فَارۡتَقِبۡ یَوۡمَ تَاۡتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾
سو انتظار کر جس دن آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔
En
تو اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے صریح دھواں نکلے گا
En
آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 11،10) {فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دلائی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ پریشان نہ ہوں، بلکہ اس دن کا انتظار کریں جس میں آسمان کی جانب سے ایک واضح دھواں ان لوگوں کو ڈھانپ لے گا جو نہایت تکلیف دہ عذاب ہو گا۔ واضح ہونے اور ڈھانپ لینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خیالی دھواں نہیں ہو گا بلکہ حقیقی ہو گا اور سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ {” يَوْمَ “} سے مراد وہ وقت ہے جس میں دھواں رہا، کیونکہ وہ دھواں ایک دن تو نہیں رہا، بلکہ کئی دن اور مہینے رہا۔ اس دھویں سے کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے اس سے قیامت کے دن کا دھواں مراد نہیں ہو سکتا، کیونکہ ان آیات میں کفار کو اسے دور کرنے کی دعا کے بعد اسے کچھ دور کرنے اور ان کے دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کا ذکر ہے، جب کہ قیامت کے دن کا عذاب کسی صورت دور ہونے والا نہیں۔ اس لیے اس سے مراد ایسا دھواں ہے جو جلد ہی دنیا میں انھیں ڈھانپنے والا ہے۔ اس دھویں کے متعلق دو قول ہیں، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہایت جزم کے ساتھ اسے اس قحط کے نتیجے میں پھیلنے والا دھواں قرار دیتے ہیں جو ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا سے مکہ میں واقع ہوا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں: [إِنَّمَا كَانَ هٰذَا لِأَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَوْا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِيْنَ كَسِنِيْ يُوْسُفَ، فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتّٰی أَكَلُوا الْعِظَامَ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَی السَّمَاءِ فَيَرٰی مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰی: «فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ (10) يَّغْشَى النَّاسَ هٰذَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ» قَالَ فَأُتِيَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اسْتَسْقِ اللّٰهَ لِمُضَرَ، فَإِنَّهَا قَدْ هَلَكَتْ، قَالَ لِمُضَرَ؟ إِنَّكَ لَجَرِيْءٌ، فَاسْتَسْقٰی فَسُقُوْا فَنَزَلَتْ: «اِنَّكُمْ عَآىِٕدُوْنَ» فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ عَادُوْا إِلٰی حَالِهِمْ، حِيْنَ أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: «يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ» قَالَ يَعْنِيْ يَوْمَ بَدْرٍ] [بخاري، التفسیر، سورۃ الدخان: ۴۸۲۱] ”اس کی وجہ یہ تھی کہ قریش نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت سرکشی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر قحط سالیوں کی بددعا کی، جیسے یوسف علیہ السلام کے قحط کے سال تھے۔ تو انھیں قحط اور بھوک نے آ لیا، حتیٰ کہ وہ ہڈیاں کھا گئے۔ آدمی آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی وجہ سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں سا نظر آتا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ (10) يَّغْشَى النَّاسَ هٰذَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [الدخان: ۱۰،۱۱] ”سو انتظار کر جس دن آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ دردناک عذاب ہے۔“ تو ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے کہا: ”یا رسول اللہ! مضر (قبیلے) کے لیے بارش کی دعا کریں، کیونکہ وہ تو ہلاک ہو گئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مضر کے لیے (وہ تو سخت کافر و مشرک ہیں)؟ تو بڑا جرأت والا ہے۔“ خیر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لیے دعا کر دی اور ان پر بارش ہو گئی تو یہ آیت اتری: «اِنَّكُمْ عَآىِٕدُوْنَ» [الدخان: ۱۵] ”بے شک تم دوبارہ وہی کچھ کرنے والے ہو۔“ پھر جب انھیں خوش حالی ملی تو وہ اپنی پہلی حالت کی طرف پلٹ گئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ» [الدخان: ۱۶] ”جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے، بے شک ہم انتقام لینے والے ہیں۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس سے مراد یومِ بدر ہے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تفسیر کو امام طبری اور بہت سے مفسرین نے راجح قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق یہ عذاب گزر چکا ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے قریب نکلے گا۔ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آپس میں کسی بات کا ذکر کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا تَذَاكَرُوْنَ؟ قَالُوْا نَذْكُرُ السَّاعَةَ، قَالَ إِنَّهَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَ نُزُوْلَ عِيْسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ يَأْجُوْجَ وَ مَأْجُوْجَ وَ ثَلَاثَةَ خُسُوْفٍ، خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيْرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذٰلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلٰی مَحْشَرِهِمْ] [مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب في الآیات التي تکون قبل الساعۃ: ۲۹۰۱] ”تم کس بات کا ذکر کر رہے ہو؟“ ہم نے کہا: ”ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس وقت تک قائم نہیں ہو گی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نشانیوں کا ذکر فرمایا، (جو یہ ہیں) دھواں، دجال، دابہ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عیسیٰ ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول، یاجوج و ماجوج، تین خسف (زمین میں دھنس جانا) ایک خسف مشرق میں، ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرۂ عرب میں اور ان سب کے آخر میں ایک آگ ہو گی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ان کے حشر کے مقام کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [بَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا، طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا أَوِ الدُّخَانَ أَوِ الدَّجَّالَ أَوِ الدَّابَّةَ أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ] [مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب في بقیۃ من أحادیث الدجال: ۲۹۴۷] ”چھ چیزیں ظاہر ہونے سے پہلے اعمال میں جلدی کر لو، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یا دھواں یا دجال یا دابہ یا تم میں سے کسی پر انفرادی عذاب یا سب پر اجتماعی عذاب۔“
ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس دوسرے قول کو ترجیح دی ہے کہ اس دخان سے مراد قیامت کے قریب نمودار ہونے والا دھواں ہے، جس کا ابھی انتظار ہے، مگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ہی صحیح ہے، کیونکہ آیات میں اُس دھوئیں کا ذکر ہے جو تھوڑا سا دور کیا جائے گا اور اس میں کفار کے لیے ایمان لانے کا موقع ہو گا، جب کہ قیامت کے قریب والی نشانیوں کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْۤ اِيْمَانِهَا خَيْرًا» [الأنعام: ۱۵۸] ”جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بھی بطورِ دلیل پیش فرمائی کہ بھلا قیامت کا عذاب بھی دور ہو سکتا ہے!؟
دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے قریب نکلے گا۔ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آپس میں کسی بات کا ذکر کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا تَذَاكَرُوْنَ؟ قَالُوْا نَذْكُرُ السَّاعَةَ، قَالَ إِنَّهَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَ نُزُوْلَ عِيْسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ يَأْجُوْجَ وَ مَأْجُوْجَ وَ ثَلَاثَةَ خُسُوْفٍ، خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيْرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذٰلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلٰی مَحْشَرِهِمْ] [مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب في الآیات التي تکون قبل الساعۃ: ۲۹۰۱] ”تم کس بات کا ذکر کر رہے ہو؟“ ہم نے کہا: ”ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس وقت تک قائم نہیں ہو گی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نشانیوں کا ذکر فرمایا، (جو یہ ہیں) دھواں، دجال، دابہ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عیسیٰ ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول، یاجوج و ماجوج، تین خسف (زمین میں دھنس جانا) ایک خسف مشرق میں، ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرۂ عرب میں اور ان سب کے آخر میں ایک آگ ہو گی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ان کے حشر کے مقام کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [بَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا، طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا أَوِ الدُّخَانَ أَوِ الدَّجَّالَ أَوِ الدَّابَّةَ أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ] [مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب في بقیۃ من أحادیث الدجال: ۲۹۴۷] ”چھ چیزیں ظاہر ہونے سے پہلے اعمال میں جلدی کر لو، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یا دھواں یا دجال یا دابہ یا تم میں سے کسی پر انفرادی عذاب یا سب پر اجتماعی عذاب۔“
ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس دوسرے قول کو ترجیح دی ہے کہ اس دخان سے مراد قیامت کے قریب نمودار ہونے والا دھواں ہے، جس کا ابھی انتظار ہے، مگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ہی صحیح ہے، کیونکہ آیات میں اُس دھوئیں کا ذکر ہے جو تھوڑا سا دور کیا جائے گا اور اس میں کفار کے لیے ایمان لانے کا موقع ہو گا، جب کہ قیامت کے قریب والی نشانیوں کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْۤ اِيْمَانِهَا خَيْرًا» [الأنعام: ۱۵۸] ”جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بھی بطورِ دلیل پیش فرمائی کہ بھلا قیامت کا عذاب بھی دور ہو سکتا ہے!؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 یہ کافروں کے لئے تہدید ہے کہ اچھا آپ اس دن کا انتظار فرمائیں جب آسمان پر دھوئیں کا ظہور ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ سو آپ اس دن کا انتظار کیجئے جب آسمان سے صریح [8] دھواں ظاہر ہو گا
[8] قریش پر قحط کا عذاب :۔
آیت نمبر 10 سے نمبر 16 تک تفسیر میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ بڑے زور شور اور یقین کے ساتھ ان آیات کی تفسیر درج ذیل الفاظ میں پیش کرتے ہیں: عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی اور شرارتوں پر کمر باندھی تو آپ نے یوں بد دعا فرمائی اے اللہ! ان پر سیدنا یوسفؑ کے زمانہ کی طرح سات سال کا قحط بھیج کر میری مدد فرما۔ آخر ان پر ایسا سخت قحط نازل ہوا کہ وہ ہڈیاں اور مردار تک کھانے لگے اور نوبت بایں جا رسید کہ ان میں سے اگر کوئی شخص بھوک کی شدت میں آسمان کی طرف دیکھتا تو ایک دھواں سا دکھائی دیتا۔ اس وقت ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تمہاری قوم ہلاک ہو رہی ہے، دعا کرو اللہ یہ قحط ختم کر دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ اور مشرک بھی کہنے لگے: پروردگار! ہم پر یہ عذاب دور کر دے۔ ہم ایمان لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا۔ دیکھو جب یہ عذاب موقوف ہوا تو یہ لوگ پھر شرک کرنے لگیں گے۔ خیر آپ کی دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ عذاب اٹھا لیا تو وہ پھر کفر شرک کرنے لگے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰي اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ﴾ میں بطشۃ سے مراد بدر کی سزا ہے۔ رہا آخرت کا عذاب تو وہ ان سے کبھی موقوف نہ ہو گا۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ پانچ چیزیں ہیں جو گزر چکیں۔ لزام (بدر میں قیدیوں کی گرفتاری) روم کا دوبارہ غلبہ ’بطشۃ‘ (بدر کی ذلت آمیز شکست) چاند (کا پھٹنا) اور دخان (دھوئیں کا عذاب) [بخاري۔ كتاب التفسير]
دخان مبین سے کون سا دھواں مراد ہے؟
اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت نمبر 10 میں مذکور دھوئیں سے مراد وہ دھواں لیتے ہیں جو قیامت کے قریب چھا جائے گا اور وہ قیامت کی ایک علامت ہو گا روایات کے مطابق یہ دھواں چالیس دن زمین کو محیط رہے گا۔ نیک آدمی پر اس کا اثر خفیف ہو گا جس سے انہیں زکام سا ہو جائے گا اور کافر و منافق کے لیے یہ دھواں سخت تکلیف دہ ثابت ہو گا۔ یہ دھواں شاید وہ ہی سماوات کا مادہ ہو جس کا ذکر ﴿ثُمَّ اسْتَوٰٓي اِلَي السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ﴾ میں ہوا ہے اور وہ ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰي اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ﴾ سے مراد قیامت کا عذاب لیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب، تاہم ان آیات میں مذکور واقعات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ ہی کی تفسیر زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دھواں ہی دھواں اور کفار ٭٭
فرماتا ہے کہ حق آ چکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہو جائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ لیٹے لیٹے بیتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بد دعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آ پڑے۔ چنانچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31043]
ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چنانچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چنانچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام [صحیح بخاری:2798]
یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی رحمہ اللہ علیہم، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن اعرج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے۔
اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایکجا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ [صحیح مسلم:2901]
یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی رحمہ اللہ علیہم، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن اعرج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے۔
اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایکجا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ [صحیح مسلم:2901]
بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے لیے دل میں آیت «فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ» [44- الدخان: 10] چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے؟ اس نے کہا [دخ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔[صحیح بخاری:1354]
اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کر دیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یارسول صلی اللہ علیہ وسلم دھواں کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہو جائے گا اور کافر بے ہوش و بدمست ہو جائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:228/11:ضعیف]
یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہو جانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جا سکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کر دی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد الاقصیٰ کے بیان میں جو سورۃ بنی اسرائیل کے شروع میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کر دیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یارسول صلی اللہ علیہ وسلم دھواں کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہو جائے گا اور کافر بے ہوش و بدمست ہو جائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:228/11:ضعیف]
یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہو جانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جا سکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کر دی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد الاقصیٰ کے بیان میں جو سورۃ بنی اسرائیل کے شروع میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابة الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن رحمہ اللہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے حضرت ابن ابی ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور [حبرالامتہ] ترجمان القرآن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعینرحمہ اللہ علیہم بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہو جاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت «دخان مبین» کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے «يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» [52- الطور: 14-13]، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [6- الانعام: 27]، یعنی کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے۔