ترجمہ و تفسیر — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 17

وَ اَمَّا ثَمُوۡدُ فَہَدَیۡنٰہُمۡ فَاسۡتَحَبُّوا الۡعَمٰی عَلَی الۡہُدٰی فَاَخَذَتۡہُمۡ صٰعِقَۃُ الۡعَذَابِ الۡہُوۡنِ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿ۚ۱۷﴾
اور جو ثمود تھے تو ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا مگر انھوںنے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنے کو پسند کیا تو انھیںذلیل کرنے والے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا، اس کی وجہ سے جو وہ کماتے تھے۔
اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا رستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا دھند رہنا پسند کیا تو ان کے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا۔ اور وہ ذلت کا عذاب تھا
رہے ﺛمود، سو ہم نے ان کی بھی رہبری کی پھر بھی انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی جس بنا پر انہیں (سراپا) ذلت کے عذاب، کی کڑک نے ان کے کرتوتوں کے باعﺚ پکڑ لیا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17) ➊ {وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ …:} قوم ثمود کے تعارف کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۳ تا ۷۹)۔ ہدایت کی تفسیر کے لیے سورۂ فاتحہ کی آیت: { اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ } کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ یعنی ہم نے انھیں راہِ حق دکھا دیا، مگر انھوں نے ہدایت قبول کرنے کے بجائے اندھا اور گمراہ رہنے کو ترجیح دی۔
➋ {فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ …: الْهُوْنِ } اور{اَلْهَوَانُ} معنی ذلت، یہ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے۔ ثمود پر آنے والے عذاب کو کہیں { الرَّجْفَةُ } (زلزلہ) کہا گیا ہے، کہیں { الصَّيْحَةُ } (سخت چیخ) یہاں اسے بجلی کی کڑک کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایک سخت چیخ تھی جس میں بجلی کی کڑک اور شعلہ تھا، ساتھ ہی شدید زلزلہ تھا جس سے ان کے جگر پھٹ گئے اور سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ یہ ذلت کا عذاب ان کے اعمال بد کا انجام تھا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 یعنی ان کو توحید کی دعوت دی، اس کے دلائل ان کے سامنے واضح کئے اور ان کے پیغمبر حضرت صالح ؑ کے ذریعے سے ان پر حجت تمام کی۔ 17۔ 2 یعنی انہوں نے مخالفت کی حتیٰ کہ اس اونٹنی تک کو ذبح کر ڈالا جو بطور معجزہ ان کی خواہش پر چٹان سے ظاہر کی گئی تھی اور پیغمبر کی صداقت کی دلیل تھی۔ 17۔ 2 صاعقۃ عذاب شدید کو کہتے ہیں ان پر یہ سخت عذاب چنگھاڑ اور زلزلے کی صورت میں آیا جس نے انہیں ذلت و رسوائی کے ساتھ تباہ و برباد کردیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ رہے ثمود تو انہیں ہم نے سیدھی راہ دکھائی مگر انہوں نے راہ دیکھنے کے مقابلہ میں اندھا [21] رہنا ہی پسند کیا۔ آخر انہیں کڑک کی صورت میں ذلت کے عذاب نے پکڑ لیا جو ان کی کرتوتوں کا بدلہ تھا۔
[21] قوم ثمود پر زلزلہ اور چیخ کا عذاب :۔
جسے عاد ثانیہ کہا جاتا ہے اور جن کی طرف سیدنا صالحؑ مبعوث ہوئے تھے۔ انہوں نے سیدنا صالحؑ سے اونٹنی کے پہاڑ سے برآمد ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا تھا۔ جس سے انہیں یقین بھی ہو چکا تھا کہ سیدنا صالحؑ کی پشت پر کوئی مافوق الفطرت ہستی موجود ہے۔ اور وہ فی الواقع اللہ کا رسول ہے۔ لیکن ان باتوں کے باوجود انہوں نے سیدنا صالحؑ کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول نہ کیا اور اپنے جاہلانہ اور مشرکانہ رسم و رواج کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ یہ لوگ بھی قد و قامت، ڈیل ڈول اور قوت میں اپنی پیشرو قوم عاد سے کسی طرح کم نہ تھے۔ فن تعمیر سنگ تراشی کے بہترین ماہر تھے۔ پہاڑوں کے اندر پتھر تراش تراش کر صرف مکان ہی نہیں بناتے تھے بلکہ راستے بھی بنا کر پہاڑوں کے اندر ہی بستیاں آباد کر رکھی تھی۔ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے جب ان کے دن گنے جا چکے تو ان پر دوہرا عذاب نیچے سے زلزلہ جس سے ان کے پہاڑوں کے اندر واقع مکانوں میں دراڑیں اور شگاف پڑ گئے اور اوپر سے کڑک اتنی شدید تھی جس سے ان کے جگر پھٹ گئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔