ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 33

وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنَ الۡاٰیٰتِ مَا فِیۡہِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِیۡنٌ ﴿۳۳﴾
اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں دیں جن میں واضح آزمائش تھی۔ En
اور ان کو ایسی نشانیاں دی تھیں جن میں صریح آزمائش تھی
En
اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33) {وَ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰيٰتِ …: بَلٰٓؤٌا } کا معنی آزمائش ہے، یہ لفظ مصیبت اور انعام دونوں معنوں میں آتا ہے، کیونکہ آزمائش دونوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہاں مراد ان پر کیے جانے والے احسانات ہیں، جن میں آزادی، صحرا میں کھانے پینے اور دھوپ سے بچنے کی تمام ضرورتوں کا انتظام اور پھر ارضِ مقدس کی تولیت کا شرف سب چیزیں شامل ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۹)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش [25] تھی
[25] بلاء کا لغوی مفہوم، قوم موسیٰ پر اللہ تعالیٰ کے احسانات :۔
بلاء کا بنیادی معنی ایسی آزمائش ہے جو ایسے حادثات اور واقعات سے تعلق رکھتی ہو جسے دوسرے لوگ بھی دیکھ سکتے ہوں۔ اور یہ آزمائش خیر اور شر دونوں صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ یعنی احسانات سے نواز کر بھی اور تنگی یا تکلیف پہنچا کر بھی اس مقام پر یہ آزمائش خیر کی صورت میں ہوئی۔ اسی لیے بعض مترجمین نے اس لفظ کا ترجمہ احسان سے کیا ہے بعض نے مدد سے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل پر ایسے احسانات کیے جن میں ان کی مدد بھی تھی اور آزمائش بھی اور اس سے مراد اللہ کے وہ احسانات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میدان تیہ میں بنی اسرائیل پر کئے تھے جن کے بغیر ان کا زندہ رہنا بھی محال تھا اور یہ سب احسانات معجزات کی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسے من و سلویٰ کا نزول۔ بارہ چشموں کا پھوٹنا اور بادل کا ان پر سایہ کئے رہنا وغیرہ وغیرہ۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔