جب ان کے پاس ان کے رسول ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، انھوں نے کہا اگر ہمارا رب چاہتا تو ضرور کوئی فرشتے نازل کر دیتا، پس بے شک ہم اس سے جو دے کر تم بھیجے گئے ہو، منکر ہیں۔
جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے
ان کے پاس جب ان کے آگے پیچھے سے پیغمبر آئے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔ ہم تو تمہاری رسالت کے بالکل منکر ہیں
(آیت 14) ➊ { اِذْجَآءَتْهُمُالرُّسُلُمِنْۢبَيْنِاَيْدِيْهِمْوَمِنْخَلْفِهِمْ:} دونوں قوموں کی طرف آنے والے دو رسولوں ہود اور صالح علیھما السلام کے لیے جمع کا لفظ استعمال فرمایا ہے، یا مراد دونوں پیغمبروں میں سے ہر ایک کے ساتھ پیغام حق پہنچانے والے مومن بھی ہیں، جنھوں نے ہر طرح اور ہر جانب سے آ کر انھیں اللہ کا پیغام پہنچایا۔ آگے پیچھے سے مراد ہر طرف سے اور ہر طرح سے آ کر سمجھانا ہے، جیسا کہ ابلیس نے کہا تھا: «ثُمَّلَاٰتِيَنَّهُمْمِّنْۢبَيْنِاَيْدِيْهِمْوَمِنْخَلْفِهِمْوَعَنْاَيْمَانِهِمْوَعَنْشَمَآىِٕلِهِمْوَلَاتَجِدُاَكْثَرَهُمْشٰكِرِيْنَ»[الأعراف: ۱۷]”پھر میں ہر صورت ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دائیں طرفوں سے اور ان کی بائیں طرفوں سے آؤں گا اور تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔“ ➋ { اَلَّاتَعْبُدُوْۤااِلَّااللّٰهَ: ”أَلَّا“”أَنْلَا“} ہے، اس میں {”أَنْ“} تفسیریہ ہے، یعنی تمام رسولوں کی دعوت یہ تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو۔ ➌ { قَالُوْالَوْشَآءَرَبُّنَالَاَنْزَلَمَلٰٓىِٕكَةً …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ابراہیم (۹، ۱۰) اور سورۂ بنی اسرائیل (۹۴، ۹۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 یعنی چونکہ تم ہماری طرح ہی کے انسان ہو، اس لئے ہم تمہیں نبی نہیں مان سکتے اللہ تعالیٰ کو نبی بھیجنا ہوتا تو فرشتوں کو بھیجتا نہ کہ انسانوں کو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ جب ان کے پاس ان کے آگے سے اور پیچھے [16] سے رسول آئے (اور کہا) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو کہنے لگے کہ: اگر اللہ (ہماری ہدایت) چاہتا تو فرشتے نازل کرتا لہذا تم جو پیغام دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار [17] کرتے ہیں
[16] اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے پاس رسول آتے رہے۔ دوسرا یہ کہ ان کے پاس جو رسول آئے انہوں نے ان لوگوں کو ہر پہلو سے سمجھانے کی کوشش کی اور تیسرا یہ کہ ان کے اپنے علاقہ میں بھی رسول آئے اور ان کے گرد و پیش کے علاقہ میں بھی اور ان کی تعلیم بھی ان تک پہنچ چکی تھی۔ [17] یعنی تم تو بشر ہو۔ تمہیں ہم کیسے اللہ کا رسول مان سکتے ہیں۔ کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بن کر آتا تب بھی کوئی بات تھی۔ ہر منکر حق قوم کو یہ اعتراض رہا ہے اور اس اعتراض کی حقیقت ”خوئے بدرا بہانہ بسیار“ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور اس اعتراض کے جواب بھی قرآن میں جا بجا مذکور ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔