فَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَمَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾
پس تمھیںجو بھی چیز دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا معمولی سامان ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔
En
(لوگو) جو (مال ومتاع) تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائدار) فائدہ ہے۔ اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے (یعنی) ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں
En
تو تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وه زندگانی دنیا کا کچھ یونہی سا اسباب ہے، اور اللہ کے پاس جو ہے وه اس سے بدرجہ بہتر اور پائیدار ہے، وه ان کے لیے ہے جو ایمان ﻻئے اور صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 36) ➊ {فَمَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا: ”مَتَاعٌ“} وہ چیز جس سے فائدہ اٹھایا جائے، برتنے کی چیز جو جلدی ختم ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قدرت و سلطنت کے دلائل مثلاً بندوں کے لیے بارش برسانے، انھیں حسبِ حکمت رزق عطا فرمانے، آسمان و زمین کو پیدا کرنے، ان میں بے شمار جانداروں کو پھیلانے، سمندروں میں پہاڑوں جیسے بلند جہازوں کے چلنے اور انھیں پیش آنے والے احوال ذکر کرنے کے بعد دنیا کی زندگی کے سازو سامان کے بے وقعت اور عارضی ہونے کا ذکر فرمایا، کیونکہ دنیا کی زیب و زینت ہی انسان کو دلائل پر غور و فکر کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ جب وہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہو گا اور وہ اس کی نگاہ میں حقیر ہو گی تو اسے آخرت کی طرف توجہ کا موقع ملے گا اور وہ دلائل پر غور بھی کرے گا۔
➋ دنیا میں انسان کو جو چیز بھی دی گئی ہے، وہ خواہ کتنی زیادہ ہو یا کتنی قیمتی ہو، اس میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس پر انسان پھول جائے اور آخرت سے بے پروا ہو جائے، کیونکہ ایک تو وہ بہت تھوڑی مدت کے لیے اس کے استعمال میں آتی ہے، پھر وہ سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ یہاں سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں خواہ کتنی لمبی چوڑی جائداد یا دولت ہو عملاً اس کے استعمال میں اس کا معمولی سا حصہ ہی آتا ہے۔ اے انسان! تیرے لیے اس لمبی چوڑی جائداد میں سے وہی ہے: [مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ] [مسلم، الزھد و الرقائق، باب: ۲۹۵۸] ”جو تو نے کھا لیا اور فنا کر دیا، یا جو پہن لیا اور پرانا کر دیا۔“ ایسی ناپائیدار چیز کے پیچھے اپنی عمر عزیز وہ شخص کبھی برباد نہیں کر سکتا جو اس کی حقیقت سے آگاہ ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ رعد (۲۶)۔
➌ {وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى:} جو دولت و نعمت اللہ کے پاس ہے وہ ہر لحاظ سے دنیا کے ساز و سامان سے بہتر بھی ہے اور پائیدار اور لازوال بھی۔
➍ { لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ:} یہاں سے ان لوگوں کی صفات بیان فرمائیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں ملنے والی نعمتوں کے حق دار ہوں گے۔ ان میں سب سے پہلی صفت {” اٰمَنُوْا “} ماضی کے صیغے کے ساتھ ہے اور {” يَتَوَكَّلُوْنَ “} مضارع کے صیغے کے ساتھ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر ایمان لا چکے اور ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، اس کی تقدیر اور اس کے روز جزا پر پورا یقین آ چکا، اب ان کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں ہمیشہ صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں، کسی اور سے انھیں نہ نفع کی امید ہے نہ کسی نقصان کا خوف۔ {” يَتَوَكَّلُوْنَ “} مضارع کا صیغہ ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے۔
➋ دنیا میں انسان کو جو چیز بھی دی گئی ہے، وہ خواہ کتنی زیادہ ہو یا کتنی قیمتی ہو، اس میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس پر انسان پھول جائے اور آخرت سے بے پروا ہو جائے، کیونکہ ایک تو وہ بہت تھوڑی مدت کے لیے اس کے استعمال میں آتی ہے، پھر وہ سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ یہاں سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں خواہ کتنی لمبی چوڑی جائداد یا دولت ہو عملاً اس کے استعمال میں اس کا معمولی سا حصہ ہی آتا ہے۔ اے انسان! تیرے لیے اس لمبی چوڑی جائداد میں سے وہی ہے: [مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ] [مسلم، الزھد و الرقائق، باب: ۲۹۵۸] ”جو تو نے کھا لیا اور فنا کر دیا، یا جو پہن لیا اور پرانا کر دیا۔“ ایسی ناپائیدار چیز کے پیچھے اپنی عمر عزیز وہ شخص کبھی برباد نہیں کر سکتا جو اس کی حقیقت سے آگاہ ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ رعد (۲۶)۔
➌ {وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى:} جو دولت و نعمت اللہ کے پاس ہے وہ ہر لحاظ سے دنیا کے ساز و سامان سے بہتر بھی ہے اور پائیدار اور لازوال بھی۔
➍ { لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ:} یہاں سے ان لوگوں کی صفات بیان فرمائیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں ملنے والی نعمتوں کے حق دار ہوں گے۔ ان میں سب سے پہلی صفت {” اٰمَنُوْا “} ماضی کے صیغے کے ساتھ ہے اور {” يَتَوَكَّلُوْنَ “} مضارع کے صیغے کے ساتھ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر ایمان لا چکے اور ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، اس کی تقدیر اور اس کے روز جزا پر پورا یقین آ چکا، اب ان کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں ہمیشہ صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں، کسی اور سے انھیں نہ نفع کی امید ہے نہ کسی نقصان کا خوف۔ {” يَتَوَكَّلُوْنَ “} مضارع کا صیغہ ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36۔ 1 یعنی معمولی اور حقیر ہے، چاہے قارون کا خزانہ ہی کیوں نہ ہو، اس لئے اس سے دھوکے میں مبتلا نہ ہونا کہ یہ عارضی اور فانی ہے۔ 36۔ 2 یعنی نیکیوں کا جو اجر وثواب اللہ کے ہاں ملے گا وہ متاع دنیا سے کہیں بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی، کیونکہ اس کو زوال اور فنا نہیں، مطلب ہے دنیا کو آخرت پر ترجیح مت دو، ایسا کرو گے تو پچھتاؤ گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا ساز و سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر [51] اور باقی رہنے والا ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ [52] کرتے ہیں۔
[51] یعنی دنیا میں جتنا بھی مال و دولت اور سامان عیش و عشرت کسی کو مل جائے۔ اس سے وہ زیادہ سے زیادہ اپنی موت تک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بالآخر اسے بالکل خالی ہاتھ اس دنیا سے رخصت ہونا ہو گا۔ اس کے مقابلہ میں ایمانداروں کو جو آخرت میں سامان عیش و عشرت ملے گا۔ وہ سامان بھی لافانی اور لازوال ہو گا اور ایماندار لوگ ان اشیاء سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ لہٰذا عقلمند انسان وہ ہے جو نا پائیدار اور فنا ہونے والے سامان کے بجائے دائمی اور پائیدار زندگی اور اس کے سامان کی فکر کرے۔ [52] توکل کا معنی اور یہ مومن کی اہم صفت ہے :۔
یعنی جب ظاہری اسباب مفقود نظر آرہے ہوں، حالات مایوس کن ہوں۔ اس حال میں بھی وہ مایوس اور شکستہ دل نہیں ہو جاتے بلکہ اس حال میں بھی ان کی آنکھ اللہ کی طرف لگی رہتی ہے اور وہ اللہ کے وعدہ پر پورا یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور اس مشکل سے نکالنے کی کوئی راہ پیدا کر دے گا اور اسی کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر ان کے پاس ظاہری سامان موجود بھی ہو تو وہ اس پر بھروسا نہیں کرتے بلکہ ان کا بھروسا اللہ کی ذات پر ہی ہوتا ہے۔ گویا ظاہری اسباب موجود ہوں یا مفقود، تھوڑے ہوں یا زیادہ، مومن آدمی ان اسباب کو فراہم کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے مگر اس کا ان اسباب پر تکیہ نہیں ہوتا۔ تکیہ اللہ کی ذات پر ہی ہوتا ہے گویا اللہ پر توکل ایک مومن کی نہایت اہم صفت ہے جسے اللہ نے سب سے پہلے بیان فرمایا۔ اسی طرح اللہ پر عدم توکل ایک مسلمان کی بہت بڑی کمزوری ہے۔ جنگ حنین کے موقعہ پر ہر مسلمان ظاہری اسباب اور اپنی کثرت تعداد پر نازاں ہوئے تو اللہ نے انہیں عارضی طور پر شکست سے دوچار کر کے فوراً انہیں اس کمزوری پر متنبہ کر دیا۔ توکل کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ بس انسان اللہ پر توکل کر کے بیٹھ جائے۔ اور ظاہری اسباب کی فکر ہی چھوڑ دے۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ حتی الامکان ظاہری اسباب مہیا کرے اور اپنی مقدور بھر کوشش بھی کرے پھر اس کے انجام کو اللہ کے سپرد کر دے۔ چنانچہ آپ نے توکل کی تعریف یوں فرمائی کہ پہلے اپنے اونٹ کا گھٹنا باندھ پھر توکل کر۔ [طبرانی۔ بروایت ابوہریرہؓ بحوالہ الموافقات للشاطبی، ج 1 ص 290]
اور کسی شاعر نے اس مفہوم کو یوں ادا کیا ہے: توکل کے یہ معنی ہیں۔
کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر انجام اس کی تیزی کا
مقدر کے حوالے کر
اور کسی شاعر نے اس مفہوم کو یوں ادا کیا ہے: توکل کے یہ معنی ہیں۔
کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر انجام اس کی تیزی کا
مقدر کے حوالے کر
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
درگزر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بے قدری اور اس کی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیئے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیئے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیئے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر، کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں، اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہو جائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیئے۔
اس جملہ کی تفسیر سورۃ الاعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیئے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بے توقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے۔[صحیح بخاری:3560]
اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔[صحیح بخاری:6031]
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آ کر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔[صحیح بخاری:6031]
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آ کر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔
بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [3- آل عمران: 159] یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔
پس سب نے باتفاق رائے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ [12-يوسف:92]۔
اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔
اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔
اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔[صحیح بخاری:4135]
اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگذر فرما لے۔[صحیح بخاری:5763]
اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔[صحیح بخاری:3169]
معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے کہ اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی۔ اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگذر فرما لے۔[صحیح بخاری:5763]
اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔[صحیح بخاری:3169]
معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے کہ اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی۔ اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔