ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 1

حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حم۔ En
حٰمٓ
En
حٰم En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2،1) {حٰمٓ (1) عٓسٓقٓ:} یہ حروف مقطعات ہیں، ان کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

حم

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

حٰم

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حم عسق کی تفسیر ٭٭
حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس سیدنا حذیفہرضی اللہ عنہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کر لیا پھر منہ پھیر لیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی منہ پھیر لیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے «عبد الا لہٰ» اور عبداللہ کہا جاتا ہو گا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہو گا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہو گا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں «حم عسق» کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضاء کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد سَِیَکوُنٌ یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا [ق]‏‏‏‏ سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلیٰ کی دوسری جلد میں مسند سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعیف ہے اور منقطع بھی ہے۔ اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے «حم» اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد «عاین المولون عذاب یوم بدر» ہے۔ سین سے مراد «وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ» [سورة الشعراء: 227]‏‏‏‏ [ق]‏‏‏‏ سے کیا مراد ہے اسے آپ رضی اللہ عنہ نہ بتا سکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا [ق]‏‏‏‏ سے مراد «قارعہ» آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا «ضعیف» ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا
؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا
پھر فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہو چکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے۔
سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کر جاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہو جاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2]‏‏‏‏
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد:222/2:حدیث صحیح و ھذا اسناد ضعیف]‏‏‏‏
شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔
﴿الْ٘عَلِیُّ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الْعَظِيْمُوہ عظمت والا ہے۔ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَیَسْتَغْفِرُوْنَ۠ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔
اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔
اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه أوحى هذا القرآن العظيم على النبيِّ الكريم كما أوحى إلى مَنْ قبلَه من الأنبياء والمرسلين؛ ففيه بيانُ فضلِهِ بإنزال الكتبِ وإرسال الرُّسل سابقاً ولاحقاً، وأنَّ محمداً - صلى الله عليه وسلم - ليس ببدع من الرسل، وأنَّ طريقَته طريقةُ مَنْ قبلَه، وأحوالَه تناسِبُ أحوالَ مَن قبلَه من المرسلين، وما جاء به يشابِهُ ما جاؤوا به؛ لأنَّ الجميع حقٌّ وصدقٌ، وهو تنزيلُ من اتَّصف بالألوهيَّة والعزَّة العظيمة والحكمة البالغةِ، وأنَّ جميع العالم العلويِّ والسفليِّ مُلْكُه وتحت تدبيرِهِ القدريِّ والشرعيِّ، وأنَّه {العليُّ} بذاتِهِ وقدرِهِ وقهرِهِ. {العظيم}: الذي من عظمتِهِ {تكادُ السمواتُ يتفطَّرْنَ من فوقِهِنَّ}: على عظمها وكونها جماداً، {والملائكةُ}: الكرامُ المقرَّبون خاضعون لعظمتِهِ مستكينون لعزَّته مذعنون بربوبِيَّته، {يسبِّحونَ بحمد ربِّهم}: ويعظِّمونه عن كل نقص، ويصِفونه بكل كمال، {ويستغفرونِ لِمَن في الأرض}: عما يصدُرُ منهم مما لا يليقُ بعظمة ربِّهم وكبريائِهِ، مع أنَّه تعالى {الغفورُ الرحيمُ}: الذي لولا مغفرتُه ورحمتُه؛ لعاجَلَ الخلقَ بالعقوبةِ المستأصِلَةِ.

وفي وصفِهِ تعالى بهذه الأوصاف بعد أن ذَكَرَ أنَّه أوحى إلى الرسل كلهم عموماً وإلى محمدٍ - صلى الله عليهم وسلم - خصوصاً إشارةٌ إلى أنَّ هذا القرآن الكريم فيه من الأدلةُ والبراهينُ والآياتُ الدالَّةُ على كمال الباري تعالى ووصفِهِ بهذه الأسماء العظيمة الموجبة لامتلاءِ القلوب من معرفتِهِ ومحبتِه وتعظيمِه وإجلالِه وإكرامِه وصرف جميع أنواع العبوديَّة الظاهرة والباطنة له تعالى، وأنَّ من أكبر الظُّلم وأفحش القول اتِّخاذ أندادٍ من دونِهِ، ليس بيدِهِم نفعٌ ولا ضرٌّ ، بل هم مخلوقون مفتقرون إلى الله في جميع أحوالهم.