وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَعۡفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۙ۲۵﴾
اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
En
اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے
En
وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کررہے ہو (سب) جانتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 25) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ:} پچھلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے، اب اپنی توبہ قبول کرنے کی صفت فرمائی کہ توبہ قبول کرنا اور گناہوں سے درگزر کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے (دیکھیے توبہ: ۱۰۴) اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، کیونکہ اگر وہ چاہے تو مجرم کے معافی مانگنے پر بھی اسے معاف نہ کرے۔ مقصود انھیں توبہ کی ترغیب دلانا اور کفر پر اصرار کے انجامِ بد سے ڈرانا ہے۔ کفر سے توبہ اسلام قبول کرنے سے ہوتی ہے اور گناہ سے توبہ میں تین چیزیں شامل ہیں، ایک پچھلے گناہ پر ندامت، دوسرا اسے ترک کر دینا، تیسرا آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا عزم اور اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حق سے ہے تو حسبِ استطاعت اسے ادا کر دینا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنا۔ اگر آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا عزم نہ ہو تو توبہ کا کچھ مطلب نہیں۔ ایک فارسی شاعر نے کہا ہے:
سجہ در كف، توبہ بر لب، دل پُر از ذوقِ گناہ
معصيت را خندہ مے آيدز استغفارِ ما
”ہاتھ میں تسبیح ہے، زبان پر توبہ اور دل گناہ کی لذت سے بھرا ہوا ہے، گناہ کو ہمارے استغفار پر ہنسی آتی ہے۔“
➋ { عَنْ عِبَادِهٖ:} اس میں توبہ قبول کرنے کی ایک وجہ بیان فرمائی ہے کہ گناہ کرکے توبہ کرنے والے اس کے اپنے بندے ہیں اور وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۳۷)، آل عمران (۱۳۵) اور سورۂ نساء (۱۱۰)۔
➌ { وَ يَعْفُوْا عَنِ السَّيِّاٰتِ:} توبہ مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گزشتہ معاف کر دی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسا کریم ہے کہ توبہ پر گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے، بلکہ سورۂ فرقان کی آیت (۷۰) کے مطابق توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ بندے کی توبہ پر اللہ تعالیٰ کس قدر خوش ہوتا ہے، اس کی تفصیل انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَلّٰهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِيْنَ يَتُوْبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلٰی رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتٰی شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِيْ ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَا هُوَ كَذٰلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ عَبْدِيْ وَ أَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ] [مسلم، التوبۃ، باب في الحض علی التوبۃ والفرح بھا: ۲۷۴۷] ”یقینا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر، جب وہ اس کی طرف توبہ کرتا ہے، اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے کوئی شخص خوش ہوتا ہے، جو کسی بیابان میں اپنی اونٹنی پر سوار تھا تو وہ اس سے چھوٹ کر نکل گئی، اس کا کھانا اور پانی بھی اسی پر تھا۔ تو وہ اس سے ناامید ہو گیا اور ایک درخت کے پاس جا کر اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ حال اس کا یہ تھا کہ وہ اپنی اونٹنی سے مایوس ہو چکا تھا، وہ اسی حال میں تھا کہ اچانک اس نے اسے دیکھا کہ وہ اونٹنی اس کے پاس کھڑی تھی، چنانچہ اس نے اس کی مہار پکڑ لی، پھر شدید خوشی میں کہنے لگا: ”اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب۔“ خوشی کی شدت سے غلطی کر بیٹھا۔“
➍ اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہے کہ بعض اوقات توبہ کے بغیر بھی گناہ معاف فرما دیتا ہے، جیسا کہ ہجرت کے بعد پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، حجِ مبرور کے بعد پہلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، شہادت فی سبیل اللہ سے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور نیکیوں کی کثرت سے گناہ مٹ جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ» [ھود: ۱۱۴] ”بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“ اور کبیرہ گناہوں کے اجتناب سے صغیرہ گناہ خود بخود معاف ہو جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کبیرہ گناہ کے مرتکب مومن کو، اگر وہ توبہ نہ کرے تو کافر یا ابدی جہنمی قرار دیتے ہیں، ان کی بات درست نہیں۔
➎ { وَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ:} اس جملے میں بشارت بھی ہے اور نذارت بھی۔ عمل کا دارو مدار دل کی حالت پر ہے، اگر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے اخلاص سے توبہ کی گئی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور اسے قبولیت سے نوازے گا اور اگر توبہ اپنے کسی دنیوی مقصد کے لیے کی گئی ہو، مثلاً ریا کے طور پر یا آئندہ توڑ ڈالنے کے ارادے سے، یا کسی دنیوی فائدے کے لیے، مثلاً صحت و قوت کے لیے زنا، سگریٹ یا شراب کو ترک کیا گیا ہے تو وہ اسے بھی جانتا ہے۔
سجہ در كف، توبہ بر لب، دل پُر از ذوقِ گناہ
معصيت را خندہ مے آيدز استغفارِ ما
”ہاتھ میں تسبیح ہے، زبان پر توبہ اور دل گناہ کی لذت سے بھرا ہوا ہے، گناہ کو ہمارے استغفار پر ہنسی آتی ہے۔“
➋ { عَنْ عِبَادِهٖ:} اس میں توبہ قبول کرنے کی ایک وجہ بیان فرمائی ہے کہ گناہ کرکے توبہ کرنے والے اس کے اپنے بندے ہیں اور وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۳۷)، آل عمران (۱۳۵) اور سورۂ نساء (۱۱۰)۔
➌ { وَ يَعْفُوْا عَنِ السَّيِّاٰتِ:} توبہ مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گزشتہ معاف کر دی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسا کریم ہے کہ توبہ پر گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے، بلکہ سورۂ فرقان کی آیت (۷۰) کے مطابق توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ بندے کی توبہ پر اللہ تعالیٰ کس قدر خوش ہوتا ہے، اس کی تفصیل انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَلّٰهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِيْنَ يَتُوْبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلٰی رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتٰی شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِيْ ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَا هُوَ كَذٰلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ عَبْدِيْ وَ أَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ] [مسلم، التوبۃ، باب في الحض علی التوبۃ والفرح بھا: ۲۷۴۷] ”یقینا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر، جب وہ اس کی طرف توبہ کرتا ہے، اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے کوئی شخص خوش ہوتا ہے، جو کسی بیابان میں اپنی اونٹنی پر سوار تھا تو وہ اس سے چھوٹ کر نکل گئی، اس کا کھانا اور پانی بھی اسی پر تھا۔ تو وہ اس سے ناامید ہو گیا اور ایک درخت کے پاس جا کر اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ حال اس کا یہ تھا کہ وہ اپنی اونٹنی سے مایوس ہو چکا تھا، وہ اسی حال میں تھا کہ اچانک اس نے اسے دیکھا کہ وہ اونٹنی اس کے پاس کھڑی تھی، چنانچہ اس نے اس کی مہار پکڑ لی، پھر شدید خوشی میں کہنے لگا: ”اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب۔“ خوشی کی شدت سے غلطی کر بیٹھا۔“
➍ اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہے کہ بعض اوقات توبہ کے بغیر بھی گناہ معاف فرما دیتا ہے، جیسا کہ ہجرت کے بعد پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، حجِ مبرور کے بعد پہلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، شہادت فی سبیل اللہ سے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور نیکیوں کی کثرت سے گناہ مٹ جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ» [ھود: ۱۱۴] ”بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“ اور کبیرہ گناہوں کے اجتناب سے صغیرہ گناہ خود بخود معاف ہو جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کبیرہ گناہ کے مرتکب مومن کو، اگر وہ توبہ نہ کرے تو کافر یا ابدی جہنمی قرار دیتے ہیں، ان کی بات درست نہیں۔
➎ { وَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ:} اس جملے میں بشارت بھی ہے اور نذارت بھی۔ عمل کا دارو مدار دل کی حالت پر ہے، اگر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے اخلاص سے توبہ کی گئی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور اسے قبولیت سے نوازے گا اور اگر توبہ اپنے کسی دنیوی مقصد کے لیے کی گئی ہو، مثلاً ریا کے طور پر یا آئندہ توڑ ڈالنے کے ارادے سے، یا کسی دنیوی فائدے کے لیے، مثلاً صحت و قوت کے لیے زنا، سگریٹ یا شراب کو ترک کیا گیا ہے تو وہ اسے بھی جانتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
25۔ 1 توبہ کا مطلب ہے، معصیت پر ندامت کا اظہار اور آئندہ اس کو نہ کرنے کا عزم محض زبان سے توبہ توبہ کرلینا یا اس گناہ اور معصیت کے کام کو تو نہ چھوڑنا اور توبہ کا اظہار کئے جانا، توبہ نہیں ہے۔ یہ استہزاء اور مذاق ہے۔ تاہم خالص اور سچی توبہ اللہ تعالیٰ یقینا قبول فرماتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کی) برائیوں کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو [39] وہ اسے جانتا ہے
[39] توبہ کی شرائط :۔
یہ خطاب صرف ایمانداروں سے نہیں بلکہ ان کافروں کو بھی شامل ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام تراشیاں کرتے تھے۔ اس آیت میں انہیں اپنی انہی بد اعمالیوں سے توبہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کافروں کی توبہ اسلام لانا ہے۔ اسلام لانے سے ہی ان کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اس کا خطاب ایمانداروں سے ہو تو توبہ کی شرائط اپنے گناہ پر نادم ہونا، پھر اللہ کی طرف رجوع اور توبہ استغفار کرنا اور آئندہ اس کام کو مطلقاً چھوڑ دینے کا عہد کرنا ہے۔ توبہ کی سب سے اہم شرط یہی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے یہ کام چھوڑا جائے۔ اور کوئی شخص کسی دوسری وجہ سے کوئی گناہ کا کام چھوڑ دے تو اس پر توبہ کا اطلاق نہیں ہو گا۔ مثلاً کسی شخص کو معلوم ہو جائے کہ شراب اس کی صحت تباہ کر رہی ہے اور وہ اپنے کئے پر نادم بھی ہوتا اور آئندہ کے لیے شراب نوشی ترک کر دے تو اس پر توبہ کا اطلاق نہیں ہو گا۔ اس طرح کوئی زانی اپنے اس فعل پر نادم ہو اور یہ فعل آئندہ اس لیے ترک کر دینے کا عہد کرے کہ اب وہ بوڑھا ہو چکا ہے اور زنا کے قابل ہی نہیں رہا۔ تو یہ اس کی توبہ نہ ہو گی۔ اور اللہ کو تو معلوم ہے کہ کوئی کس نیت سے توبہ کر رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کر دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4- النسآء: 110]، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔
صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہو گئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آ کر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہو گیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فوراً اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بے تحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کر جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2747]
ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہو گیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔
ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہو گیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔[تفسیر ابن جریر الطبری:147/11:]
توبہ تو مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کر دی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے۔ وہ خواہ اپنے لیے دعا کریں خواہ دوسروں کے لیے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایماندار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا یہ جملہ «وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا» [الشوری: 26] تلاوت فرمایا معنی اس کے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے آیت «الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ» [39-الزمر: 18] کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ» [6- الانعام: 36] ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔
[طبرانی کبیر:248/10:ضعیف]
توبہ تو مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کر دی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے۔ وہ خواہ اپنے لیے دعا کریں خواہ دوسروں کے لیے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایماندار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا یہ جملہ «وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا» [الشوری: 26] تلاوت فرمایا معنی اس کے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے آیت «الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ» [39-الزمر: 18] کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ» [6- الانعام: 36] ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔
[طبرانی کبیر:248/10:ضعیف]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہو جائے گی مومنوں کی اس عزت و شان کو بیان فرما کر کفار کی بد حالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت درد ناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑ جاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی۔ اسی لیے حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لاابالی پن نہ آئے۔ اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہو چکی ہے[صحیح بخاری:6427]
پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کر لیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں۔[بغوی فی التفسیر:1877:ضعیف]
پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کر لیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں۔[بغوی فی التفسیر:1877:ضعیف]