(آیت 50) {فَلَمَّاكَشَفْنَاعَنْهُمُالْعَذَابَاِذَاهُمْيَنْكُثُوْنَ: ”اِذَا“} مفاجاتیہ ہے، جس کا معنی ”اچانک“ ہے، یعنی عذاب ہٹتے ہی فوراً عہد توڑ دیتے۔ نہ سوچنے کی زحمت کرتے، نہ عہد توڑنے میں انھیں کوئی حیا مانع ہوتی تھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ پھر جب ہم ان سے عذاب ہٹا لیتے تو وہ فوراً اپنا عہد [49] توڑ دیتے
[49] یعنی وہ ہر بار عہد شکنی کر کے اپنے سرکشی کے جرم کو سخت سے سخت تر بناتے چلے گئے۔ اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ انہیں اپنے جرائم کی مناسبت سے کس قدر سخت سزا ملنے والی تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔