ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 87

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾
اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ انھیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیںگے کہ اللہ نے ،پھر کہاں بہکائے جاتے ہیں۔ En
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟
En
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 87) ➊ { وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ …:} اس آیت میں مشرکین کے قول و فعل کا تضاد واضح فرمایا ہے، یعنی جب مانتے ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے تو پیدا کرنے والے کو چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کیوں کر کرتے ہیں؟ مالک کو چھوڑ کر ان کو مشکل کشا اور حاجت روا کیسے مان بیٹھے ہیں جنھوں نے کچھ پیدا ہی نہیں کیا؟
➋ { فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ:} یعنی پھر بہکانے والے انھیں بہکا کر کہاں لے جا رہے ہیں؟ ایک معنی { فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ } کا یہ بھی ہے: { مِنْ أَيْنَ يُؤْفَكُوْنَ } کہ پھر وہ کہاں سے بہکائے جاتے ہیں، کون سی دلیل یا کیا سبب ہے جس کی وجہ سے یہ بہکائے جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اصل میں توحید پر ہوتا ہے، پھر شیاطین انسان ہوں یا جن اسے توحید سے بہکا کر شرک میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس لیے ایسے لوگوں سے بہت ہوشیار اور خبردار رہنا چاہیے، جیسا کہ عیاض بن حمار المجاشعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے خطبہ میں فرمایا: [أَلَا! إِنَّ رَبِّيْ أَمَرَنِيْ أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِيْ يَوْمِيْ هٰذَا، كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ وَ إِنِّيْ خَلَقْتُ عِبَادِيْ حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِيْنُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِيْنِهِمْ وَ حَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوْا بِيْ مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا و أہلہا، باب الصفات التي یعرف بہا في الدنیا أھل الجنۃ و أھل النار: ۲۸۶۵] سنو! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھیں وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم ناواقف ہو، ان باتوں میں سے جو اس نے مجھے آج سکھائی ہیں۔ (وہ فرماتا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا (وہ اس کے لیے) حلال ہے اورمیں نے اپنے تمام بندوں کو حُنفاء (ایک اللہ کی طرف ہو جانے والے) پیدا کیا، لیکن ان کے پاس شیاطین آئے تو انھوں نے انھیں ان کے دین سے بہکا دیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور انھیں حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنائیں جن کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

87۔ اور اگر آپ انہیں پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یقیناً کہیں گے کہ اللہ نے۔ پھر انہیں کہاں سے [79] دھوکا لگ جاتا ہے
[79] یعنی مقدمہ کا اقرار کرتے ہیں مگر اس کے منطقی نتیجہ کا انکار کر دیتے ہیں۔ اصل میں یہ سوال یوں بنتا ہے کہ تمہارے بتوں نے نہ تو تمہیں پیدا کیا ہے۔ نہ تمہارے نفع و نقصان کے مالک ہیں پھر وہ تمہاری عبادت کے حقدار کیسے بن گئے؟ یہ دھوکا تمہیں کہاں سے لگ جاتا ہے کہ تمہیں پیدا کرنے والا اور تمہاری حاجات پوری کرنے والا تو اللہ ہو اور پرستش تم اللہ کی بجائے دوسروں کی کرنے لگ جاؤ؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین کی کم عقلی ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے ‘۔ افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بے قدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بیوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا۔
اسی لیے تعجب سے ارشاد ہوا کہ ’ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہو جاتے ہو؟ ‘ پھر ارشاد ہے کہ ’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ کہنا کہا ‘، یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [25-الفرقان:30]‏‏‏‏ یعنی ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہو گی کہ میری امت نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا ‘۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ هَؤُلَاءِ» الخ ہے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ آیت «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:80]‏‏‏‏ پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی «قَالَ» کو مقدر مانا جائے۔
دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کے ساتھ جب ہو تو یہ عجب ہو گا آیت «وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:85]‏‏‏‏ پر تو تقدیر یوں ہو گی کہ ’ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ‘۔
ختم سورۃ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بد زبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی ‘۔
اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند و بالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کر دیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کر دیا اللہ کے دین میں بےشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔