ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 25

فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿٪۲۵﴾
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا، سو دیکھ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ En
تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا
En
پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور دیکھ لے جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) {فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَيْفَ …:} یعنی جب وہ ضد اور عناد میں اس حد تک پہنچ گئے کہ رسولوں کی بات حق بھی ہے تو ہم ماننے والے نہیں، تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پھر دیکھو ان جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ چنانچہ ہم نے ان سے بدلہ لے لیا تو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ پس اس باطل شبہ کی بنیاد پر ان کے حق کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کا ہم نے ان سے انتقام لیا۔ ﴿فَانْ٘ظُ٘رْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ پس دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟ پس ان لوگوں کو اپنی تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فانتَقَمْنا منهم}: بتكذيبِهم الحقَّ وردِّهم إيَّاه بهذه الشبهة الباطلة، {فانظُرْ كيف كان عاقبةُ المكذِّبين}: فليحذرْ هؤلاء أن يستمرُّوا على تكذيبهم فيصيبهم ما أصابهم.