ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 12

لَہٗ مَقَالِیۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲﴾
اسی کے پاس آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں ہیں، وہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، بے شک وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ En
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز سے واقف ہے
En
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کی ہیں، جس کی چاہے روزی کشاده کردے اور تنگ کردے، یقیناً وه ہر چیز کو جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) ➊ { لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ زمر (۶۳)۔
➋ { يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ آسمانوں اور زمین کی چابیاں اسی کے پاس ہیں [13]۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے زرق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے کم کر دیتا ہے۔ بلا شبہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے
[13] یہ اللہ پر توکل کرنے کی تیسری وجہ ہے کہ آسمان و زمین کے تمام تر خزانوں کی چابیاں اسی کے پاس ہیں۔ وہ ایسا داتا ہے جو ہر آن اپنی مخلوق پر بے انداز خرچ کرتا ہے اور رزق مہیا کر رہا ہے۔ البتہ بعض مصلحتوں کے پیش نظر اس نے رزق کی تقسیم تمام لوگوں میں یکساں نہیں رکھی۔ اور اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رزق کے اس تفاوت کی وجہ سے ہی دنیا کا یہ نظام چل رہا ہے۔ اور سب لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔ اب اگر وہ کسی کو زیادہ رزق دیتا ہے یا کسی کو کم دیتا ہے تو یقیناً اس میں کوئی نہ کوئی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ جسے وہ خود ہی سب سے زیادہ جانتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اس کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں۔ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا وہی مالک ہے اور اسی کے ہاتھ میں رحمت و رزق اور ظاہری و باطنی نعمتوں کی کنجیاں ہیں۔ تمام مخلوق ہر حال میں جلب مصالح اور دفع ضرر کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔ کسی کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں، اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور محروم کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اس کے سوا کوئی ہستی شر کو دور نہیں کر سکتی۔ فرمایا: ﴿مَا یَفْ٘تَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ (فاطر:35؍2) اللہ لوگوں پر جس رحمت کا دروازہ کھول دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے، اس کے بعد اسے کوئی بھیجنے (کھولنے) والا نہیں۔
﴿یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وہ اصناف رزق میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، جو چاہتا ہے کشادہ رزق عطا کرتا ہے ﴿وَیَقْدِرُ جس کے لیے چاہتا ہے اس کا رزق تنگ کر دیتا، یہاں تک کہ اسے صرف بقدر حاجت رزق عطا کرتا ہے اور حاجت سے زیادہ عطا نہیں کرتا۔ یہ سب کچھ اس کے علم و حکمت کے تابع ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ وہ اپنے بندوں کے احوال کو خوب جانتا ہے۔ ہر شخص کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کی مشیت تقاضا کرتی ہے اور جو اس کی حکمت کے لائق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {له مقاليدُ السمواتِ والأرضِ}؛ أي: له ملك السماواتِ والأرضِ، وبيدِهِ مفاتيحُ الرحمةِ والأرزاق والنِّعم الظاهرة والباطنة؛ فكلُّ الخلق مفتقرون إلى الله في جَلْب مصالحهم ودَفْع المضارِّ عنهم في كلِّ الأحوال، ليس بيد أحدٍ من الأمر شيء، والله تعالى هو المعطي المانع الضارُّ النافع، الذي ما بالعباد من نعمةٍ إلاَّ منه، ولا يدفع الشرَّ إلاَّ هو، وما يفتح اللهُ للناس من رحمةٍ فلا ممسكَ لها وما يمسك فلا مرسلَ له من بعدِهِ، ولهذا قال هنا: {يبسُطُ الرزقَ لِمَن يشاءُ}؛ أي: يوسِّعه ويعطيه من أصناف الرزقِ ما شاء، {وَيَقْدِرُ}؛ أي: يضيِّق على مَنْ يشاء حتى يكونَ بقدر حاجتِهِ، لا يزيدُ عنها، وكلُّ هذا تابعٌ لعلمه وحكمتِهِ؛ فلهذا قال: {إنَّه بكلِّ شيءٍ عليمٌ}: فيعلم أحوالَ عبادِهِ، فيعطي كلًّا ما يَليقُ بحكمتِهِ، وتقتضيه مشيئتُه.