وَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ وَ لٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾
اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنا دیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
En
اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے سے (قرآن) بھیجا ہے۔ تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو۔ لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں۔ اور بےشک (اے محمدﷺ) تم سیدھا رستہ دکھاتے ہو
En
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں، بیشک آپ راه راست کی رہنمائی کر رہے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 52) ➊ {وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا: ” رُوْحًا “} سے مراد وحی ہے، خواہ قرآن کی صورت میں ہو یا سنت کی صورت میں، کیونکہ وہ دونوں وحی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى (3) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى» [النجم: 4،3] ”اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔“ اسے ”روح“ اس لیے کہا گیا ہے کہ حقیقی زندگی اسی کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے، دل کی زندگی بھی اور آخرت کی زندگی بھی، جیسے فرمایا: «يُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ» [النحل: ۲] ”وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔“
➋ { مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ:} اس فرمان میں ایک تو نعمت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ علم عطا فرمایا جو آپ پہلے نہیں جانتے تھے۔ دوسرا یہ آپ کے نبی برحق ہونے کی دلیل ہے کہ اُمی ہونے اور کتاب و ایمان کا علم نہ رکھنے کے باوجود آپ کا قرآن کریم جیسی عظیم کتاب لانا محض اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کی وحی ہی کے ذریعے سے ہو سکتا ہے۔
➌ یہاں ایک سوال ہے کہ اس بات میں تو کوئی اشکال نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے کتاب کا علم نہ تھا، مگر یہ بات قابل غور ہے کہ آپ کو ایمان کا علم بھی نہیں تھا، کیونکہ انبیاء علیھم السلام کا نبوت ملنے سے پہلے کم از کم اللہ تعالیٰ اور اس کی وحدانیت پر ایمان تو ہوتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غارِ حرا میں جا کر عبادت کرنے کا ذکر موجود ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ آپ ہی نہیں سارے عرب اُمی ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے اور یہ بھی مانتے تھے کہ وہی زمین و آسمان کا خالق ہے اور پوری کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے، مگر وہ شرک کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انبیاء کی فطرت نہایت سلیم ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اللہ پر ایمان تھا۔ نبوت سے پہلے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک یا کبائر کا ارتکاب نہیں ہوا، مگر یہ ایمان اجمالی تھا۔ تفصیل کے ساتھ ایمان جو حدیث جبریل کے مطابق اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر پر ایمان کا نام ہے، اس کی تفصیلات آپ کو وحی کے بعد ہی معلوم ہوئیں۔ اس کے علاوہ جب لفظ ایمان اکیلا بولا جائے تو اس میں تصدیق، قول اور عمل تینوں چیزیں شامل ہوتی ہیں، جیسا کہ وفد عبد القیس کی مشہور حدیث میں ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۴۳): «وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ» میں نماز کو ایمان قرار دیا اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلإِْيْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ أَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِيْقِ] [مسلم، الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان…: ۳۵] ”ایمان کی ستر(۷۰) یا (فرمایا) ساٹھ (۶۰) سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا ہے۔“ ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز، زکوٰۃ، حج اور دوسری ایمانیات کی تفصیلات وحیٔ الٰہی سے پہلے نہیں جانتے تھے۔
➍ یہاں جو فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو نہیں جانتے تھے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی اور کتاب اللہ کے ذریعے سے آپ کو ہدایت کا نور عظیم عطا فرمایا، یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر بیان فرمائی ہے، جیسے فرمایا: «وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ» [النساء: ۱۱۳] ”اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور تجھے وہ کچھ سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا۔ “ اور فرمایا: «وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» [یوسف: ۳] ”اور بے شک تو اس سے پہلے یقینا بے خبروں سے تھا۔“ اور فرمایا: «وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ» [العنکبوت: ۴۸] ”اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔ “ اور فرمایا: «وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ يُّلْقٰۤى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ» [القصص: ۸۶]”اور تو امید نہ رکھتا تھا کہ تیری طرف کتاب نازل کی جائے گی مگرتیرے رب کی طرف سے رحمت کی وجہ سے (یہ نازل ہوئی)۔ “ اور فرمایا: «تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَاۤ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا» [ھود: ۴۹] ”یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔“ ان آیات کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔
➎ {وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا:” نُوْرًا “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے اور {” جَعَلْنٰهُ “} میں {” هُ “} ضمیر وحیٔ الٰہی کی طرف جا رہی ہے، جس کا ذکر {” رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا “} میں ہے۔ یعنی ہم نے اس وحی کو جو قرآن اور سنت کی صورت میں ہے، عظیم نور بنا دیا۔ نور اس لیے فرمایا کہ اس کے ساتھ حق روشن ہوتا ہے اور جہالت، شک اور شرک کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔
➏ { نَهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا:} یعنی ہم نے اس وحی کو ایسا نور بنایا جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو متعدد مقامات پر نورِ ہدایت قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۷۴)، اعراف (۱۵۷)، مائدہ (۱۵، ۱۶) اور سورۂ تغابن(۸)۔
➐ { وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} ہدایت اور صراطِ مستقیم کی تفسیر کے لیے سورۂ فاتحہ کا مطالعہ فرمائیں۔
➋ { مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ:} اس فرمان میں ایک تو نعمت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ علم عطا فرمایا جو آپ پہلے نہیں جانتے تھے۔ دوسرا یہ آپ کے نبی برحق ہونے کی دلیل ہے کہ اُمی ہونے اور کتاب و ایمان کا علم نہ رکھنے کے باوجود آپ کا قرآن کریم جیسی عظیم کتاب لانا محض اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کی وحی ہی کے ذریعے سے ہو سکتا ہے۔
➌ یہاں ایک سوال ہے کہ اس بات میں تو کوئی اشکال نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے کتاب کا علم نہ تھا، مگر یہ بات قابل غور ہے کہ آپ کو ایمان کا علم بھی نہیں تھا، کیونکہ انبیاء علیھم السلام کا نبوت ملنے سے پہلے کم از کم اللہ تعالیٰ اور اس کی وحدانیت پر ایمان تو ہوتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غارِ حرا میں جا کر عبادت کرنے کا ذکر موجود ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ آپ ہی نہیں سارے عرب اُمی ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے اور یہ بھی مانتے تھے کہ وہی زمین و آسمان کا خالق ہے اور پوری کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے، مگر وہ شرک کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انبیاء کی فطرت نہایت سلیم ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اللہ پر ایمان تھا۔ نبوت سے پہلے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک یا کبائر کا ارتکاب نہیں ہوا، مگر یہ ایمان اجمالی تھا۔ تفصیل کے ساتھ ایمان جو حدیث جبریل کے مطابق اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر پر ایمان کا نام ہے، اس کی تفصیلات آپ کو وحی کے بعد ہی معلوم ہوئیں۔ اس کے علاوہ جب لفظ ایمان اکیلا بولا جائے تو اس میں تصدیق، قول اور عمل تینوں چیزیں شامل ہوتی ہیں، جیسا کہ وفد عبد القیس کی مشہور حدیث میں ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۴۳): «وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ» میں نماز کو ایمان قرار دیا اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلإِْيْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ أَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِيْقِ] [مسلم، الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان…: ۳۵] ”ایمان کی ستر(۷۰) یا (فرمایا) ساٹھ (۶۰) سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا ہے۔“ ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز، زکوٰۃ، حج اور دوسری ایمانیات کی تفصیلات وحیٔ الٰہی سے پہلے نہیں جانتے تھے۔
➍ یہاں جو فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو نہیں جانتے تھے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی اور کتاب اللہ کے ذریعے سے آپ کو ہدایت کا نور عظیم عطا فرمایا، یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر بیان فرمائی ہے، جیسے فرمایا: «وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ» [النساء: ۱۱۳] ”اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور تجھے وہ کچھ سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا۔ “ اور فرمایا: «وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» [یوسف: ۳] ”اور بے شک تو اس سے پہلے یقینا بے خبروں سے تھا۔“ اور فرمایا: «وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ» [العنکبوت: ۴۸] ”اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔ “ اور فرمایا: «وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ يُّلْقٰۤى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ» [القصص: ۸۶]”اور تو امید نہ رکھتا تھا کہ تیری طرف کتاب نازل کی جائے گی مگرتیرے رب کی طرف سے رحمت کی وجہ سے (یہ نازل ہوئی)۔ “ اور فرمایا: «تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَاۤ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا» [ھود: ۴۹] ”یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔“ ان آیات کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔
➎ {وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا:” نُوْرًا “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے اور {” جَعَلْنٰهُ “} میں {” هُ “} ضمیر وحیٔ الٰہی کی طرف جا رہی ہے، جس کا ذکر {” رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا “} میں ہے۔ یعنی ہم نے اس وحی کو جو قرآن اور سنت کی صورت میں ہے، عظیم نور بنا دیا۔ نور اس لیے فرمایا کہ اس کے ساتھ حق روشن ہوتا ہے اور جہالت، شک اور شرک کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔
➏ { نَهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا:} یعنی ہم نے اس وحی کو ایسا نور بنایا جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو متعدد مقامات پر نورِ ہدایت قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۷۴)، اعراف (۱۵۷)، مائدہ (۱۵، ۱۶) اور سورۂ تغابن(۸)۔
➐ { وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} ہدایت اور صراطِ مستقیم کی تفسیر کے لیے سورۂ فاتحہ کا مطالعہ فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
52۔ 1 روح سے مراد ْقرآن ہے۔ یعنی جس طرح آپ سے پہلے اور رسولوں پر ہم وحی کرتے رہے، اسطرح ہم نے آپ پر قرآن کی وحی کی ہے قرآن کو روح اس لئے تعبیر کیا ہے کہ قرآن سے دلوں کو زندگی حاصل ہوتی ہے جیسے روح میں انسانی زندگی کا راز مضمر ہے۔ 52۔ 2 کتاب سے مراد قرآن ہے، یعنی نبوت پہلے قرآن کا بھی کوئی علم آپ کو نہیں تھا اور اسی طرح ایمان کی ان تفصیلات سے بھی بیخبر تھے جو شریعت میں مطلوب ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
52۔ اور اسی طرح [72] ہم نے اپنے حکم سے ایک روح [73] آپ کی طرف وحی کی۔ اس سے پہلے آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان [74] کیا ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے اس روح کو ایک روشنی بنا دیا۔ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں اس روشنی [75] سے راہ دکھا دیتے ہیں اور بلا شبہ آپ سیدھی راہ کی طرف [76] رہنمائی کر رہے ہیں۔
[72] آپ کو وحی کی تمام صورتوں میں وحی ہوئی :۔
اسی طرح سے مراد یہ ہے کہ ہم نے ان تمام قسموں کی وحی آپ کی طرف بھی کی ہے۔ القاء و الہام سے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے جو وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی وہ سچا خواب تھا جو کچھ آپ نیند کی حالت میں دیکھتے وہ (بیداری میں) صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوتا۔ [بخاری۔ باب کیف کان بدء الوحی]
ایسا ہی خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صلح حدیبیہ سے پیشتر آیا تھا کہ مسلمان امن و اطمینان سے کعبہ کا طواف اور عمرہ کر رہے ہیں جس کا ذکر سورۃ فتح کی آیت نمبر 27 میں موجود ہے۔ جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ دوسری صورت اللہ تعالیٰ کا پردہ کے پیچھے سے بات کرنا ہے۔ وحی کی یہ صورت آپ کو واقعہ معراج کے دوران پیش آئی جبکہ نمازیں فرض ہوئی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کئی بار ہم کلام ہوئے تھے اور اس کا ذکر سورۃ نجم کی آیات نمبر 9 اور 10 میں موجود ہے۔ تیسری صورت جبرئیلؑ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل ہونے کی ہے۔ اور قرآن سارے کا سارا اسی صورت میں نازل ہوا ہے۔ یہ صورت آپ کے لیے سخت تکلیف دہ ہوتی تھی۔ پہلے آپ گھنٹیاں بجنے جیسی آوازیں سنتے تھے۔ یہ گویا ایک قسم کا انتباہ ہوتا تھا۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ اس مادی دنیا سے کٹ کر عالم بالا سے جڑ جاتا تھا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواس ظاہری کام نہیں کرتے تھے۔ اور تمام تر توجہ وحی کی طرف مبذول ہو جاتی تھی۔ اس شدت تکلیف سے آپ کو بعض دفعہ سخت سردی کے موسم میں بھی پسینہ آجاتا تھا۔ نیز اس وقت آپ پر شدید بوجھ پڑتا تھا۔ چنانچہ سیدنا زید بن ثابتؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ مجھ سے وحی لکھوا رہے تھے۔ آپ کی ران میری ران پر تھی۔ وحی آنے سے آپ کی ران اتنی بھاری ہو گئی کہ میں ڈرا کہ کہیں میری ران (بوجھ سے) ٹوٹ نہ جائے۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ النساء۔ باب ﴿لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ﴾]
اگر آپ اونٹنی پر سوار ہوتے اور وحی آنا شروع ہوتی تو اونٹنی بوجھ کے مارے بیٹھ جاتی تھی۔ اور چوتھی صورت سیدنا جبرئیل کے انسانی شکل میں آپ کے سامنے آ کر بات کرنے کی ہے۔ حدیث جبرئیل کے مطابق سیدنا جبرئیلؑ اس وقت ایک اجنبی انسان کی شکل میں آئے تھے۔ اور بسا اوقات جبرئیلؑ دحیہ کلبی کی شکل میں آپ کے پاس آتے تھے۔
[73] روح سے یہاں مراد صرف قرآن نہیں بلکہ ہر طرح کی وحی ہے جس کا تفصیلی ذکر سابقہ حاشیہ میں کیا گیا ہے۔
[74] یعنی نبوت ملنے سے پہلے آپ کو اس بات کا خواب و خیال تک نہ تھا کہ آپ کو نبوت یا کتاب الٰہی ملنے والی ہے یا ملنی چاہئے۔ اسی طرح آپ ایمان کی تفصیلات سے واقف نہ تھے۔ صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق و مالک صرف اللہ ہی اکیلا ہے اس کے سوا کوئی دوسرا اس کے اختیارات میں شریک اور اس کا ہمسر نہیں۔ لیکن آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس ایمان کے تقاضے کیا ہیں! نیز یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اللہ کی کتابوں، نبیوں، فرشتوں اور روز آخرت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔
[75] یعنی اس کتاب قرآن کو روشنی بنا دیا ہے اور اس روشنی میں ہدایت کی راہ صاف صاف نظر آنے لگتی ہے۔ اور جو لوگ قرآن کی اس روشنی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ہم انہیں سعادت و فلاح کے راستہ پر لے چلتے ہیں۔
ایسا ہی خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صلح حدیبیہ سے پیشتر آیا تھا کہ مسلمان امن و اطمینان سے کعبہ کا طواف اور عمرہ کر رہے ہیں جس کا ذکر سورۃ فتح کی آیت نمبر 27 میں موجود ہے۔ جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ دوسری صورت اللہ تعالیٰ کا پردہ کے پیچھے سے بات کرنا ہے۔ وحی کی یہ صورت آپ کو واقعہ معراج کے دوران پیش آئی جبکہ نمازیں فرض ہوئی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کئی بار ہم کلام ہوئے تھے اور اس کا ذکر سورۃ نجم کی آیات نمبر 9 اور 10 میں موجود ہے۔ تیسری صورت جبرئیلؑ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل ہونے کی ہے۔ اور قرآن سارے کا سارا اسی صورت میں نازل ہوا ہے۔ یہ صورت آپ کے لیے سخت تکلیف دہ ہوتی تھی۔ پہلے آپ گھنٹیاں بجنے جیسی آوازیں سنتے تھے۔ یہ گویا ایک قسم کا انتباہ ہوتا تھا۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ اس مادی دنیا سے کٹ کر عالم بالا سے جڑ جاتا تھا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواس ظاہری کام نہیں کرتے تھے۔ اور تمام تر توجہ وحی کی طرف مبذول ہو جاتی تھی۔ اس شدت تکلیف سے آپ کو بعض دفعہ سخت سردی کے موسم میں بھی پسینہ آجاتا تھا۔ نیز اس وقت آپ پر شدید بوجھ پڑتا تھا۔ چنانچہ سیدنا زید بن ثابتؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ مجھ سے وحی لکھوا رہے تھے۔ آپ کی ران میری ران پر تھی۔ وحی آنے سے آپ کی ران اتنی بھاری ہو گئی کہ میں ڈرا کہ کہیں میری ران (بوجھ سے) ٹوٹ نہ جائے۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ النساء۔ باب ﴿لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ﴾]
اگر آپ اونٹنی پر سوار ہوتے اور وحی آنا شروع ہوتی تو اونٹنی بوجھ کے مارے بیٹھ جاتی تھی۔ اور چوتھی صورت سیدنا جبرئیل کے انسانی شکل میں آپ کے سامنے آ کر بات کرنے کی ہے۔ حدیث جبرئیل کے مطابق سیدنا جبرئیلؑ اس وقت ایک اجنبی انسان کی شکل میں آئے تھے۔ اور بسا اوقات جبرئیلؑ دحیہ کلبی کی شکل میں آپ کے پاس آتے تھے۔
[73] روح سے یہاں مراد صرف قرآن نہیں بلکہ ہر طرح کی وحی ہے جس کا تفصیلی ذکر سابقہ حاشیہ میں کیا گیا ہے۔
[74] یعنی نبوت ملنے سے پہلے آپ کو اس بات کا خواب و خیال تک نہ تھا کہ آپ کو نبوت یا کتاب الٰہی ملنے والی ہے یا ملنی چاہئے۔ اسی طرح آپ ایمان کی تفصیلات سے واقف نہ تھے۔ صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق و مالک صرف اللہ ہی اکیلا ہے اس کے سوا کوئی دوسرا اس کے اختیارات میں شریک اور اس کا ہمسر نہیں۔ لیکن آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس ایمان کے تقاضے کیا ہیں! نیز یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اللہ کی کتابوں، نبیوں، فرشتوں اور روز آخرت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔
[75] یعنی اس کتاب قرآن کو روشنی بنا دیا ہے اور اس روشنی میں ہدایت کی راہ صاف صاف نظر آنے لگتی ہے۔ اور جو لوگ قرآن کی اس روشنی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ہم انہیں سعادت و فلاح کے راستہ پر لے چلتے ہیں۔
[76] ہدایت کے سرچشمے کون کون سے ہیں؟
ان دو آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کے ذرائع تین ہیں اور اقسام دو ہیں۔ پہلی قسم کی ہدایت یہ ہے کہ کوئی شخص کفر و شرک کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو جائے۔ اور ایسی ہدایت خالصتاً اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ ورنہ قرآن جیسی دل نشین اور پر تاثیر کتاب ہو اور اس کے مبلغ افضل الانبیاء ہوں تو چاہئے تو یہ تھا کہ سب قریش مکہ ایمان لے آتے مگر آپ کی انتہائی تمنا اور سعی کے باوجود ایسا نہ ہو سکا۔ ہدایت کی دوسری قسم یہ ہے کہ جو لوگ اسلام لے آئے ہیں ان کی سیدھی راہ کے لیے رہنمائی کی جائے۔ اور یہ کام قرآن کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے بھی۔ اور آپ کے بعد صحابہ اور علماء کرام کے ذریعہ سے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قرآن کو بذریعہ وحی اتارا ٭٭
روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا، لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایماندار بندوں کو راہ راست دکھلائیں جیسے آیت میں ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ» [41- فصلت: 44] کہدے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں پھر فرمایا کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا اسے شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔