ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 53

صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِلَی اللّٰہِ تَصِیۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴿٪۵۳﴾
اس اللہ کے راستے کی طرف کہ جو کچھ آسمانوںمیں ہے اور جو کچھ زمین میںہے اسی کا ہے، سن لو !تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔ En
(یعنی) خدا کا رستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ دیکھو سب کام خدا کی طرف رجوع ہوں گے (اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا)
En
اس اللہ کی راه کی جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی ہر چیز ہے۔ آگاه رہو سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 53) ➊ {صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ:} یعنی سیدھا راستہ وہ ہے جس پر چل کر انسان زمین و آسمان کے مالک اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ صرف وحیٔ الٰہی کے ذریعے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے سوا جتنے راستے ہیں سب شیطان کے راستے ہیں، جو اللہ تعالیٰ سے ہٹے ہوئے ہیں۔ دیکھیے سورۂ نحل (۹)۔
➋ { اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ:} یعنی دنیا اور آخرت کے تمام امور کی تدبیر اللہ ہی کی طرف لوٹتی ہے، بظاہر کسی کام کی تدبیر کوئی کر رہا ہو، ظاہر میں لوگ اسے کسی کا کارنامہ سمجھیں، مگر حقیقت میں تمام امور کی تدبیر اللہ ہی کا کام ہے۔ دیکھیے سورہ یونس (۳، ۳۱)، رعد(۲) اور سجدہ (۵)۔ تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں میں یہ بھی شامل ہے کہ قیامت کے دن بندوں کے نیک و بد تمام کام اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے، وہی ان کا فیصلہ فرمائے گا اور نیکوں کو ثواب اور بدوں کو عذاب دے گا۔ [اَللّٰھُمَّ احْشُرْنَا فِيْ زُمْرَۃِ الصَّالِحِیْنَ]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

53۔ 1 یہ صراط مستقیم، اسلام ہے۔ اس کی اضافت اللہ نے اپنی طرف فرمائی ہے جس سے اس راستے کی عظمت و شان واضح ہوتی ہے اور اس کے واحد راہ نجات ہونے کی طرف اشارہ بھی۔ 53۔ 2 یعنی قیامت والے دن تمام معاملات کا فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا، اس میں سخت وعید ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ اس اللہ کی راہ کی طرف [77] جو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا مالک ہے۔ یاد رکھو! سارے معاملات اللہ ہی [78] کی طرف لوٹتے ہیں۔
[77] یعنی جو رستہ یہ قرآن دکھاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی رہنمائی کرتے ہیں وہی اس اللہ کا راستہ ہے جو فرمانروائے کائنات ہے۔ اسی راہ پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے اور جو اس راہ سے بھٹکا تو وہ اللہ کی راہ نہیں، سب شیطان کی راہیں ہیں۔ [78] یعنی صرف انسان ہی نہیں، ان کے اعمال و افعال اور دوسرے سب امور کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا انسان کو اس دنیا میں بقائمی ہوش و حواس وہ راہ اختیار کرنا چاہئے جو سیدھی اللہ کی بارگاہ تک پہنچتی ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قرآن کو بذریعہ وحی اتارا ٭٭
روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا، لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایماندار بندوں کو راہ راست دکھلائیں جیسے آیت میں ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ» ‏‏‏‏ [41- فصلت: 44]‏‏‏‏ کہدے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں پھر فرمایا کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا اسے شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔