ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 28

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا وَ یَنۡشُرُ رَحۡمَتَہٗ ؕ وَ ہُوَ الۡوَلِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۸﴾
اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے، اس کے بعد کہ وہ نا امید ہو چکے ہوتے ہیں اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی مدد کرنے والا ہے، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔ En
اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے۔ اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے
En
اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے وہی ہے کارساز اور قابل حمد و ثنا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا: الْغَيْثَ } وہ بارش جو خشک سالی کے بعد آئے، کیونکہ اس کے ذریعے سے لاچار اور بے بس انسانوں اور جانوروں کی مدد ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاثُ النَّاسُ» [یوسف: ۴۹] پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی ضرورت سے زیادہ نہیں دیتا، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ان کے تقاضے کے مطابق رزق میں اضافہ ان کی سرکشی اور نظامِ عالم کی خرابی کا باعث ہے، یہ ذکر فرمایا کہ اگر انھیں بارش کی ضرورت ہو، جس پر تمام جانداروں کی زندگی کا دارو مدار ہے، خواہ انسان ہوں یا حیوان، چرند پرند ہوں یا درندے یا حشرات الارض ہوں تو وہ انھیں اپنی رحمت سے ضرور نوازتا ہے۔ چنانچہ فرمایا، اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے۔
➋ { مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا: قُنُوْطٌ} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حم السجدہ کی آیت (۴۹) کی تفسیر۔ اس کے بعد کہ وہ ناامید ہو چکے ہوتے ہیں اور اس ناامیدی کے آثار ان کے چہروں پر ظاہر ہو چکے ہوتے ہیں، یعنی وہ ایک مدت کی قحط سالی کی وجہ سے بارش برسنے سے ناامید ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس آیت میں مادہ پرستوں کا رد بھی ہے جن کا کہنا ہے کہ دنیا میں اسباب کے مطابق سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے، نہ اس کائنات کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور نہ کوئی اسے اپنی مرضی کے مطابق چلانے والا ہے۔ رد اس طرح ہے کہ ان لوگوں کے کہنے کے مطابق طبعی طور پر سورج کی تپش کے ساتھ سمندر سے بخارات اٹھتے ہیں جو بادلوں کی صورت اختیار کرتے اور زمین پر برستے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر ایک زمین، ایک سمندر، ایک سورج اور تمام اسباب یکساں ہونے کے باوجود ہر جگہ ہمیشہ ایک جیسی بارش کیوں نہیں ہوتی؟ یقینا یہ سب کچھ ان تمام چیزوں کے مالک کے اختیار میں ہے، وہ جہاں چاہتا ہے سالہا سال تک قحط اور خشک سالی مسلط کر دیتا ہے، پھر جب چاہتا ہے دوبارہ بارش کا سلسلہ شروع فرما دیتا ہے۔
➌ { وَ يَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ:} یعنی بارش کی صورت میں اپنی رحمت میدانوں، پہاڑوں، جنگلوں اور سمندروں میں ہر جگہ پھیلا دیتا ہے، ہوا کے کاندھے پر سوار اتنے وزنی بادلوں سے زمین کو بھر دینے والی بارش برساتا ہے، جنھیں پوری مخلوق بھی اٹھانا چاہے تو نہ اٹھا سکے اور سب مل کر اس زمین پر چھڑکاؤ ہی کرنا چاہیں تو نہ کر سکیں۔ پھر ہر طرف ندی نالے، تالاب، سبزہ، پودے، درخت، کھیت، مینڈک، جھینگر، حشرات الارض اور دوسرے جاندار پھیل جاتے ہیں۔ اس بارش کے ساتھ اتنی سخت زمین سے، جو کدالوں کے ساتھ کھودنی مشکل ہوتی ہے، ریشم سے نرم کونپلیں نکال دیتا ہے اور اس بارش کے ساتھ درختوں کے سخت تنوں سے، جنھیں تراشنے والے اوزار مشکل سے تراش سکیں، پرندوں کی زبانوں سے بھی نازک شگوفے نکال دیتا ہے، پھر کس قدر جاہل اور فریب خوردہ ہیں وہ لوگ جو مردوں کے قبروں سے زندہ ہونے کو نہیں مانتے۔ (بقاعی)
➍ {وَ هُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ:} یعنی کائنات کے تمام معاملات کا متولی اور ذمہ دار وہی ہے اور ہر خوبی کا مالک بھی وہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28۔ 1 کار ساز ہے، اپنے نیک بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے، انہیں منافع سے نوازتا ہے اور شرور اور مہلکات سے ان کی حفاطت فرماتا ہے۔ اپنے ان انعامات بےپایاں اور احسنات فراواں پر قابل حمد و ثنا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ وہی تو ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت عام کر دیتا ہے اور وہی کارساز [42] ہے، حمد کے لائق ہے۔
[42] بارش اور مصنوعی آبپاشی کا تقابل :۔
زمین کو سیراب کرنے کا کام اگرچہ مصنوعی طریقوں سے یعنی کنوئیں، چشمے، نہر یا ٹیوب ویل کے پانی سے بھی چلا لیا جاتا ہے مگر ایک تو اس پر محنت اور خرچ بہت اٹھتا ہے دوسرے اس کے خوشگوار اثرات بارش کی نسبت بہت کمتر ہوتے ہیں۔ مصنوعی طریق آبپاشی کو اللہ کی رحمت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اللہ کی رحمت بارش ہے اور یہ ایک نہیں بے شمار نعمتوں جیسی نعمت ہے۔ پہلے راحت بخش اور ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں۔ جو انسان کو فطری سرور بخشتی ہیں اور اس کی مایوسی کو دور کرتی ہیں۔ بارش ہوتی ہے تو اس سے موسم میں خوشگوار تغیر آجاتا ہے۔ درختوں پر سے گرد و غبار دھل جاتا ہے۔ مصنوعی آبپاشی کی طرح بارش کسی مخصوص قطعہ زمین میں نہیں ہوتی بلکہ وسیع رقبہ میں ہوتی ہے۔ جس سے صرف انسان ہی نہیں اللہ کی ساری مخلوق فیض یاب ہوتی ہے۔ پھر اس پر نہ کچھ لاگت آتی ہے نہ محنت صرف ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں مصنوعی آبپاشی کی صورت میں بھی پانی کے سب ذخیرے بارش ہی کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں۔ لہٰذا دراصل بارش ہی وہ اصل نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کی حاجات پوری کرتا ہے۔ اور ولی کا لفظ یہاں یہی معنی دے رہا ہے۔ اور حمید اس لحاظ سے کہ تمام مخلوق اس کی رحمت سے فیض یاب ہو کر اس کے گن گانے لگتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ باران رحمت کا انتظار کرتے کرتے مایوس ہو جاتے ہیں ایسی پوری حاجت اور سخت مصیبت کے وقت میں بارش برساتا ہوں ان کی ناامیدی اور خشک سالی ختم ہو جاتی ہے اور عام طور پر میری رحمت پھیل جاتی ہے امیر المؤمنین خلیفتہ المسلمین فاروق اعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کہتا ہے امیر المؤمنین قحط سالی ہو گئی اور اب تو لوگ بارش سے بالکل مایوس ہو گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ اب ان شاءاللہ ضرور بارش ہو گی پھر اس آیت کی تلاوت کی وہ ولی و حمید ہے یعنی مخلوقات کے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں اس کے کام قابل ستائش و تعریف ہیں۔ مخلوق کے بھلے کو وہ جانتا ہے اور ان کے نفع کا اسے علم ہے اس کے کام نفع سے خالی نہیں۔