اور بہت برکت والا ہے وہ جس کے پاس آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
En
اور وہ بہت بابرکت ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کی بادشاہت ہے۔ اور اسی کو قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
اور وه بہت برکتوں واﻻ ہے جس کے پاس آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی بادشاہت ہے، اور قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور اسی کی جانب تم سب لوٹائے جاؤ گے
En
(آیت 85) {وَتَبٰرَكَالَّذِيْلَهٗمُلْكُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ …:} یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اکیلا معبود ہونے کی دلیل ہے کہ بے شمار خیر و خوبی کا مالک ہے وہ کہ آسمانوں میں اور زمین میں ہر جگہ اسی کی بادشاہی ہے۔ قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے، نہ کہ کسی اور کی طرف۔ لہٰذا وہی ہے جو تمھیں تمھارے نیک یا بد اعمال کا بدلا دے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
85۔ 1 جس کو اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا۔ 85۔ 2 جہاں وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
85۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کی آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان کے درمیان موجود ہیں، سب پر حکومت ہے، قیامت کا علم اسی کو ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ کی چند صفات ٭٭
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَهُوَاللَّـهُفِيالسَّمَاوَاتِوَفِيالْأَرْضِيَعْلَمُسِرَّكُمْوَجَهْرَكُمْوَيَعْلَمُمَاتَكْسِبُونَ»۱؎[6-الأنعام:3] ’ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے ‘۔ وہ سب کا خالق و مالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لیے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی ‘۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہو گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔