(آیت 3){ اِنَّاجَعَلْنٰهُقُرْءٰنًاعَرَبِيًّا …:} اس آیت میں یہ یقین دلانے کے ساتھ کہ اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے، اسے عربی قرآن بنا کر نازل کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت (۲) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 جو دنیا کی فصیح ترین زبان ہے، دوسرے، اس کے اولین مخاطب بھی عرب تھے، انہی کی زبان میں قرآن اتارا تاکہ وہ سمجھنا چاہیں تو آسانی سے سمجھ سکیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ کہ ہم نے عربی زبان [2] کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اسے سمجھ سکو
[2] اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تمہیں اس کے مضامین و مطالب سمجھنے میں آسانی ہو۔ تم عربی زبان بولتے ہو اور قرآن عربی زبان میں اس لیے اتارا گیا کہ تمہیں سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم تھوڑی سی بھی عقل و فکر سے کام لو اس کے شیریں انداز بیان، اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی تاثیر، اس کے احکام کی حکمت میں غور کرو تو تمہیں از خود معلوم ہو جائے گا کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔