ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 18

اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ ؕ اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿ۙ۱۸﴾
یہ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ En
(جنہوں نے) یہ (کہا) کہ خدا کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں
En
کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ { اَنْ اَدُّوْۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ …:} یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ موسیٰ علیہ السلام کے جو اقوال یہاں نقل ہوئے ہیں وہ ایک وقت کے نہیں بلکہ کئی سالوں میں مختلف مواقع پر انھوں نے فرعون اور اس کے درباریوں سے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ چند فقروں میں بیان کیا گیا ہے۔
➋ { اَنْ اَدُّوْۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ:} اس جملے کی تفسیر دو طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ { عِبَادَ اللّٰهِ } کا لفظ { اَدُّوْۤا اِلَيَّ } کا مفعول بہ ہے، یعنی موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو۔ { عِبَادَ اللّٰهِ } (اللہ کے بندوں) سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جنھیں فرعون نے غلام بنا رکھا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کی بعثت کا مقصد فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات دلانا بھی تھا۔ اس تفسیر کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے: «‏‏‏‏فَاْتِيٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ» ‏‏‏‏ [طٰہٰ: ۴۷] تو اس کے پاس جاؤ اور کہو بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، پس تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے۔ یہاں بنی اسرائیل کو { عِبَادَ اللّٰهِ } کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور غلام ہیں، تمھیں کوئی حق نہیں کہ انھیں غلام بنا کر رکھو۔ یہی بات جنگ قادسیہ کے موقع پر ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے ایرانیوں کے سردار رستم سے کہی تھی، جب اس نے ان سے پوچھا: [مَا جَاءَ بِكُمْ؟] تمھیں کیا چیز لے کر آئی ہے؟ تو انھوں نے جواب میں جو تقریر کی اس کے چند جملے یہ ہیں: [اَللّٰهُ ابْتَعَثَنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلٰی عِبَادَةِ اللّٰهِ وَ مِنْ ضِيْقِ الدُّنْيَا إِلٰی سَعَتِهَا وَمِنْ جَوْرِ الْأَدْيَانِ إِلٰی عَدْلِ الْإِسْلَامِ] [البدایۃ والنہایۃ: 47/7، سن ۱۴ ہجري کے واقعات] اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھیجا ہے تاکہ ہم جسے وہ چاہے اسے بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی کی طرف اور دنیا کی تنگی سے نکال کر اس کی وسعت کی طرف اور تمام دینوں کے ظلم و جور سے نکال کر اسلام کے عدل کی طرف لے آئیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ { عِبَادَ اللّٰهِ } سے پہلے حرفِ ندا {يَا} محذوف ہے اور وہ منادیٰ مضاف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور { اَدُّوْۤا اِلَيَّ } کا مفعول محذوف ہے: { أَيْ أَدُّوْا إِلَيَّ مَا وَجَبَ عَلَيْكُمْ يَا عِبَادَ اللّٰهِ! } یعنی اے اللہ کے بندو! جو حقوق تم پر واجب ہیں وہ مجھے ادا کرو۔ یعنی مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو۔ اس تفسیر کے مطابق { عِبَادَ اللّٰهِ } سے مراد قبطی ہیں۔ یہ تفسیر بھی درست ہے، بعد کا جملہ { اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ } اس تفسیر سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ حرف ندا کا حذف کلامِ عرب میں عام ہے، جیسا کہ عزیزِ مصر نے کہا تھا: «‏‏‏‏يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا» ‏‏‏‏ [یوسف: ۲۹] { أَيْ يَا يُوْسُفُ! أَعْرِضْ عَنْ هٰذَا } یعنی اے یوسف! اس معاملے سے درگزر کر۔
➌ { اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ:} یہ پہلے جملے کی علت ہے، یعنی میرے حقوق جو تم پر واجب ہیں ادا کرو، کیونکہ میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں، تمھیں اللہ کا پیغام ٹھیک ٹھیک کسی کمی یا زیادتی کے بغیر پہنچاتا ہوں۔ یہ الفاظ اس وقت کے ہیں جب موسیٰ علیہ السلام نے شروع میں اپنی دعوت پیش فرمائی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 عِبَاد اللّٰہِ سے مراد یہاں موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل ہے جسے فرعون نے غلام بنا رکھا تھا حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ 18۔ 2 اللہ کا پیغام پہنچانے میں امانت دار ہوں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ (جس نے کہا کہ) اللہ کے بندوں کو میرے حوالے [13] کر دو۔ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں
[13] سیدنا موسیٰؑ کا فرعون سے مطالبہ :۔
اس آیت کے دو مطلب یہ ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے اور قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ موسیٰؑ کا فرعون سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں لہٰذا مجھ پر ایمان لاؤ اور دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ قوم بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے میرے ہمراہ روانہ کردو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ”اے اللہ کے بندو! میرا حق مجھے ادا کرو“ یعنی میری بات مانو اور مجھ پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ کی طرف سے تم پر میرا حق ہے۔ اور مابعد کا جملہ کہ ”میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں“ اس دوسرے مطلب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قبطیوں کا انجام ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔[20-طه:47]‏‏‏‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا
پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏‏‏‏ [10-يونس: 88]‏‏‏‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [10-يونس: 89]‏‏‏‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔[10-يونس:88-89]‏‏‏‏