ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 86

وَ لَا یَمۡلِکُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنۡ شَہِدَ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾
اور وہ لوگ جنھیں یہ اس کے سوا پکارتے ہیں، وہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتے مگر جس نے حق کے ساتھ شہادت دی اور وہ جانتے ہیں۔ En
اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم ویقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)
En
جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں (مستحق شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 86) ➊ { وَ لَا يَمْلِكُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ …:} پچھلی آیت میں من دون الله کے پاس آسمانوں اور زمین کی اور ان کے درمیان کی کسی بھی چیز کی ملک ہونے کی نفی تھی، اس آیت میں ان سے شفاعت کی ملکیت کی بھی نفی فرما دی۔
➋ اس آیت کی دو تفسیریں ہیں، دونوں مراد ہو سکتی ہیں اور یہ قرآن کا اعجاز ہے۔ پہلی یہ کہ مشرکین جن ہستیوں کو یہ سمجھ کر پکارتے ہیں کہ وہ ان کی شفاعت کریں گی ان کے پاس شفاعت کا کوئی اختیار نہیں، مگر وہ لوگ جنھوں نے کلمۂ حق یعنی لا الٰہ الا الله کی شہادت دی اور صرف زبانی نہیں بلکہ وہ اس کا یقین رکھتے تھے، مثلاً فرشتے، عیسیٰ علیہ السلام اور اللہ کے دوسرے مقرب بندے۔ وہ چونکہ حق (توحید) کا یقین رکھ کر اس کی گواہی دیتے تھے اور انھوں نے کبھی لوگوں کو اپنی عبادت کا حکم نہیں دیا، اس لیے وہ اللہ کے اذن سے سفارش کر سکیں گے۔ رہے بت اور دوسرے جھوٹے مشکل کشا اور حاجت روا، جن کی مشرکین پوجا کرتے ہیں، وہ تو اپنے آپ کو نہیں بچا سکیں گے بلکہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے، کسی کی سفارش کیا کریں گے؟ دوسری تفسیر یہ ہے کہ { مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ } سے پہلے لام جارہ محذوف ہے: {أَيْ إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ} یعنی سفارش کرنے والوں کو صرف ان لوگوں کے حق میں سفارش کا اختیار دیا جائے گا جنھوں نے حق یعنی کلمہ لا الٰہ الا الله کی شہادت دی اور صرف زبانی نہیں بلکہ اس کا علم اور یقین بھی رکھتے تھے۔ رہے کفار یا منافقین، تو ان کے حق میں کوئی شفاعت نہیں کرے گا۔ شفاعت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے آیت الکرسی، سورۂ مریم (۸۷)، انبیاء (۲۸)، سبا (۲۳)، نجم (۲۶) اور سورۂ نبا (۳۸)۔
➌ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہادت وہی معتبر ہے جو علم کے ساتھ دی جائے۔ دنیا میں اگرچہ ہر اس شخص کو مسلمان تصور کر لیا جاتا ہے جو زبانی کلمہ لا الٰہ الا الله کی شہادت دے، مگر قیامت کے دن اسی کی شہادت معتبر ہو گی جس نے دل کے یقین کے ساتھ یہ شہادت دی ہو گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

86۔ 1 یعنی دنیا میں جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے ان معبودوں کو شفاعت کا قطعًا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ 86۔ 2 حق بات سے مراد کلمہ توحید لا الٰہ الا اللہ ہے اور یہ اقرار بھی علم و بصیرت کی بنیاد ہو، محض رسمی اور تقلیدی نہ ہو یعنی زبان سے کلمہ توحید ادا کرنے والے کو پتہ ہو کہ اس میں صرف ایک اللہ کا اثبات اور دیگر تمام معبودوں کی نفی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

86۔ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے الا یہ کہ جس نے علم و یقین [78] کے ساتھ حق کی گواہی دی
[78] سفارش کی اجازت کیسے لوگوں کو ہو گی اور کن کے حق میں ہو گی؟
یعنی ایسے معبود جن کو لوگوں نے معبود قرار دے لیا تھا حالانکہ وہ علیٰ وجہ البصیرت حق کے گواہ اور اس کے علمبردار تھے، وہ سفارش کر سکیں گے۔ جیسے سیدنا عیسیٰؑ یا سیدنا عزیرؑ یا فرشتے یا وہ بزرگ جنہیں لوگوں نے الوہیت کا مقام دے رکھا تھا مگر وہ خود ساری عمر شرک سے منع کرتے رہے اور کلمہ حق یعنی توحید کے علمبردار بنے رہے ایسے لوگوں کو اللہ سفارش کرنے کی اجازت دے گا مگر ان لوگوں کی نہیں جنہوں نے انہیں معبود بنا رکھا تھا بلکہ صرف ان گنہگاروں کے حق میں سفارش کر سکیں گے جنہوں نے کلمہ حق یعنی توحید کی علم و یقین کے ساتھ شہادت دی ہو گی اور ان سے کچھ گناہ بھی سرزد ہو گئے ہوں گے۔ ضمناً اس سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ گواہی وہی معتبر ہو سکتی ہے جس کی بنیاد علم و یقین پر ہو۔ اور مشرک جو اپنے معبودوں کے معبود ہونے پر گواہی دیتے ہیں۔ چونکہ اس گواہی کی بنیاد نہ علم (یعنی نقلی دلیل) پر ہے اور نہ یقین پر ہے بلکہ وہم و قیاس پر ہے۔ لہٰذا ان کے معبودوں کے حق میں ان کی گواہی مردود ہے مقبول نہیں۔ دنیا میں تو وہ ایسی گواہی دے رہے ہیں مگر آخرت میں ایسی گواہی نہیں چلے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالیٰ کی چند صفات ٭٭
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَهُوَ اللَّـهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:3]‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے ‘۔
وہ سب کا خالق و مالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لیے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی ‘۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہو گی۔