ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 26

وَ یَسۡتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیۡدُہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ الۡکٰفِرُوۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ﴿۲۶﴾
اور ان لوگوں کی دعا قبو ل کرتا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ دیتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ En
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کی (دعا) قبول فرماتا ہے اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے
En
ایمان والوں اور نیکوکار لوگوں کی سنتا ہے اور انہیں اپنے فضل سے اور بڑھا کر دیتا ہے اور کفار کے لیے سخت عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) ➊ { وَ يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ:} اجابت کا معنی قبول کرنا ہے اور استجابت میں سین مبالغے کے لیے ہے۔ یہ لفظ کسی حکم پر بہت جلد عمل کرنے یا کسی دعوت پر بہت جلدی لبیک کہنے یا کسی دعا کو بہت جلدی قبول کرنے کے لیے آتا ہے۔ (ابن عاشور) یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دعا بہت جلد اور خوشی سے قبول فرماتا ہے جو ایمان اور عمل صالح سے متصف ہوتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۸۶،۲۱۸) ان معنوں میں کفار کی دعا قبول ہوتی ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ» ‏‏‏‏ [الرعد: ۱۴] اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بے سود۔ ہاں رسی دراز کرنے کے لیے اور حجت تمام کرنے کے لیے کفار کی بھی دعائیں قبول ہوتی ہیں، مگر وہ استجابت نہیں استدراج ہے اور ناراضی کی علامت ہے، جیسا کہ ابلیس نے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو گمراہ کرنے کے لیے مہلت مانگی تو اسے دے دی گئی۔
➋ { وَ يَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ:} اس میں دو چیزیں شامل ہیں، ایک یہ کہ صالح اعمال والے مومن اپنی دعا اور عملِ صالح سے جو امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں وہ بھی دیتا ہے اور ان کی امید سے کہیں زیادہ بھی عطا فرماتا ہے۔ اسی طرح ان کا ہر عمل قبول بھی کرتا ہے اور اسے دس گنا سے سات سو گنا تک یا بلاحساب تک بڑھا بھی دیتا ہے۔ دوسری یہ کہ انھیں اپنے فضل سے مزید وہ کچھ بھی عطا کرتا ہے جس کی درخواست انھوں نے نہیں کی ہوتی، کیونکہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور ان کی ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہے۔
➌ { وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ:} یہ قرآن مجید کا عام طریقہ ہے کہ ترغیب کے ساتھ ترہیب بھی ہوتی ہے۔ یعنی جو لوگ توبہ کے بجائے کفر پر اصرار کرتے اور اسی حالت میں مر جاتے ہیں ان کے لیے شدید عذاب ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26۔ 1 یعنی ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی خواہشیں اور آرزوئیں پوری فرماتا ہے۔ بشرطیکہ دعا کے آداب و شرائط کا بھی پورا اہتمام کیا گیا ہو، اور حدیث میں آتا ہے ' اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری مع کھانے پینے کے سامان کے، صحرا، بیابان میں گم ہوجائے اور وہ ناامید ہو کر کسی درخت کے نیچے لیٹ جائے کہ اچانک اسے اپنی سواری مل جائے اور فرط مسرت میں اس کے منہ سے نکل جائے، اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب یعنی شدت فرحت میں غلطی کر جائے (صحیح مسلم)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کی دعا قبول کرتا ہے [40] اور اپنے فضل سے انہیں زیادہ بھی دیتا ہے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔
[40] دعا کی قبولیت کے لئے نیک اعمال کی شرط :۔
دعا کی قبولیت کے لیے نیک اعمال کی شرط لگائی۔ ان نیک اعمال میں کسب حلال بہت بڑا نیک عمل ہے۔ کیونکہ اگر انسان کی کمائی حلال نہ ہو گی تو اس کی دعا قبول نہ ہو گی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص دور سے آتا ہے پریشان حال اور پراگندہ بال ہے، اور اگر کعبہ کا غلاف پکڑ کر کہتا ہے کہ یارب، یارب میری دعا قبول فرما۔ مگر اس کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے جبکہ اس کا کھانا حرام پیناد حرام اور گوشت پوست بھی حرام کمائی سے بنا ہو“ [مسلم۔ کتاب الزکٰوۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کر دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4- النسآء: 110]‏‏‏‏، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔
صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہو گئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آ کر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہو گیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فوراً اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بے تحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کر جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2747]‏‏‏‏
ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہو گیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔[تفسیر ابن جریر الطبری:147/11:]‏‏‏‏
توبہ تو مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کر دی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے۔ وہ خواہ اپنے لیے دعا کریں خواہ دوسروں کے لیے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایماندار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا یہ جملہ «وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا» [الشوری: 26]‏‏‏‏ تلاوت فرمایا معنی اس کے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے آیت «الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ» ‏‏‏‏ [39-الزمر: 18]‏‏‏‏ کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ» ‏‏‏‏ [6- الانعام: 36]‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔
[طبرانی کبیر:248/10:ضعیف]‏‏‏‏
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہو جائے گی مومنوں کی اس عزت و شان کو بیان فرما کر کفار کی بد حالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت درد ناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑ جاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی۔ اسی لیے حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لاابالی پن نہ آئے۔ اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہو چکی ہے[صحیح بخاری:6427]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کر لیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں۔[بغوی فی التفسیر:1877:ضعیف]‏‏‏‏