ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 54

فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَہٗ فَاَطَاعُوۡہُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۵۴﴾
غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وزن) کر دیا تو انھوں نے اس کی اطاعت کر لی، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔ En
غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی۔ اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ بےشک وہ نافرمان لوگ تھے
En
اس نے اپنی قوم کو بہلایا پھسلایا اور انہوں نے اسی کی مان لی، یقیناً یہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54) ➊ { فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ:} لفظی معنی ہے اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وزن) کر دیا۔ یعنی اس نے اپنی قوم کے لوگوں کی رائے کو کوئی وزن نہ دیا اور نہ ہی انھیں اپنی عقل سے سوچنے سمجھنے کا موقع دیا، بلکہ انھیں مجبور کیا کہ وہ اس کی ہاں میں ہاں ملا لیں۔ (دیکھیے مومن: ۲۹) چنانچہ وہ انھیں پھسلانے اور اُلُّو بنانے میں کامیاب ہو گیا اور وہ سب اس کے پیچھے لگ گئے۔
➋ {اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ:إِنَّ} تعلیل کے لیے ہوتا ہے، یعنی انھوں نے اس کی اطاعت اس لیے اختیار کی کہ فسق و فجور ان کی سرشت بن چکا تھا۔ وہ گمراہی کے راستے پر ہی چل سکتے تھے، سیدھی راہ پر چلنا ان کے بس کی بات ہی نہ تھی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَ اِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا وَ اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا وَ اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ» ‏‏‏‏ [الأعراف: ۱۴۶] عنقریب میں اپنی آیات سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں حق کے بغیر بڑے بنتے ہیں اور اگر ہر نشانی دیکھ لیں تو بھی اس پر ایمان نہیں لاتے اور اگر بھلائی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے راستہ نہیں بناتے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اسے راستہ بنا لیتے ہیں، یہ اس لیے کہ انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ اس طرح اس نے اپنی قوم کو الو بنا لیا اور وہ اس کی بات مان گئے۔ وہ تو تھے ہی نافرمان [53] لوگ
[53] ایسی ہی باتیں کہہ کر فرعون نے اپنی قوم کو الو بنایا اور وہ الو بن گئے۔ اس لیے کہ وہ فاسق لوگ تھے۔ جن کو اپنے دنیوی مفادات کے علاوہ اور کسی بات سے غرض ہی نہ تھی۔ اور وہ انہیں فرعون کا غلام بنا رہنے میں ہی نظر آرہے تھے۔ فرعون پر اگرچہ حقیقت واضح ہو چکی تھی مگر وہ یہ سارے پاپڑ اس لیے بیل رہا تھا کہ اس کی حکومت میں کمزوری اور تزلزل واقع نہ ہو۔ وہ عام لوگوں کی ذہنیت کو بھی خوب جانتا تھا کہ ایسے بے ضمیر، بے اصول اور بے عقل لوگوں سے کیسے کام نکالا اور انہیں اپنی باتوں پر لگایا جا سکتا ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔