ کا جواب ہے۔ یعنی اس دن صرف تمہارے باپ دادا ہی زندہ نہیں ہوں گے تمہیں بھی ان کے ساتھ زندہ کیا جائے گا۔ اس وقت مقررہ پر تم سب کو اکٹھا کر دیا جائے گا۔ کوئی بھی باقی نہ رہے گا اور تم سب ایک دوسرے کو پہچانتے ہو گے۔ مگر سب اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار ہونگے۔ اس دن تمہیں ایسی سب کٹ حجتیاں بھول جائیں گی اور کوئی ایک دوسرے کی مدد کرنے کے قابل ہی نہ رہے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔