ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 24

وَ اتۡرُکِ الۡبَحۡرَ رَہۡوًا ؕ اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۲۴﴾
اور سمندر کو اپنے حال پر ٹھہرا ہوا چھوڑ دے، بے شک وہ ایسا لشکر ہیں جو غرق کیے جانے والے ہیں۔ En
اور دریا سے (کہ) خشک (ہو رہا ہوگا) پار ہو جاؤ (تمہارے بعد) ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا
En
تو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا، بلاشبہ یہ لشکر غرق کردیا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 24) {وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا …: رَهَا، يَرْهُوْ رَهْوًا} (ن) { الْبَحْرُ } سمندر کا ساکن ہونا۔ {رَهَا الرَّجُلُ رَهْوًا} جب آدمی دونوں ٹانگیں کھول لے اور انھیں الگ الگ کر لے۔ یہاں اس قصے کا وہ حصہ حذف کر دیا ہے جس میں ذکر ہے کہ بنی اسرائیل سمندر پر پہنچے تو پیچھے سے فرعون بھی پہنچ گیا، بنی اسرائیل سخت خوف زدہ ہو گئے کہ اب دوبارہ پکڑے جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار۔ انھوں نے ایسا کیا تو سمندر پھٹ گیا اور پانی کا ہر حصہ اپنی جگہ ایک بڑے پہاڑ کی شکل میں کھڑا ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل خیریت سے گزر گئے تو موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا: «وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا» ‏‏‏‏ اور سمندر کو اپنے حال پر ٹھہرا ہوا چھوڑ دے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۵۲ تا ۶۸) سمندر سے پار ہونے پر موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ سمندر کو اسی حالت میں ٹھہرا ہوا چھوڑ دیں کہ اس میں الگ الگ راستے کھلے ہوں، تعاقب کی فکر مت کریں، اس لشکر کو اسی سمندرمیں غرق کیا جانا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

24۔ 1 رَھْوًا بمعنی ساکن یا خشک۔ مطلب یہ ہے کہ تیرے لاٹھی مارنے سے دریا معجزانہ طور پر ساکن یا خشک ہوجائے گا اور اس میں راستہ بن جائے گا، تم دریا پار کرنے کے بعد اسے اسی حالت میں چھوڑ دینا تاکہ فرعون اور اس کا لشکر بھی دریا کو پار کرنے کی غرض سے اس میں داخل ہوجائے اور ہم اسے وہیں غرق کردیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ اور سمندر کو کھڑے کا کھڑا چھوڑ کر پار نکل جاؤ۔ (تمہارے بعد) ان کا تمام [19] لشکر ڈبو دیا جائے گا
[19] سمندر کو کھڑے کا کھڑا چھوڑنے کی ہدایت اور فرعون کی غرقابی :۔
اس مقام پر جستہ جستہ واقعات کی طرف اشارے ہی کئے گئے ہیں۔ جب سیدنا موسیٰؑ اور ان کے ساتھی سمندر سے پار اتر چکے تو انہوں نے دیکھا کہ فرعون اور اس کا عظیم لشکر ان کے تعاقب میں سمندر کے دوسرے ساحل پر پہنچ گئے ہیں۔ اس وقت سیدنا موسیٰؑ کو خیال آیا کہ سمندر کے پانی پر پھر اپنا عصا ماریں تاکہ سمندر کا پانی پھر سے رواں ہو جائے۔ اور فرعون اور اس کا لشکر سمندر کے دوسرے ساحل پر ہی کھڑے کے کھڑے رہ جائیں اور سمندر میں بنے ہوئے خشک راستے سے موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کا تعاقب نہ کر سکیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ پر وحی کی کہ ایسا مت کرو۔ قوم اور اس کے لشکر کو دریا میں داخل ہونے دو۔ اسی سمندر میں ہی تو ہم نے ان لوگوں کو غرق کرنا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [20-طه: 77]‏‏‏‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔
«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏‏‏‏ [26-الشعراء: 59]‏‏‏‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔
جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [7-الأعراف: 137]‏‏‏‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔
مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔[سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏۔
ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔[تفسیر ابن جریر الطبری:238/11]‏‏‏‏
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔[تفسیر ابن جریر الطبری:237/11]‏‏‏‏
بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏
یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔
ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔[صحیح بخاری:1043]‏‏‏‏