ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 50

فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُمُ الۡعَذَابَ اِذَا ہُمۡ یَنۡکُثُوۡنَ ﴿۵۰﴾
پھر جب ہم ان سے عذاب ہٹالیتے، اچانک وہ عہد توڑ دیتے تھے۔ En
سو جب ہم نے ان سے عذاب کو دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے
En
پھر جب ہم نے وه عذاب ان سے ہٹالیا انہوں نے اسی وقت اپنا قول وقرار توڑ دیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50) {فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ يَنْكُثُوْنَ: اِذَا } مفاجاتیہ ہے، جس کا معنی اچانک ہے، یعنی عذاب ہٹتے ہی فوراً عہد توڑ دیتے۔ نہ سوچنے کی زحمت کرتے، نہ عہد توڑنے میں انھیں کوئی حیا مانع ہوتی تھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ پھر جب ہم ان سے عذاب ہٹا لیتے تو وہ فوراً اپنا عہد [49] توڑ دیتے
[49] یعنی وہ ہر بار عہد شکنی کر کے اپنے سرکشی کے جرم کو سخت سے سخت تر بناتے چلے گئے۔ اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ انہیں اپنے جرائم کی مناسبت سے کس قدر سخت سزا ملنے والی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُ٘ثُوْنَ پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْ٘قُ٘مَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰ٘تٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا۠ وَكَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَ٘عَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّ٘كَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَ٘نَّ لَكَ وَلَـنُرْسِلَ٘نَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ (الاعراف: 7؍133-135) پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا كَشَفْنا عنهم العذابَ إذا هم ينكُثون}؛ أي: لم يفوا بما قالوا، بل غدروا، واستمرُّوا على كفرهم، وهذا كقولِهِ تعالى: {فأرسَلْنا عليهم الطُّوفان والجرادَ والقمَّلَ والضفادع والدَّم آياتٍ مفصَّلات فاستكبروا وكانوا قوماً مجرِمين}، ولما وقع عليهم الرجزُ؛ قالوا: {يا موسى ادعُ لنا رَبَّكَ بما عهدَ عندك لئنْ كَشَفْتَ عنَّا الرجزَ لنؤمننَّ لك ولنرسلنَّ معك بني إسرائيلَ. فلمَّا كَشَفْنا عنهم الرِّجْزَ إلى أجل هم بالغوه إذا هم ينكُثونَ}.