ترجمہ و تفسیر — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 54

اَلَاۤ اِنَّہُمۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّہِمۡ ؕ اَلَاۤ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطٌ ﴿٪۵۴﴾
سنو! یقینا وہ لوگ اپنے رب سے ملنے کے بارے میں شک میں ہیں ۔سن لو! یقینا وہ ہر چیز کااحاطہ کرنے والا ہے۔
دیکھو یہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں ہیں۔ سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے
یقین جانو! کہ یہ لوگ اپنے رب کے روبرو جانے سے شک میں ہیں، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54) ➊ { اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ:} یعنی یہ لوگ قرآن اور اللہ کے رسول کو اس لیے جھٹلا رہے ہیں کہ انھیں قیامت کا یقین نہیں، بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔
➋ { اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيْطٌ:} یعنی وہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے، کوئی چیز اس کے علم اور قدرت سے باہر نہیں، اس لیے وہ اس کی گرفت سے کسی طرح نہیں بچ سکتے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54۔ 1 اس لئے اس کی بابت غورو فکر نہیں کرتے، نہ اس کے لئے عمل کرتے ہیں اور نہ اس دن کا کوئی خوف ان کے دلوں میں ہے۔ 54۔ 2 بنابریں اس کے لیے قیامت کا وقوع قطعا مشکل امر نہیں کیونکہ تمام مخلوقات پر اس کا غلبہ وتصرف ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرے کرتا ہے کرسکتا ہے اور کرے گا کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ سن لو! یہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات سے [73] شک میں پڑے ہوئے ہیں (اور یہ بھی) سن لو کہ اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے
[73] یعنی کافروں کی فتنہ انگیزیوں اور شرارتوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہیں نہ روز آخرت پر ایمان ہے اور نہ اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور پر۔ اگر انہیں یہ یقین ہوتا تو کبھی ایسی حرکتیں نہ کرتے۔ لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احاطہ اختیار میں کس طرح گھرے ہوئے اور مجبور محض ہیں اور اس کی گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔