ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 31

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ ﴿۳۱﴾
اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟ En
اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکّے اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟
En
اور کہنے لگے، یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) {وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ …:} پچھلی آیت میں ان کے قرآن پر طعن کا ذکر تھا تو اس آیت میں قرآن لانے والے پر اعتراض کا ذکر ہے۔ کفار پہلے تو کسی بشر کا رسول ہونا ہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے، ان کا مطالبہ تھا کہ رسول فرشتہ ہونا چاہیے۔ جب ناقابل تردید دلائل سے انھیں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام رسول بشر ہی بھیجے ہیں، تمھارے جد امجد ابراہیم و اسماعیل علیھما السلام اور دوسرے پیغمبر، مثلاً موسیٰ علیہ السلام، سب بشر ہی تھے، تو فرشتہ رسول کا مطالبہ چھوڑ کر یہ مطالبہ داغ دیا کہ یہ قرآن دو بستیوںمیں سے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ دو بستیوں سے مراد مکہ اور طائف ہیں، کیونکہ ان کی مرکزی بستیاں یہ دو ہی تھیں۔ { عَظِيْمٍ } سے مراد دنیاوی مال و دولت اور جاہ و مرتبہ کے لحاظ سے عظیم ہے۔ مفسرین مکہ کے ان عظیم آدمیوں میں سے ولید بن مغیرہ یا عتبہ بن ربیعہ کا اور طائف کے عظماء میں سے عروہ بن مسعود، حبیب بن عمرو یا کنانہ بن عبد یا لیل یا اس قبیل کے دوسرے لوگوں کا ذکر کرتے ہیں۔ کفار کے خیال میں مال کی کثرت اور قوم کے سردار ہونے کی وجہ سے یہ لوگ نبوت کے حق دار تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مال و جاہ کی کمی کی وجہ سے اس کے اہل نہیں تھے، کیونکہ آپ کے پاس دولت کی کثرت تھی نہ کسی قبیلے کی سرداری۔ یہ کفار کی جہالت اور سخت نادانی تھی کہ انھوں نے نبوت کے منصب کے لیے مال و جاہ کو شرط قرار دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31۔ 1 دونوں بستیوں سے مراد مکہ اور طائف ہے اور بڑے آدمی سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک مکہ کا ولید بن مغیرہ اور طائف کا عروہ بن ثقفی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ نیز یہ (کفار مکہ) یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ قرآن دو شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں [30] نازل نہ کیا گیا؟
[30] قریش کے آپ کی ذات پر اعتراضات :۔
قریش مکہ کا پہلا اعتراض تو یہ تھا کہ ہم جیسا ایک بشر کیسے رسول ہو سکتا ہے پھر جب انہیں دلائل کے ساتھ سمجھایا گیا کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے انسان ہی رسول ہو سکتا ہے اور تم لوگوں کی ہدایت کے لیے تمہاری زبان جاننے والا ہی رسول ہو سکتا ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہ تھا۔ تو اب تیسرا اعتراض یہ جڑ دیا کہ مکہ اور طائف دو مرکزی شہر ہیں۔ مکہ کا رئیس ولید بن مغیرہ تھا اور طائف کا عروہ بن مسعود ثقفی ہے۔ ان شہروں کا کوئی بڑا آدمی رسول بن جاتا تو بھی کوئی بات تھی۔ بھلا اللہ تعالیٰ کو رسول بنانے کے لیے ایسا ہی آدمی ملا تھا جو یتیم پیدا ہوا تھا اور جس کے پاس نہ دولت ہے اور نہ کسی قبیلے یا خاندان کی سربراہی۔ اگلی آیت میں ان کے اسی اعتراض کے دو جواب دیئے جا رہے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔