ترجمہ و تفسیر — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 3

کِتٰبٌ فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۳﴾
ایسی کتاب جس کی آیات کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی قرآن ہے، ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔ En
کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں
En
(ایسی) کتاب ہے جس کی آیتوں کی واضح تفصیل کی گئی ہے، (اس حال میں کہ) قرآن عربی زبان میں ہے اس قوم کے لیے جو جانتی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ {كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ: فُصِّلَتْ } کا کچھ بیان سورۂ ہود کی پہلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں: یعنی ان میں مختلف مضامین عقائد، حرام و حلال، گزشتہ اقوام کے واقعات اور مثالیں وغیرہ کھول کھول کر واضح اندازمیں بیان کیے گئے ہیں۔ (اشرف الحواشی) یہ { كِتٰبٌ } کی پہلی صفت ہے۔
➋ { قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا:} یہ دوسری صفت ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۲) اور سورۂ شعراء (۱۹۵)۔
➌ { لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ:} یہ تیسری صفت ہے۔ { لِقَوْمٍ } کا لام { تَنْزِيْلٌ } کے متعلق بھی ہو سکتا ہے اور { فُصِّلَتْ } کے بھی۔ یعنی یہ کتاب ان لوگوں کے لیے نازل کی گئی ہے اور انھی کے لیے اس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں جو جانتے ہیں، یا جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔ گویا یہ ان کے لیے ہے ہی نہیں جو علم کے بجائے اپنی خواہشِ نفس یا آبا و اکابر کی تقلید کے پیروکار ہیں، کیونکہ ان کا عناد اور تعصب انھیں سوچنے سمجھنے حتیٰ کہ سننے کی بھی اجازت نہیں دیتا (دیکھیے حم السجدۃ: ۲۶) اور نہ سننا اور نہ سمجھنا ہی لوگوں کو جہنم میں لے جائے گا، جیسا کہ سورۂ ملک میں ہے: «‏‏‏‏وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ» ‏‏‏‏ [الملک: ۱۰] اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔ یہی بات متعدد آیات میں بیان فرمائی، فرمایا: «وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَ مَا يَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [العنکبوت: ۴۳] اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انھیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔ اور فرمایا: «بَلْ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ» ‏‏‏‏ [العنکبوت: ۴۹] بلکہ یہ تو واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنھیں علم دیا گیا ہے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْعٰلِمِيْنَ» ‏‏‏‏ [الروم: ۲۲] بے شک اس میں جاننے والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ» ‏‏‏‏ [یوسف: ۲] بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تا کہ تم سمجھو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 یعنی کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ یا طاعت کیا ہیں اور معاصی کیا؟ یا ثواب والے کام کون سے ہیں اور عقاب والے کون سے؟ 3۔ 2 یہ حال ہے۔ یعنی اس کے الفاظ عربی ہیں، جن کے معانی مفصل اور واضح ہیں۔ 3۔ 3 یعنی اس کے الفاظ عربی ہیں، جن کے معانی و مفا ہیم اور اس کے اسرار و اسلوب کو جانتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ ایسی کتاب جس کی آیات تفصیل سے بیان کی گئی ہیں، عربی زبان میں ہے اور ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی، چنانچہ فرمایا: ﴿فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیانِ کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ ﴿قُ٘رْاٰنًا عَرَبِیًّا یعنی فصیح عربی میں، جو کامل ترین زبان ہے جس کی آیات کو تفصیل سے بیان گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ ﴿لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ علم رکھنے والوں کے لیے۔ یعنی (یہ قرآن) اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں، اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہو جائیں۔ اور رہے جہلاء جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیا ن اور اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لیے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ ﴿سَوَؔآءٌؔ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ۠ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَؔ (البقرۃ: 2؍6) ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أثنى على الكتاب بتمام البيان، فقال: {فُصِّلَتْ آياتُه}؛ أي: فُصِّلَ كلُّ شيء من أنواعه على حِدَتِهِ، وهذا يستلزمُ البيان التامَّ والتفريق بين كلِّ شيء وتمييز الحقائق، {قرآناً عربيًّا}؛ أي: باللغة الفصحى أكمل اللغات، فصلت آياتُهُ وجُعِلَ عربيًّا. {لقوم يَعْلَمونَ}؛ أي: لأجل أن يتبيَّنَ لهم معناه كما يتبيَّن لفظه، ويتَّضحَ لهم الهدى من الضلال والغيُّ من الرشاد، وأمَّا الجاهلون الذين لا يزيدُهم الهدى إلاَّ ضلالاً ولا البيانُ إلا عمىً؛ فهؤلاء لم يَسُقِ الكلامَ لأجلهم، و {سواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذِرْهم لا يؤمنون}.