(آیت 25) {فَانْتَقَمْنَامِنْهُمْفَانْظُرْكَيْفَ …:} یعنی جب وہ ضد اور عناد میں اس حد تک پہنچ گئے کہ رسولوں کی بات حق بھی ہے تو ہم ماننے والے نہیں، تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پھر دیکھو ان جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ چنانچہ ہم نے ان سے بدلہ لے لیا تو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔