تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { يُوْحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ:} دوری کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ میں اپنی کوئی ذاتی بات تمھارے سامنے پیش کرکے اسے منوانا چاہتا ہوں۔ ایسا بھی نہیں، بلکہ میں تو تمھارے پاس وحی الٰہی کی بات لے کر آیا ہوں اور یہی میرا امتیاز ہے، اور یہ بھی نہیں کہ وہ وحی الٰہی کوئی پیچیدہ یا عقل میں نہ آنے والی بات ہو، یا اس کے تم سے بے شمار مطالبات ہوں جنھیں پورا کرنے سے تم قاصر ہو، بلکہ وہ صاف، سچی اور عقل کے عین مطابق ہے اور وہ ہے صرف ایک مختصر سی بات کہ تمھاری عبادت کا حق دار صرف ایک معبود ہے۔ ایسی واضح اور مختصر بات نہ سننے یا نہ سمجھنے کا اور اس کے کہنے والے کو نہ دیکھنے کا تمھارے پاس کوئی عذر نہیں، تمھیں روکنے والی چیز صرف تمھارا کفر پر اصرار ہے۔ سو اسے چھوڑو، تاکہ تم بھی وہ حقیقت سمجھ سکو جو تمھارے جیسا ایک بشر ہو کر میں سمجھتا ہوں اور تمھیں سمجھا رہا ہوں، لہٰذا اپنا رخ اپنے واحد معبود کی طرف بالکل سیدھا کر لو۔
➌ {فَاسْتَقِيْمُوْۤا اِلَيْهِ:} استقامت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۱۱۲)۔ یعنی جب تمھاری عبادت کا حق دار صرف ایک معبود ہے تو تمام معبودان باطلہ سے منہ پھیر کر اپنا رخ پوری طرح اس کی طرف سیدھا کر لو اور صرف اسی کی عبادت کرو، جیسا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے کہا تھا: «اِنِّيْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [الأنعام: ۷۹] ”بے شک میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف متوجہ کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، ایک (اللہ کی) طرف ہو کر اور میں مشرکوں سے نہیں۔“
➍ {وَ اسْتَغْفِرُوْهُ:} یعنی اس سے پہلے اس کی جو ناشکری اور اس کے ساتھ شرک کرتے رہے ہو اس کی اس سے معافی مانگو اور اس کا حق ادا کرنے میں جو کوتاہی پہلے ہوئی یا آئندہ ہو گی سب کی بخشش کی دعا کرتے رہو۔
➎ آیت کی جو تفسیر اوپر بیان کی گئی ہے یہ بقاعی اور کچھ اور مفسرین کے مطابق ہے۔ ایک اور تفسیر یہ ہے: ”میں تو تمھارے جیسا ایک انسان ہوں، تمھارے کانوں اور آنکھوں کو کھولنا اور دلوں کے پردے دور کرنا نہ میرے اختیار میں ہے اور نہ ہی میں اس کا مکلف ہوں، میری ذمہ داری وہ وحی الٰہی تم تک پہنچا دینا ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے میری طرف کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ تمھارا سچا معبود بس ایک ہے۔ سو اس کی طرف پوری طرح سیدھے ہو جاؤ اور اپنی گزشتہ اور موجودہ نافرمانیوں اور لغزشوں کی اس سے معافی مانگو۔“ (ابن عاشور) یہ تفسیر بھی بہت عمدہ ہے۔
➏ { وَ وَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِيْنَ (6) الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ:} یعنی جو لوگ اللہ واحد اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے ان کے لیے بہت بڑی ہلاکت ہے۔ اگرچہ ان کی ہلاکت کے بے شمار اسباب ہیں، مگر یہاں ان میں سے تین بنیادی اسباب ذکر فرمائے، کیوں کہ سعادت کے بنیادی اسباب بھی تین ہیں، یعنی اللہ کا حق ادا کرنا، مخلوق کا حق ادا کرنا اور آخرت کا یقین رکھ کر اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے تیاری رکھنا۔ جس طرح سب سے اونچے اعمال یہ ہیں اسی طرح سب سے بڑی خست اور کمینگی بھی ان کا ادا نہ کرنا ہے۔ فرمایا، ان لوگوں کے لیے بہت بڑی ہلاکت ہے جو مشرک ہیں، اپنے مالک کے غدار ہیں، اللہ کی طرف سے مخلوق کے لیے عائد ہونے والا کم از کم فریضہ بھی ادا نہیں کرتے اور آخرت کے سرے ہی سے منکر ہیں، جس میں حساب ہو گا اور جس کے بعد زندگی دائمی اور ابدی ہے۔
➐ یہاں ایک سوال ہے کہ یہ سورت مکی ہے، جب کہ زکوٰۃ مدینہ میں فرض ہوئی۔ اس کے جواب میں بعض مفسرین نے فرمایا کہ زکوٰۃ کا لفظی معنی پاکیزگی ہے، اس لیے یہاں توحید کے اقرار کے ساتھ نفس کی پاکیزگی مراد ہے کہ مشرک کلمۂ توحید کے ساتھ اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے۔ مگر اس میں یہ اشکال ہے کہ اگر آیت کے الفاظ {”لَا يَأْتُوْنَ الزَّكَاةَ“} ہوتے تو اس معنی کی گنجائش تھی، {” لَا يُؤْتُوْنَ “} میں اس کی گنجائش مشکل ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے ”وہ زکوٰۃ نہیں دیتے۔“ اس لیے طبری اور اکثر مفسرین رحمھم اللہ نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے کہ وہ زکوٰۃ نہیں دیتے۔ رہا یہ سوال کہ مکہ میں تو زکوٰۃ فرض ہی نہیں ہوئی تھی، تو جواب اس کا یہ ہے کہ اگرچہ زکوٰۃ کا نصاب اور دورانیہ مدینہ میں مقرر ہوا مگر اصل زکوٰۃ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ابتدائے اسلام ہی میں فرض تھا۔ ہرقل نے جب ابوسفیان سے پوچھا کہ وہ نبی تمھیں کیا حکم دیتا ہے تو انھوں نے کہا تھا: [يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ] [بخاري، الزکوٰۃ، باب وجوب الزکوٰۃ، قبل ح: ۱۳۹۵ٰ، تعلیقاً] ”وہ نبی ہمیں نماز، زکوٰۃ، صلہ رحمی اور پاک دامنی کا حکم دیتا ہے۔“ اور ظاہر ہے کہ ابوسفیان نے وہی احکام ذکر کیے جو مکہ میں اس نے سنے۔ علاوہ ازیں مکی سورتوں میں جا بجا صدقے، زکوٰۃ اور کھیتی میں سے حق ادا کرنے کا ذکر ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ» [الأنعام: ۱۴۱] ”اور اس کا حق اس کی کٹائی کے دن ادا کرو۔“ اور فرمایا: «وَ سَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى (17) الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى» [اللیل: ۱۷، ۱۸] ”اور عنقریب اس سے وہ بڑا پرہیز گار دور رکھا جائے گا۔ جو اپنا مال (اس لیے) دیتا ہے کہ پاک ہو جائے۔“ اور فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ فِيْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ (24) لِّلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ» [المعارج: ۲۴،۲۵] ”اور وہ جن کے مالوں میں ایک مقرر حصہ ہے۔ سوال کرنے والے کے لیے اور (اس کے لیے) جسے نہیں دیا جاتا۔“ اور فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [المؤمنون: ۶۰] ”اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں کہ یقینا وہ اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔“ اور یہ تمام آیات مکی سورتوں کی ہیں۔ سورۂ مزمل ابتدا میں اترنے والی مکی سورت ہے، اس کی آخری آیت میں اس کا صراحتاً ذکر ہے۔
معلوم ہوا کہ کفار توحید و رسالت پر ایمان کے علاوہ زکوٰۃ اور دوسرے احکام پر عمل کے بھی مکلف ہیں اور ان کی عدم ادائیگی پر بھی ان کو عذاب ہو گا۔ رہی یہ بات کہ ان کی نماز اور زکوٰۃ تو ایمان لانے کے بعد ہی معتبر ہو گی، پہلے اس کا فائدہ ہی نہیں، تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انھیں نماز یا زکوٰۃ کا حکم نہیں، جیسا کہ نماز اسی وقت درست ہو گی جب وضو ہو گا، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب تک وضو نہ ہو نماز کا حکم ہی نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مدثر (۳۹ تا ۴۸) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قرآن کریم میں ایک جگہ ہے «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» ۱؎ [91-الشمس:9-10] یعنی ’ اس نے فلاح پائی جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔ اور وہ ہلاک ہوا جس نے اسے دبا دیا ‘۔
اور آیت میں فرمایا «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:15،14] یعنی ’ اس نے نجات حاصل کر لی جس نے پاکیزگی کی اور اپنے رب کا نام ذکر کیا پھر نماز ادا کی ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى» ۱؎ [79-النازعات:18] ’ کیا تجھے پاک ہونے کا خیال ہے؟ ‘
ان آیتوں میں زکوٰۃ یعنی پاکی سے مطلب نفس کو بے ہودہ اخلاق سے دور کرنا ہے اور سب سے بڑی اور پہلی قسم اس کی شرک سے پاک ہونا ہے، اسی طرح آیت مندرجہ بالا میں بھی زکوٰۃ نہ دینے سے توحید کا نہ ماننا مراد ہے۔ مال کی زکوٰۃ کو زکوٰۃ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ حرمت سے پاک کر دیتی ہے۔ اور زیادتی اور برکت اور کثرت مال کا باعث بنتی ہے۔ اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ کی توفیق ہوتی ہے۔ لیکن امام سعدی، معاویہ بن قرہ، قتادہ رحمہ اللہ علیہم اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ مال زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔ اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو مختار کہتے ہیں۔
خود نماز کو دیکھئیے کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے ابتداء نبوت میں ہی فرض ہو چکی تھی۔ لیکن معراج والی رات ہجرت سے ڈیڑھ سال پہلے پانچوں نمازیں باقاعدہ شروط و ارکان کے ساتھ مقرر ہو گئیں۔ اور رفتہ رفتہ اس کے تمام متعلقات پورے کر دیئے گئے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جیسے اور جگہ ہے «مَّاكِثِيْنَ فِيْهِ اَبَدًا» ۱؎ [18-الكهف:3] ’ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ‘ اور فرماتا ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» ۱؎ [11-ھود:108] ’ انہیں جو انعام دیا جائے گا وہ نہ ٹوٹنے والا اور مسلسل ہے ‘۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں گویا وہ ان کا حق ہے جو انہیں دیا گیا نہ کہ بطور احسان ہے۔ لیکن بعض ائمہ نے اس کی تردید کی ہے۔ کیونکہ اہل جنت پر بھی اللہ کا احسان یقیناً ہے۔ خود قرآن میں ہے «بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:17] یعنی ’ بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ وہ تمہیں ایمان کی ہدایت کرتا ہے ‘۔
جنتیوں کا قول ہے «فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَوَقٰىنَا عَذَاب السَّمُوْمِ» ۱؎ [52-الطور:27] ’ پس اللہ نے ہم پر احسان کیا اور آگ کے عذاب سے بچا لیا ‘۔
رسول اللہ علیہ افضل اصلوۃ والتسلیم فرماتے ہیں { مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں لے لے اور اپنے فضل و احسان میں }۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل}: لهم يا أيُّها النبيُّ: {إنَّما أنا بشرٌ مثلُكُم يوحى إليَّ}؛ أي: هذه صفتي ووظيفتي: أني بشرٌ مثلكم، ليس بيدي من الأمر شيء، ولا عندي ما تستعجِلون به، وإنَّما فضَّلني الله عليكم وميَّزني وخصَّني بالوحي الذي أوحاه إليَّ وأمرني باتِّباعه ودعوتِكُم إليه. {فاستَقيموا إليه}؛ أي: اسلكوا الصراط الموصل إلى الله تعالى بتصديقِ الخبر الذي أخبر به واتِّباع الأمر واجتناب النهي، هذا حقيقة الاستقامة، ثم الدوام على ذلك، وفي قوله: {إليه}: تنبيهٌ على الإخلاص، وأنَّ العامل ينبغي له أن يَجْعَلَ مقصودَه وغايتَه التي يعمل لأجلها الوصولَ إلى الله وإلى دار كرامتِهِ؛ فبذلك يكون عملُه خالصاً صالحاً نافعاً، وبفواتِهِ يكون عملُه باطلاً.
ولمَّا كان العبدُ ولو حَرَصَ على الاستقامةِ لا بدَّ أن يحصلَ منه خللٌ بتقصير بمأمور أو ارتكاب منهيٍّ؛ أمره بدواء ذلك بالاستغفار المتضمِّن للتوبة، فقال: {واستغفِروه}، ثم توعَّد من ترك الاستقامة فقال: {وويلٌ للمشركينَ. الذين لا يُؤتونَ الزَّكاةَ}؛ أي: الذين عَبَدوا من دونِهِ مَنْ لا يملك نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً، ودسُّوا أنفسهم فلم يزكُّوها بتوحيد ربِّهم والإخلاص له، ولم يُصَلُّوا ولا زَكَّوْا؛ فلا إخلاص للخالق بالتوحيد والصلاةِ، ولا نفع للخلق بالزَّكاة وغيرها. {وهم بالآخرةِ هم كافرونَ}؛ أي: لا يؤمنون بالبعث ولا بالجنة والنار؛ فلذلك لما زال الخوفُ من قلوبهم؛ أقدموا على ما أقدموا عليه مما يضرُّهم في الآخرة.