ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 70

اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ اَنۡتُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ تُحۡبَرُوۡنَ ﴿۷۰﴾
جنت میں داخل ہو جاؤ تم اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے۔ En
(ان سے کہا جائے گا) کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت (واحترام) کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ
En
تم اور تمہاری بیویاں ہشاش بشاش (راضی خوشی) جنت میں چلے جاؤ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 70) ➊ { اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ: اَزْوَاجُكُمْ } کی تفسیر میں دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جو دنیا میں ان کے ہم مشرب اور ساتھی رہے۔ دوسری یہ کہ مراد ان کی بیویاں ہیں جنھوں نے نیک اعمال میں ان کا ساتھ دیا تھا۔ دونوں بیک وقت بھی مراد ہو سکتے ہیں، مگر بیویاں مراد لینا زیادہ قریب ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ان کا بار بار ذکر ہے اور ان کے ساتھ مل کر جانے میں جو لذت اور خوشی ہے وہ دوسرے ہم مشرب ساتھیوں کے ساتھ نہیں۔ دیکھیے سورۂ یس (۵۵، ۵۶)، دخان (۵۴)، واقعہ (۲۲، ۲۳)، رحمان (۷۰ تا ۷۲)، صافات (۴۸) اور سورۂ ص (۵۲)۔
➋ { تُحْبَرُوْنَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ روم کی آیت (۱۵) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

70۔ 1 اَ زْوَاجُکُمْ سے بعض نے مومن بیویاں، بعض نے مومن ساتھی اور بعض نے جنت میں ملنے والی حورعین بیویاں مراد لی ہیں۔ یہ سارے ہی مفہوم صحیح ہیں کیونکہ جنت میں یہ سب کچھ ہی ہوگا۔ تُحْبَرُونَ حَبْر سے ماخوذ ہے یعنی وہ فرحت و مسرت جو انہیں جنت کی نعمت و عزت کی وجہ سے ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

70۔ تم خود اور تمہاری بیویاں [67] جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہاں (کے پر بہار اور پاکیزہ ماحول میں) تم خوش رکھے جاؤ گے
[67] ازواج کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے اور اس کا دوسرا مطلب تمہاری ہی طرح کے تمہارے دوسرے ساتھی اور دوست، جن کی دنیا میں دوستی کی بنیاد محض تقویٰ پر تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔