(آیت 83) {فَذَرْهُمْيَخُوْضُوْاوَيَلْعَبُوْا …:} یعنی اگر یہ ہدایت کا راستہ اختیار نہیں کرتے تو انھیں ان کی فضول بحث اور کھیل کود میں لگا رہنے دیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو جا ملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس وقت ان پر سب حقیقت کھل جائے گی۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے یا موت کا دن یا دنیا میں عذاب کا دن۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
83۔ 1 یعنی اگر یہ ہدایت کا راستہ نہیں اپناتے تو اب انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں اور دنیا کے کھیل کود میں لگا رہنے دیں۔ 83۔ 2 ان کی آنکھیں اس دن کھلیں گی جب ان کے اس رویے کا انجام ان کے سامنے آئے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
83۔ آپ انہیں چھوڑیئے کہ وہ اپنی کج بحثوں اور کھیل کود میں لگے رہیں تا آنکہ وہ دن دیکھ لیں جس کا انہیں خوف دلایا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔