(آیت 84) ➊ {وَهُوَالَّذِيْفِيالسَّمَآءِاِلٰهٌ …:} مشرکوں نے کچھ معبود آسمان میں بنا رکھے تھے، مثلاً فرشتے، سورج، چاند اور بعض ستارے اور کچھ زمین میں، جیسے انبیاء، اولیاء، ان کی قبریں اور بت، درخت اور پتھر وغیرہ۔ فرمایا، زمین اور آسمان میں الگ الگ معبود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی دونوں کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔ دونوں جگہ اسی کی عبادت ہوتی ہے اور دونوں جگہ عبادت اسی کا حق ہے۔ ➋ { وَهُوَالْحَكِيْمُالْعَلِيْمُ: ”الْحَكِيْمُ“} کمال حکمت والا، جس نے ہر چیز محکم و مضبوط اور حکمت و دانائی کے ساتھ بنائی ہے اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ یہ معبود واحد ہونے کی دلیل ہے کہ کوئی دوسرا نہ حکیم ہے نہ علیم، تو پھر اس کی عبادت کیوں ہو؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
84۔ 1 یہ نہیں ہے کہ آسمانوں کا معبود کوئی اور بلکہ جس طرح ان دونوں کا خالق ایک ہی معبود بھی ایک ہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
84۔ آسمانوں میں بھی وہی الٰہ ہے اور زمین میں بھی وہی [77]الٰہ ہے اور وہ حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
[77] مشرکوں کے کچھ خدا آسمان میں اور کچھ زمین میں :۔
مشرکوں نے کچھ خدا تو آسمان میں بنا رکھے ہیں۔ جیسے فرشتے، شمس و قمر اور کئی دوسرے سیارے اور کچھ زمین میں جیسے بت، آستانے، شجر و حجر اور بزرگوں کے مزارات۔ پھر وہ سمجھتے بھی نہیں اور اپنی بات پر اکڑ گئے ہیں۔ اور فضول قسم کی کج بحثیوں پر اتر آئے ہیں۔ لہٰذا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔ قیامت کے دن ان کو خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ معبود برحق صرف ایک ہی ذات ہو سکتی ہے۔ اور پوری کائنات کا وہی خالق و مالک ہے۔ صرف اسی کی حکومت ہے اس کا تصرف اور اختیار کارفرما ہے۔ باقی سب چیزیں اس کی مخلوق اور مملوک ہیں جو دوسروں کے نفع و نقصان تو کجا اپنی ذات کے لیے بھی کسی طرح کے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔