ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 51

وَ نَادٰی فِرۡعَوۡنُ فِیۡ قَوۡمِہٖ قَالَ یٰقَوۡمِ اَلَیۡسَ لِیۡ مُلۡکُ مِصۡرَ وَ ہٰذِہِ الۡاَنۡہٰرُ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِیۡ ۚ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؕ۵۱﴾
اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کی، اس نے کہا اے میری قوم! کیا میرے پاس مصر کی بادشاہی نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے تحت نہیں چل رہیں؟ En
اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں) کیا تم دیکھتے نہیں
En
اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور کہا اے میری قوم! کیا مصر کا ملک میرا نہیں؟ اور میرے (محلوں کے) نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) ➊ {وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِيْ قَوْمِهٖ:} فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے، جن سے انھیں ان کی نبوت کا یقین ہو گیا، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے، بلکہ مقابلے میں جادوگروں کو لے آئے۔ اس میں منہ کی کھائی پھر بھی ایمان نہ لائے، پھر بطور نشانی کتنے عذاب ان پر آئے جو اس وعدے کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام سے دعا کروانے پر دور ہوئے کہ ہم عذاب دور ہونے پر ایمان لے آئیں گے اور تمھارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے، مگر وہ کسی صورت موسیٰ علیہ السلام کو رسول ماننے پر تیار نہ تھے۔ ادھر انھیں خطرہ تھا کہ عوام ان معجزات کے نتیجے میں ان کی طرف مائل ہو جائیں گے، اس لیے فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے رسالت کے اہل نہ ہونے کے اپنے خیال میں کئی دلائل گھڑے اور ابلاغ کے جتنے وسائل ہو سکتے تھے ان کے ساتھ پوری قوم میں ان کی منادی کروائی، جیسا کہ اس نے عصائے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے کے لیے تمام شہروں میں آدمی بھیج کر جادوگر اکٹھے کیے تھے، فرمایا: «‏‏‏‏فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيْنَ» [الشعراء: ۵۳] تو فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے بھیج دیے۔ { فِيْ قَوْمِهٖ } کے الفاظ اس منادی کی وسعت پر دلالت کر رہے ہیں۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ قصہ سنانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم نہ کرنے کے لیے کفار نے جو دلائل تصنیف کیے ہیں وہ سبھی اس سے پہلے فرعون بھی پیش کر چکا ہے۔ وہ دلائل نہ اسے عذاب سے بچا سکے اور نہ ان لوگوں کو کفر پر اصرار کی صورت میں بچا سکیں گے۔
➋ {قَالَ يٰقَوْمِ اَلَيْسَ لِيْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِيْ:} یعنی برتری اور افضلیت کا پیمانہ دنیاوی مال و دولت اور حکومت و اقتدار ہے، جو موسیٰ کے پاس نہیں میرے پاس ہے۔ کیا میں مصر کے اقتدار کا مالک نہیں ہوں؟ دریائے نیل سے نکالی ہوئی نہروں کے ذریعے سے آب پاشی کا نظام میرے احکام کے تحت چل رہا ہے۔ یہی بات کفارِ مکہ نے کہی تھی: «‏‏‏‏وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ» ‏‏‏‏ [الزخرف: ۳۱] کہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم آدمی پر اترنا چاہیے تھا۔
➌ { اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ:} مصر کے لوگ جو موسیٰ علیہ السلام کے کمالات اور معجزات دیکھ کر متاثر ہو رہے تھے، فرعون انھیں اپنی مادی اور دنیوی شان و شوکت کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ حقیقت میں یہ اس کی شکست خوردگی کی دلیل ہے، کیونکہ یہ سب کچھ تو وہ مدت سے دیکھتے چلے آ رہے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 اس سے مراد دریائے نیل یا اس کی بعض شاخیں ہیں جو اس کے محل کے نیچے سے گزرتی تھیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ اور فرعون نے (ایک دفعہ) اپنی قوم کے درمیان پکار [50] کر کہا: ”اے میری قوم کیا یہ مصر کی بادشاہی میری نہیں؟ اور یہ نہریں (بھی) جو میرے نیچے بہ رہی ہیں؟ کیا تمہیں نظر نہیں آتا؟
[50] یہاں ’اپنی قوم میں‘ سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے پکار پکار کر یہ باتیں کی ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنی ان باتوں کا اتنا پر زور پروپیگنڈا کیا ہو کہ اس کی قوم کے ہر فرد کے کانوں تک فرعون کی یہ آواز پہنچ گئی ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فرعون کے دعوے ٭٭
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔‏‏‏‏
کلام پاک میں اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَحَشَرَفَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-25]‏‏‏‏ یعنی ’ اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا ‘۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «‏‏‏‏اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ’ فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے ‘۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔
پھر کہتا ہے موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔‏‏‏‏ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔
حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔
گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔
اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ’ میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ ‘، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔
دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (‏‏‏‏دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔‏‏‏‏ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔
فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]‏‏‏‏
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔‏‏‏‏ ۱؎ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7]‏‏‏‏ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔‏‏‏‏
پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں ‘۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»