(آیت 46) ➊ { مَنْعَمِلَصَالِحًافَلِنَفْسِهٖ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلِ ایمان کے لیے تسلی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ پر اس کا کوئی وبال نہیں۔ جو صالح عمل کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے۔ ➋ { وَمَارَبُّكَبِظَلَّامٍلِّلْعَبِيْدِ:} اور اللہ بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں کہ کسی کو اس کی نیکی کا بدلا نہ دے، یا ایک کی بدی دوسرے پر ڈال دے۔ ➌ یہاں لفظ {”بِظَلَّامٍ“} پر ایک مشہور سوال ہے، اس سوال اور اس کے جواب کے لیے دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۱۸۲)، انفال (۵۱) اور سورۂ حج (۱۰) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46۔ 1 اس لئے کہ وہ عذاب صرف اسی کو دیتا ہے جو گناہ گار ہوتا ہے، نہ کہ جس کو چاہے، یوں ہی عذاب میں مبتلا کر دے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ جس شخص نے کوئی نیک عمل کیا تو اس کا فائدہ اسی کو ہو گا اور جو برائی کرے گا۔ اس کا وبال بھی اسی پر ہو گا اور آپ کا پروردگار اپنے بندوں [60] پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
[60] یعنی آپ کے پروردگار کو اپنے بندوں کو خواہ مخواہ سزا دینے کا کوئی شوق نہیں۔ نہ وہ یہ ظلم کر سکتا ہے کہ نیکی کرنے والوں کو کچھ بدلہ نہ دے اور نہ یہ کہ بدی کرنے والوں کو ان کی بدی کی کوئی سزا نہ دے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ناکردہ گناہ سزا نہیں پاتا ٭٭
اس آیت کا مطلب بہت صاف ہے بھلائی کرنے والے کے اعمال کا نفع اسی کو ہوتا ہے اور برائی کرنے والے کی برائی کا وبال بھی اسی کی طرف لوٹتا ہے۔ پروردگار کی ذات ظلم سے پاک ہے۔ ایک کے گناہ پر دوسرے کو وہ نہیں پکڑتا۔ ناکردہ گناہ کو وہ سزا نہیں دیتا۔ پہلے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھیجتا ہے۔ اپنی کتاب اتارتا ہے، اپنی حجت تمام کرتا ہے، اپنی باتیں پہنچا دیتا ہے، اب بھی جو نہ مانے وہ مستحق عذاب و سزا قرار دے دیا جاتا ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔