ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 65

فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۶۵﴾
پھر کئی گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، سو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے بڑی ہلاکت ہے۔ En
پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے۔ سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے
En
پھر (بنی اسرائیل کی) جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس ﻇالموں کے لیے خرابی ہے دکھ والے دن کی آفت سے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 65) ➊ { فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ:} عیسیٰ علیہ السلام کے اس ارشاد کے باوجود بنی اسرائیل اختلاف سے باز نہیں آئے، بلکہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی ذات کے بارے میں مزید گروہوں میں بٹ گئے۔ بعض نے انھیں سچا رسول تسلیم کر لیا اور بعض نے انھیں جھوٹا اور مکار قرار دیا۔ پھر انکار کرنے والے کئی اس حد تک جا پہنچے کہ ان کی والدہ پر تہمت لگا کر انھیں ولد الزنا قرار دیا اور اس قدر مخالفت کی کہ اپنے گمان میں صلیب پر چڑھا کر دم لیا۔ اور ایمان لانے والے اگر کچھ راہِ راست پر رہے تو بعض نے انھیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بعض نے تین خداؤں میں سے ایک اور بعض نے اللہ ہی قرار دے لیا اور ہر فرقے نے ایسی ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ بے شمار فرقے وجود میں آ کر ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے۔ { مِنْۢ بَيْنِهِمْ } کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کا باعث بیرونی نہیں تھا بلکہ وہ خود ہی تھے۔
➋ { فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ اَلِيْمٍ:} ظلم کرنے والوں سے مراد وہ گروہ ہیں جنھوں نے انھیں جھوٹا قرار دیا اور وہ بھی جنھوں نے ان کی عقیدت میں غلو اختیار کرتے ہوئے انھیں اللہ کا بیٹا یا خود اللہ قرار دے کر شرک کا ارتکاب کیا۔ { يَوْمٍ اَلِيْمٍ } سے مراد قیامت کا دن ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

65۔ 1 اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں، یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ میں نقص نکالا اور انہیں نعوذ باللہ ولد الزنا قرار دیا، جب کہ عیسائیوں نے غلو سے کام لے کر انہیں معبود بنا لیا۔ یا مراد عیسائیوں ہی کے مختلف فرقے ہیں جو حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، ایک انہیں ابن اللہ، دوسرا اللہ اور ثالث ثلاثہ کہتا اور ایک فرقہ مسلمانوں ہی کی طرح انہیں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کرتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ پھر ان میں سے کئی گروہوں نے آپس [64] میں اختلاف کیا۔ پس ایسا ظلم کرنے والوں کے لئے دردناک دن کے عذاب سے تباہی ہے۔
[64] سیدنا عیسیٰ سے متعلق بنی اسرائیل کے اختلافات :۔
سیدنا عیسیٰؑ کے ارشاد کے باوجود بنی اسرائیل اپنے اختلاف اور فرقہ بازی سے باز نہ آئے۔ مزید ستم یہ ڈھایا کہ سیدنا عیسیٰ کی ذات میں بھی اختلاف پیدا کر کے ان اختلافات کو اور بھی زیادہ کر دیا۔ بنی اسرائیل کے ایک فرقہ نے سیدہ مریم پر تہمت لگائی اور سیدنا عیسیٰؑ کے ایسے دشمن بنے کہ حکومت وقت کے تعاون سے بزعم خویش انہیں سولی پر چڑھا کے دم لیا۔ اور جو لوگ سیدنا عیسیٰؑ پر ایمان لے آئے وہ دوسری انتہا کو جا پہنچے۔ کسی نے انہیں اللہ کا بیٹا، کسی نے تین خداؤں میں سے ایک خدا اور کسی نے انہیں اللہ ہی قرار دے دیا۔ پھر اپنے اپنے موقف کی حمایت میں ایسی ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ بے شمار فرقے وجود میں آکر ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔