ترجمہ و تفسیر — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 4

بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ۚ فَاَعۡرَضَ اَکۡثَرُہُمۡ فَہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۴﴾
بشارت دینے والا اور ڈرانے والا، تو ان کے اکثر نے منہ موڑ لیا، سو وہ نہیں سنتے۔
جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیر لیا اور وہ سنتے ہی نہیں
خوش خبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منھ پھیر لیا اور وه سنتے ہی نہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) ➊ { بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا:} یہ چوتھی اور پانچویں صفت ہے کہ یہ کتاب ایمان لانے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں جہاں میں بہترین انجام کی بشارت دیتی ہے اور جھٹلانے والوں کو دنیا اور آخرت کے بدترین انجام سے ڈراتی ہے۔
➋ { فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ:} قرآن مجید کی صفات بیان کرنے کے بعد اس پر لوگوں کا رد عمل بیان فرمایا کہ ان میں سے اکثر نے منہ موڑ لیا، سو وہ سنتے ہی نہیں۔ اکثر سے مراد یہاں کفار ہیں۔ نہ سننے سے مراد یہ ہے کہ وہ سرے سے سنتے ہی نہیں، بلکہ مجلس سے اٹھ جاتے ہیں (دیکھیے ص: ۶) یا کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں اور کپڑے اوڑھ لیتے ہیں۔ (دیکھیے نوح: ۷) یا شور و غل ڈال کر نہ خود سنتے ہیں نہ کسی کو سننے دیتے ہیں، جیسا کہ اسی سورۂ حم السجدہ کی آیت (۲۶) میں ہے اور نہ سننے سے مراد یہ بھی ہے کہ وہ اسے قبول نہیں کرتے، کیونکہ جب ماننا ہی نہیں تو سننا نہ سننا برابر ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ» ‏‏‏‏ [الأعراف: ۱۷۹] اور بلاشبہ یقینا ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم ہی کے لیے پیدا کیے ہیں، ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں، یہی ہیں جو بالکل بے خبر ہیں۔ اور اسی سورت کی اگلی آیت: «‏‏‏‏وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَيْهِ وَ فِيْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَيْنِنَا وَ بَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ» [حٰمٓ السجدۃ: ۵] اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اور ہمارے کانوں میں ایک بوجھ ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک حجاب ہے، پس تو عمل کر، بے شک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں۔
➌ قرآن مجید نے لوگوں کی اکثریت کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏اَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۰۰] ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ اور فرمایا: «اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ» [الأنعام: ۳۷] ان کے اکثر نہیں جانتے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [الأنعام: ۱۱۱] ان کے اکثر جہالت برتتے ہیں۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ» [الأعراف: ۱۷] اور تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِيْنَ» [الأعراف: ۱۰۲] اور بے شک ہم نے ان کے اکثر کو فاسق ہی پایا۔ اور فرمایا: «وَ مَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا» ‏‏‏‏ [یونس: ۳۶] اور ان کے اکثر پیروی نہیں کرتے مگر ایک گمان کی۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُوْنَ» [یونس: ۶۰] اور لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ» [یوسف: ۱۰۶] اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، مگر اس حال میں کہ وہ شریک بنانے والے ہوتے ہیں۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» [الشعراء: ۸] بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ جب کہ ایمان والوں اور شکر گزار بندوں کے متعلق فرمایا کہ وہ بہت تھوڑے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِيْلٌ مَّا هُمْ» ‏‏‏‏ [صٓ: ۲۴] مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور یہ لوگ بہت ہی کم ہیں۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ» [سبا: ۱۳] اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔ ان آیات سے کفار کے رائج کر دہ نظامِ جمہوریت کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے، جس کی بنیاد ہی عوام کی اکثریت پر ہے، وہ مسلم ہوں یا کافر، متقی ہوں یا فاسق۔ پھر اس اکثریت کو دستور اور قانون سازی کا بھی اختیار ہے، خواہ وہ اللہ کے دین کے مطابق ہو یا اس سے متصادم۔ اس لیے دنیا بھر کے کفار تمام مسلمان ملکوں میں جمہوریت رائج کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اسی کے ذریعے سے وہ ان ملکوںمیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو نافذ ہونے سے روک سکتے ہیں اور اپنا دخل جاری رکھ سکتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 ایمان اور اعمال صالح کے حاملین کو کامیابی اور جنت کی خوشخبری سنانے والا اور مشرکین و مکذبین کو عذاب نار سے ڈرانے والا۔ 4۔ 2 یعنی غور و فکر اور تدبر و تعقل کی نیت سے نہیں سنتے کہ جس سے انہیں فائدہ ہو۔ اسی لئے ان کی اکثریت ہدایت سے محروم ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ یہ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا [2] ہے مگر اکثر لوگوں نے اس سے اعراض کیا اور اسے سنتے ہی نہیں۔
[2] قرآن کی چار صفات کا ذکر :۔
یہ تمہیدی آیات ہیں جن میں قرآن کی چند صفات بیان کر کے اسے متعارف کرایا جا رہا ہے اس کی پہلی صفت یہ ہے کہ یہ نہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا کلام ہے نہ ہی کسی دوسرے آدمی کا ہے بلکہ یہ اس ہستی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو رحمان و رحیم ہے۔ اپنی مخلوق پر بے انتہا مہربان ہے اور یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی فلاح و سعادت کے لیے قرآن جیسی عظیم نعمت نازل فرمائی ہے اور اگر کوئی شخص اس نعمت سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو وہ انتہائی ناشکرا اور نا قدر شناس ہے۔ اس کتاب کی دوسری صفت یہ ہے کہ اس کی آیات کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ نئے سے نئے پیرائے میں بار بار بیان کیا گیا ہے تاکہ سمجھنے میں کوئی ابہام، کوئی پیچیدگی اور گنجلک باقی نہ رہے۔ نیز اس میں سینکڑوں قسم کے مضامین ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ کر کے پیش کئے گئے ہیں۔ اس کی تیسری صفت یہ ہے کہ یہ قرآن عربی زبان میں ہے۔ تاکہ اس کے پڑھنے پڑھانے اور سمجھنے سمجھانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے اور قوم کے لیے نا فہمی کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔ تاہم اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اہل علم و دانش ہیں۔ جہالت کی بنا پر اڑ جانے والے اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس کی چوتھی صفت یہ ہے کہ یہ کتاب نہ کوئی افسانوی تخیل ہے اور نہ ہی انشا پردازی کا نمونہ ہے بلکہ یہ تمام دنیا کو خبردار کر رہی ہے کہ اس کی تعلیم کو مان لینے کے نتائج شاندار اور نہ ماننے کے نتائج نہایت ہولناک ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔