ترجمہ و تفسیر — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 49

لَا یَسۡـَٔمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَیۡرِ ۫ وَ اِنۡ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴿۴۹﴾
انسان بھلائی مانگنے سے نہیں اکتاتا اور اگر اسے کوئی برائی آ پہنچے تو بہت مایوس، نہایت ناامید ہوتا ہے۔
انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا اور آس توڑ بیٹھتا ہے
بھلائی کے مانگنے سے انسان تھکتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) ➊ { لَا يَسْـَٔمُ الْاِنْسَانُ …:} یہاں سے انسانی طبیعت پر کفر و شرک اور قیامت کے انکار کا ایک بہت برا اثر ذکر فرمایا۔ { الْاِنْسَانُ } سے مراد عام انسان ہے جو ایمان و یقین کی دولت سے خالی ہو، اس میں طبعی طور پر یہ کمزوری رکھی گئی ہے۔ توحید و رسالت اور آخرت پر ایمان کے بعد اس کی اس کمزوری کا علاج ہو جاتا ہے اور ایمان جس قدر قوی ہوتا ہے اتنا ہی وہ اس کمزوری سے پاک ہوتا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا (19) اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا (20) وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا (21) اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ (22) الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىِٕمُوْنَ ...... اُولٰٓىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [المعارج: ۱۹ تا ۳۵] بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔ سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔ وہ جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں...... یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ ہود (۹ تا ۱۱) کی تفسیر۔
➋ { مِنْ دُعَآءِ الْخَيْرِ: الْخَيْرِ } سے مراد دنیوی بھلائی ہے جس میں مال، اولاد، عزت، صحت اور قوت سبھی کچھ شامل ہے۔ { دُعَآءِ } سے مراد خیر کی طلب ہے، یعنی انسان دنیوی بھلائی کی طلب سے نہ اکتاتا ہے اور نہ تھکتا ہے، خواہ اسے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَّالٍ لاَبْتَغٰی ثَالِثًا، وَ لاَ يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰی مَنْ تَابَ] [بخاري، الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال: ۶۴۳۶] اگر ابنِ آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ کوئی تیسری تلاش کرے گا اور ابن آدم کے پیٹ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھرتی اور اللہ اس پر پھر مہربان ہو جاتا ہے جو واپس پلٹ آئے۔
➌ {وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَيَـُٔوْسٌ قَنُوْطٌ: مَسَّ يَمَسُّ} (س) چھونا۔ { فَيَـُٔوْسٌ يَئِسَ يَيْئَسُ يَأْسًا } (س، ح) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت ناامید۔ { قَنُوْطٌ قَنِطَ يَقْنَطُ قَنُوْطًا} (س، ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت ناامید۔ بعض مفسرین نے فرمایا { فَيَـُٔوْسٌ } اور { قَنُوْطٌ } دونوں کا معنی ایک ہے، تاکید کے لیے { فَيَـُٔوْسٌ } کے بعد { قَنُوْطٌ } لایا گیا ہے اور بعض نے فرمایا، دونوں کے معنی میں فرق ہے۔ ابوحیان نے فرمایا: {يَأْسٌ} دل کی حالت ہے کہ آدمی کا دل خیر کی امید سے خالی ہو جائے اور {قَنُوْطٌ} یہ ہے کہ ناامیدی کے آثار اس کے چہرے اور بدن پر بھی ظاہر ہو جائیں۔ ظاہر ہے یہ فرق اس وقت ہے جب یہ دونوں لفظ اکٹھے آئیں، ورنہ یاس اور قنوط دونوں میں قلبی اور بدنی ہر طرح کی ناامیدی مراد ہوتی ہے، جیسا کہ ایمان و اسلام کا معاملہ ہے۔ {مَسٌّ} (چھونے) کے لفظ سے معلوم ہوا کہ کافر اتنا بے حوصلہ ہوتا ہے کہ برائی چھو جانے ہی سے آخری حد تک امید توڑ بیٹھتا ہے۔ مومن ایسا نہیں ہوتا، یہ صرف کافر کا حال ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّهٗ لَا يَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ» ‏‏‏‏ [یوسف: ۸۷] بے شک حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49۔ 1 یعنی دنیا کا مال و اسباب، صحت وقوت، عزت و رفعت اور دیگر دنیاوی نعمتوں کے مانگنے سے انسان نہیں تھکتا، بلکہ مانگتا ہی رہتا ہے۔ انسان سے مراد انسانوں کی غالب اکثریت ہے۔ 49۔ 2 یعنی تکلیف پہنچنے پر فوراً مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے جب کہ اللہ کے مخلص بندوں کا حال اس سے مختلف ہوتا ہے، وہ ایک تو دنیا کے طالب نہیں ہوتے، ان کے سامنے ہر وقت آخرت ہی ہوتی ہے، دوسرے تکلیف پہنچنے پر بھی اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے مایوس نہیں ہوتے، بلکہ آزمائشوں کو بھی کفارہ سیأت اور رفع درجات کا باعث گردانتے ہیں، گویا مایوسی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ انسان (اپنے لئے) بھلائی کی دعا کرنے سے کبھی نہیں اکتاتا [64] اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس [65] اور دل شکستہ ہو جاتا ہے
[64] انسان کی حرص کی انتہا :۔
یعنی ایک عام اور دنیا دار انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ مال و دولت سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ ہر طرح کی بھلائیاں میرے ہی لیے ہوں۔ رزق بھی کشادہ اور وافر ملے، خوشحالی اور عیش و عشرت نصیب ہو، تندرستی بھی ہو اور اولاد بھی اچھی ہو۔ غرض بھلائی کی جو قسم ہو سکتی ہے وہ چاہتا ہے کہ سب کچھ اسے مہیا ہو اور اگر یہ سب چیزیں مہیا ہو بھی جائیں تو پھر یہ چاہتا ہے کہ ان میں ہر آن اضافہ بھی ہوتا رہے اور اس کی یہ حرص کبھی ختم ہونے کو نہیں آتی۔ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آدمی کو ایک وادی بھر سونا مل جائے جب بھی (قناعت نہیں کرنے کا) دوسری وادی چاہے گا اور اگر دوسری مل جائے تو تیسری چاہے گا۔ بات یہ ہے کہ آدمی کا پیٹ مٹی ہی بھرتی ہے“ [بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب ما یتقی من فتنۃ المال]
[65] تکلیف میں مایوس اور شاکی :۔
اور اس کی طبیعت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب اسے کوئی تنگی، فاقہ یا بیماری یا اسی قسم کا کوئی دوسرا دکھ پہنچتا ہے اور اسے اس تکلیف کے دور ہونے کے ظاہری اسباب نظر نہیں آتے تو اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر ناشکری کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ ان ظاہری اسباب کے علاوہ بے شمار باطنی اسباب بھی موجود ہیں جو اسے نظر نہیں آسکتے اور اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوتے ہیں۔ اگر وہ اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھ جائے تو یقیناً اس کی یہ حالت نہ ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انسان کی سرکشی کا حال ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ مال صحت وغیرہ بھلائیوں کی دعاؤں سے تو انسان تھکتا ہی نہیں اور اگر اس پر کوئی بلا آ پڑے یا فقر و فاقہ کا موقعہ آ جائے تو اس قدر ہراساں اور مایوس ہو جاتا ہے کہ گویا اب کسی بھلائی کا منہ نہیں دیکھے گا، اور اگر کسی برائی یا سختی کے بعد اسے کوئی بھلائی اور راحت مل جائے تو کہنے بیٹھ جاتا ہے کہ اللہ پر یہ تو میرا حق تھا، میں اسی کے لائق تھا، اب اس نعمت پر پھولتا ہے، اللہ کو بھول جاتا ہے اور صاف منکر بن جاتا ہے۔ قیامت کے آنے کا صاف انکار کر جاتا ہے۔ مال و دولت راحت آرام اس کے کفر کا سبب بن جاتا ہے ‘۔
جیسے ایک اور آیت میں ہے «كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ» ۱؎ [96-العلق:7،6]‏‏‏‏ یعنی ’ انسان نے جہاں آسائش و آرام پایا وہیں اس نے سر اٹھایا اور سرکشی کی ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اتنا ہی نہیں بلکہ اس بداعمالی پر بھلی امیدیں بھی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بالفرض اگر قیامت آئی بھی اور میں وہاں اکٹھا بھی کیا گیا تو جس طرح یہاں سکھ چین میں ہوں وہاں بھی ہوں گا ‘۔ غرض انکار قیامت بھی کرتا ہے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو مانتا بھی نہیں اور پھر امیدیں لمبی باندھتا ہے اور کہتا ہے کہ جیسے میں یہاں ہوں ویسے ہی وہاں بھی رہوں گا۔
پھر ان لوگوں کو ڈراتا ہے کہ ’ جن کے یہ اعمال و عقائد ہوں انہیں ہم سخت سزا دیں گے ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ جب انسان اللہ کی نعمتیں پا لیتا ہے تو اطاعت سے منہ موڑ لیتا ہے اور ماننے سے جی چراتا ہے ‘۔ جیسے فرمایا «فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ» ۱؎ [51-الذاريات:39]‏‏‏‏ ’ اور جب اسے کچھ نقصان پہنچتا ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے بیٹھ جاتا ہے ‘۔ عریض کلام اسے کہتے ہیں جس کے الفاظ بہت زیادہ ہوں اور معنی بہت کم ہوں۔ اور جو کلام اس کے خلاف ہو یعنی الفاظ تھوڑے ہوں اور معنی زیادہ ہوں تو اسے وجیز کلام کہتے ہیں۔ وہ بہت کم اور بہت کافی ہوتا ہے۔
اسی مضمون کو اور جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے «وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاىِٕمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:12]‏‏‏‏، ’ جب انسان کو مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر لیٹ کر اور بیٹھ کر اور اکٹھے ہو کر غرض ہر وقت ہم سے مناجات کرتا رہتا ہے اور جب وہ تکلیف ہم دور کر دیتے ہیں تو اس بےپرواہی سے چلا جاتا ہے کہ گویا اس مصیبت کے وقت اس نے ہمیں پکارا ہی نہ تھا ‘۔