(آیت 18) {وَنَجَّيْنَاالَّذِيْنَاٰمَنُوْا …:} یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب قدرت ہے کہ اتنے شدید عذاب، زلزلے، خوف ناک چیخ اور بجلیاں چمکنے اور گرنے کے باوجود کسی مسلمان کا بال تک بیکا نہیں ہوا، وہ سب اللہ کے فضل سے صحیح و سلامت رہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ اور ہم نے ان لوگوں کو (اس عذاب سے) بچا لیا جو ایمان [22] لائے اور (نافرمانی سے) بچتے رہے تھے۔
[22] یعنی سیدنا صالحؑ کو عذاب نازل ہونے سے پہلے ہجرت کا حکم دے دیا گیا تھا۔ چنانچہ آپ ایمانداروں کے ہمراہ جن کی تعداد ایک سو بیس کے لگ بھگ تھی، بحکم الٰہی ہجرت کر کے فلسطین کی طرف چلے گئے اور رملہ کے قریب جا کر آباد ہوئے۔ اسی مقام پر سیدنا صالحؑ نے وفات پائی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَنَجَّیْنَاالَّذِیْنَاٰمَنُوْاوَكَانُوْایَتَّقُوْنَ ﴾”اور ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو ایمان لائے اور (نافرمانی سے) بچتے رہے“یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام اور ان کی اتباع کرنے والے ان مومنین کو نجات دی جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ونجَّيْنا الذين آمنوا وكانوا يتَّقونَ}؛ أي: نجَّى الله صالحاً عليه السلام ومن اتَّبعه من المؤمنين المتَّقين للشرك والمعاصي.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔