ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 32

وَ لَقَدِ اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے انھیں علم کی بنا پر جہانوں سے چن لیا۔ En
اور ہم نے بنی اسرائیل کو اہل عالم سے دانستہ منتخب کیا تھا
En
اور ہم نے دانستہ طور پر بنی اسرائیل کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32) ➊ { وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ:اِخْتَرْنَا اِخْتَارَ يَخْتَارُ اِخْتِيَارًا} (افتعال) سے جمع متکلم ماضی معلوم ہے۔ یہاں بھی { لَقَدْ } لانے کا مقصد یہی ہے کہ اتنی پسی ہوئی قوم کو یکایک تمام دنیا پر برتری کیسے مل سکتی ہے؟ فرمایا قسم ہے کہ ہم نے انھیں تمام جہانوں پر چن لیا، پھر ہمارے چنے ہوؤں کو برتری کیوں حاصل نہ ہو گی۔
➋ { عَلٰى عِلْمٍ:} یعنی ہم نے بلاوجہ ان کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ہمیں ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا علم تھا اور ہم ان کی خامیوں اور کمزوریوں سے بھی واقف تھے۔ اس علم ہی کی بنا پر ہم نے ان کے زمانے کی تمام قوموں میں سے ان کا انتخاب کیا۔
➌ {عَلَى الْعٰلَمِيْنَ: الْعٰلَمِيْنَ } سے مراد ان کے زمانے کے جہان ہیں، کل جہان نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو: «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۱۰]کہہ کر تمام امتوں سے بہتر قرار دیا ہے، کیونکہ { كَانَ } استمرار پر دلالت کر رہا ہے۔ ہاں بعض جزوی فضائل بنی اسرائیل میں ایسے ہیں جو انھی کی خصوصیت ہیں، مثلاً اتنے انبیاء کا ان میں معبوث ہونا، مگر مجموعی اور کلی لحاظ سے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم افضل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32۔ 1 اس جہان سے مراد بنی اسرائیل کے زمانے کا جہان ہے کل جہان نہیں ہے، کیونکہ قرآن میں امت محمدیہ کو کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے یعنی بنی اسرائیل اپنے زمانے میں دنیا جہان والوں پر فضیلت رکھتے تھے ان کی یہ فضیلت اس استحقاق کی وجہ سے تھی جس کا علم اللہ کو ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے علم کی بنا پر اہل عالم [24] پر ترجیح دی
[24] یعنی یہ بات عرب جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں کئی قسم کی خامیاں موجود ہیں۔ تاہم دوسری قوموں کی نسبت پھر بھی بہتر ہیں۔ لہٰذا ہم نے اہل عالم کی دینی قیادت انہیں کے سپرد کر دی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔