ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 63

وَ لَمَّا جَآءَ عِیۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ لِاُبَیِّنَ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۶۳﴾
اور جب عیسیٰ واضح دلیلیں لے کر آیا تو اس نے کہا بے شک میں تمھارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور تاکہ میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں واضح کر دوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو، سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ En
اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو
En
اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) معجزے کو ﻻئے تو کہا۔ کہ میں تمہارے پاس حکمت ﻻیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ جن بعض چیزوں میں تم مختلف ہو، انہیں واضح کردوں، پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 63) ➊ { وَ لَمَّا جَآءَ عِيْسٰى بِالْبَيِّنٰتِ: اَلْبَيِّنَاتُ بَيِّنَةٌ} کی جمع ہے، واضح، روشن چیز۔ یہ محذوف موصوف کی صفت ہے جو معجزات بھی ہیں، دلائل بھی اور آیات بھی۔ یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام واضح اور روشن معجزات، توحیدِ الٰہی اور اپنی رسالت کے واضح دلائل اور اللہ تعالیٰ کی واضح اور روشن آیات لے کر آئے۔
➋ { قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ: اَلْحِكْمَةُ} محکم اور پکی بات، دانائی کی بات جو صحیح عقل کے عین مطابق ہو۔
➌ { وَ لِاُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ تَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ …:} یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام بینات لے کر بنی اسرائیل کے پاس آئے تو انھیں بتایا کہ میں تمھارے پاس اللہ کی شریعت لے کر آیا ہوں، جو نہایت محکم اور مضبوط ہے اور سراسر دانائی پر مشتمل ہے، تاکہ وہ تمھیں سکھاؤں اور تاکہ بعض باتیں جن میں تمھارے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے ان میں محکم اور پختہ بات کے ساتھ حق واضح کر دوں۔ بعض اس لیے فرمایا کہ پیغمبر کا کام دینی احکام کی رہنمائی ہے، دنیوی معاملات مثلاً تجارت، زراعت اور صنعت وغیرہ کو لوگوں کے تجربہ و عقل پر رہنے دیا گیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ] [مسلم، الفضائل، باب وجوب امتثال ما قالہ شرعا…: ۲۳۶۳] اپنا دنیاوی معاملہ تم بہتر جانتے ہو۔ یا بعض اس لیے فرمایا کہ بعض کا فیصلہ آخری پیغمبر کے آنے پر چھوڑ دیا گیا۔
واضح رہے کہ بنی اسرائیل میں توحید، قیامت اور مختلف اشیاء کی حلت و حرمت کے بارے میں کئی طرح کا اختلاف پیدا ہو گیا تھا، مثلاً ان میں سے کچھ حق پر قائم تھے تو بعض عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہنے لگ گئے تھے۔ قیامت کے متعلق انھوں نے ایسے عقائد گھڑ لیے تھے جن سے اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہی کا معاملہ ہی ختم ہو جاتا تھا۔ مثلاً ان کا کہنا: «نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ» ‏‏‏‏ [المائدۃ: ۱۸] ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ یعنی ہم بنی اسرائیل اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں (جس طرح مسلمانوں میں کئی سید بادشاہ اپنے بارے میں باور کرواتے ہیں) اور یہ کہ جنت ہمارا حق ہے، اگر جہنم میں گئے بھی تو چند روز کے لیے جائیں گے۔ کچھ چیزیں ان کی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے ان پر حرام کی گئی تھیں، کچھ ان کے احبار و رہبان نے حرام کر دی تھیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تمھارے ان اختلافات میں حق واضح کرنے کے لیے آیا ہوں، اس لیے تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

63۔ 1 اس کے لئے دیکھئے آل عمران (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ ۝ۭ) 3۔ آل عمران:5) کا حاشیہ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

63۔ اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لے کر آئے تھے تو کہا میں تمہارے پاس دانائی [62] کی باتیں لایا ہوں اور اس لئے بھی تاکہ تم پر بعض وہ باتیں واضح [63] کر دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو۔ لہذا اللہ سے ڈر جاؤ اور میری اطاعت کرو
[62] بنی اسرائیل کی فرقہ بندی اور اختلافات کی وجوہ اور سیدنا عیسیٰ کی بعثت کا مقصد :۔
حکمت سے مراد شرعی احکام کی بصیرت اور ان کے مصالح کا علم بھی ہے، شرعی احکام پر عمل پیرا ہونے کا طریق کار بھی اور انہیں عملی طور پر معاشرہ میں نافذ کرنے کا طریقہ بھی۔
[63] یعنی میری بعثت کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ تمہیں شرعی احکام کے متعلق تمام حکمت کی باتیں بتاؤں اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ جن جن باتوں میں تم اختلاف کر رہے ہو۔ اس کی حقیقت تم پر واضح کر دوں۔ واضح رہے کہ یہود یا بنی اسرائیل بہت سے فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ کچھ اختلاف تو ان کے قیامت سے تعلق رکھتے تھے۔ یعنی قیامت کے متعلق انہوں نے ایسے عقائد گھڑ لیے تھے جو عند اللہ مسؤلیت کے مقصد کو ہی ختم کر دیتے تھے۔ مثلاً یہ کہ وہ اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں۔ یا وہ چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں۔ لہٰذا جنت صرف انہی کا حق ہے۔ نیز یہ کہ انہیں دوزخ کی آگ چھو ہی نہیں سکتی مگر صرف چند دن کے لیے اور کچھ اختلاف ان کے حلت و حرمت سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر بعض چیزوں کو حرام کر لیا تھا جنہیں اللہ نے حرام نہیں کیا تھا۔ پھر بعد میں اللہ نے سزا کے طور پر واقعی ان چیزوں کو ان پر حرام کر دیا تھا۔ جیسا کہ عیسیٰؑ نے انہیں فرمایا: ﴿وَلِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ [50:3] ”اور میں اس لیے آیا ہوں کہ بعض چیزیں جو (تمہاری سرکشی کی وجہ سے) تم پر حرام کر دی گئی تھیں ان کو (اللہ کے حکم سے) تم پر حلال کردوں“ لہٰذا اللہ سے ڈر کر ایسے اختلاف چھوڑ دو اور کچھ اختلافات اس وجہ سے پیدا ہو گئے تھے کہ ان کی کتاب تورات اپنی اصلی زبان اور عبارت و الفاظ کے لحاظ سے محفوظ نہ رہی تھی۔ اس میں بزرگوں کے اقوال اور مضامین کچھ اس طرح گڈ مڈ ہو گئے تھے کہ انہیں خود بھی یہ معلوم نہ ہو سکتا تھا کہ اس میں الہامی الفاظ اور عبارت کون سی ہے اور الحاقی کون سی؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
ابن جریر رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے۔ پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ بعض کا لفظ یہاں پر کل کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں لبید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔
پھر فرمایا { جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہے }۔
بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہو گئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ علیہ السلام ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ اسی لیے ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ان ظالموں کے لیے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور درد ناک سزائیں ہوں گی ‘۔