اَلَّذِیۡنَ یَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَ مَنۡ حَوۡلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعۡتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحۡمَۃً وَّ عِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَ قِہِمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿۷﴾
وہ(فرشتے) جو عرش کواٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اورا ن لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو ایمان لائے، اے ہمارے رب! تو نے ہر چیز کو رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے، تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا۔
En
جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور مومنوں کے لئے بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے رستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچالے
En
عرش کے اٹھانے والے اور اسکے آس پاس کے (فرشتے) اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استفغار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راه کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 7) ➊ { اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ …:} پچھلی آیات میں کفار کا انجام بیان فرمایا، جو اللہ کی آیات ٹھکرانے کے لیے فضول جھگڑا اور کج بحثی کرتے ہیں، اب ان کے مقابلے میں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس پر ایمان لاتے اور کج بحثی سے اجتناب کرتے ہیں۔ ان کے حق میں وہ بلند مرتبہ فرشتے استغفار اور دعائیں کرتے ہیں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو عرش کے ارد گرد ہیں، وہ سب {”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهِ“} اور اس سے ملتے جلتے کلمات کے ساتھ اپنے رب کی حمد اور اس کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں، یعنی اس پاک ذات کی تعریف کرتے ہیں کہ وہ تمام صفاتِ کمال کا مالک ہے اور ہر عیب اور کمی سے پاک ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والوں کے لیے تسلی بھی ہے کہ ہٹ دھرمی اور کج بحثی کرنے والے کفار کے رویے سے بد دل نہ ہوں، اگر یہ لوگ تم سے دشمنی رکھتے ہیں تو تم سے دوستی رکھنے والے بھی بہت ہیں اور بڑی اونچی شان والے ہیں۔ پھر ایسے پاک باز اور خیر خواہ دوستوں کی موجودگی میں، جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمھارے لیے دعائیں اور بخشش کی درخواست کرتے ہیں، تمھیں کسی دشمن کی کیا پروا ہے؟
➋ { وَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہ بات تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ عرش اٹھانے والے اور دوسرے تمام فرشتے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، پھر ان کے اللہ پر ایمان لانے کا ذکر خاص طور پر کیوں فرمایا؟ زمخشری نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ ایمان کی فضیلت و شرف کو نمایاں کرنے کے لیے اور اس کی ترغیب دینے کے لیے کیا گیا ہے، جیسا کہ سورۂ بلد میں مشکل گھاٹی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے گردن چھڑانے اور نیکی کے دوسرے اعمال کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے کا ذکر فرمایا، تاکہ ایمان کی فضیلت ثابت ہو اور واضح ہو جائے کہ کوئی بھی نیکی اسی وقت معتبر ہے جب اس کے ساتھ ایمان ہو۔
➌ عرش اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں سے سب سے بڑی مخلوق ہے، کیونکہ وہ تمام زمینوں اور آسمانوں کے اوپر ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، پھر عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کی عظمت کا کیا حال ہو گا!؟ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أُذِنَ لِيْ أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَّلَكٍ مِنْ مَّلاَئِكَةِ اللّٰهِ تَعَالٰی مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلٰی عَاتِقِهِ مَسِيْرَةُ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ] [أبوداوٗد، السنۃ، باب في الجہمیۃ: ۴۷۲۷، و قال الألباني صحیح] ”مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے ان فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے متعلق بیان کروں جو عرش اٹھائے ہوئے ہیں کہ اس کے کان کی کونپل سے اس کے کندھے تک سات سو سال کا فاصلہ ہے۔“ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ سال دنیا والے ہیں یا وہ سال ہیں جن کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے، یا اس سے بھی طویل مدت والے سال مراد ہیں، کیونکہ ہمارے سورج کے دائرے کے باہر وقت کا حساب ہمارے حساب سے نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ افلاک کی وسعت کا کچھ اندازہ نہیں، جہاں سورج بھی ایک ذرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ غرض یہ ان فرشتوں کی عظمت کا محض ایک اندازہ ہے۔ عرش کو اٹھانے والے اتنے عظیم فرشتے اور عرش کے ارد گرد موجود اور اس کا طواف کرنے والے فرشتے جب مومنوں کے حق میں استغفار اور دعائیں کر رہے ہیں، اور ظاہر ہے کہ وہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کر رہے ہیں، جیسا کہ تمام فرشتوں کے متعلق فرمایا: «بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ (26) لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ» [الأنبیاء: ۲۶، ۲۷] ”بلکہ وہ بندے ہیں جنھیں عزت دی گئی ہے۔ وہ بات کرنے میں اس سے پہل نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم کے ساتھ ہی عمل کرتے ہیں۔“ تو اس سے ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ کی بے حد و حساب مہربانی اور رحمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ حاقہ (۱۷)۔
➍ اس آیت میں توبہ کرنے والوں کے لیے صرف عرش اٹھانے والے اور اس کے ارد گرد موجود فرشتوں کے استغفار اور دعا کا ذکر ہے، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمام فرشتے ان کے لیے استغفار کرتے ہیں، فرمایا: «تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَ۠ لِمَنْ فِي الْاَرْضِ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [الشورٰی: ۵] ”آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں، سن لو! بے شک اللہ ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“
➎ { رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا:} یہاں{” يَقُوْلُوْنَ“} (وہ فرشتے کہتے ہیں) محذوف ہے۔ یعنی تسبیح و تحمید کی طرح ایمان والوں کے لیے دعا کرنا بھی ان کے معمولات میں شامل ہے۔ اس سے ایمان کی فضیلت اور ایمان والوں کے باہمی تعلق اور محبت کا اندازہ ہوتا ہے کہ عرش کے پاس رہنے والے فرشتے زمین پر رہنے والے مومنوں کے حق میں دعائیں کرتے ہیں۔ اسی طرح اس سے دعا کا سلیقہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو {” رَبَّنَا “} (اے ہمارے رب! اے ہمارے پالنے والے!) کہہ کر پکارتے ہیں، پھر اس سے اس کی رحمت اور اس کے علم کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہیں، یعنی تیری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے (دیکھیے اعراف: ۱۵۶) اور تیرا علم بھی ہر چیز پر وسیع ہے۔ (دیکھیے انعام: ۸۰۔ طلاق: ۱۲)
➏ { فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا …:} اس لیے تو اپنی رحمت اور علم کے تقاضے کے مطابق ان گناہ گاروں کو بخش دے جو اپنے گناہوں سے توبہ کریں، ان سے باز آ جائیں اور تیرے راستے کی پیروی کریں، تو نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کریں اور جس سے منع کیا ہے اسے چھوڑ دیں اور اے اللہ! انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا لے۔ مزید دیکھیے سورۂ شوریٰ کی آیت (۵) کی تفسیر۔
➋ { وَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہ بات تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ عرش اٹھانے والے اور دوسرے تمام فرشتے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، پھر ان کے اللہ پر ایمان لانے کا ذکر خاص طور پر کیوں فرمایا؟ زمخشری نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ ایمان کی فضیلت و شرف کو نمایاں کرنے کے لیے اور اس کی ترغیب دینے کے لیے کیا گیا ہے، جیسا کہ سورۂ بلد میں مشکل گھاٹی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے گردن چھڑانے اور نیکی کے دوسرے اعمال کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے کا ذکر فرمایا، تاکہ ایمان کی فضیلت ثابت ہو اور واضح ہو جائے کہ کوئی بھی نیکی اسی وقت معتبر ہے جب اس کے ساتھ ایمان ہو۔
➌ عرش اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں سے سب سے بڑی مخلوق ہے، کیونکہ وہ تمام زمینوں اور آسمانوں کے اوپر ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، پھر عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کی عظمت کا کیا حال ہو گا!؟ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أُذِنَ لِيْ أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَّلَكٍ مِنْ مَّلاَئِكَةِ اللّٰهِ تَعَالٰی مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلٰی عَاتِقِهِ مَسِيْرَةُ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ] [أبوداوٗد، السنۃ، باب في الجہمیۃ: ۴۷۲۷، و قال الألباني صحیح] ”مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے ان فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے متعلق بیان کروں جو عرش اٹھائے ہوئے ہیں کہ اس کے کان کی کونپل سے اس کے کندھے تک سات سو سال کا فاصلہ ہے۔“ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ سال دنیا والے ہیں یا وہ سال ہیں جن کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے، یا اس سے بھی طویل مدت والے سال مراد ہیں، کیونکہ ہمارے سورج کے دائرے کے باہر وقت کا حساب ہمارے حساب سے نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ افلاک کی وسعت کا کچھ اندازہ نہیں، جہاں سورج بھی ایک ذرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ غرض یہ ان فرشتوں کی عظمت کا محض ایک اندازہ ہے۔ عرش کو اٹھانے والے اتنے عظیم فرشتے اور عرش کے ارد گرد موجود اور اس کا طواف کرنے والے فرشتے جب مومنوں کے حق میں استغفار اور دعائیں کر رہے ہیں، اور ظاہر ہے کہ وہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کر رہے ہیں، جیسا کہ تمام فرشتوں کے متعلق فرمایا: «بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ (26) لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ» [الأنبیاء: ۲۶، ۲۷] ”بلکہ وہ بندے ہیں جنھیں عزت دی گئی ہے۔ وہ بات کرنے میں اس سے پہل نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم کے ساتھ ہی عمل کرتے ہیں۔“ تو اس سے ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ کی بے حد و حساب مہربانی اور رحمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ حاقہ (۱۷)۔
➍ اس آیت میں توبہ کرنے والوں کے لیے صرف عرش اٹھانے والے اور اس کے ارد گرد موجود فرشتوں کے استغفار اور دعا کا ذکر ہے، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمام فرشتے ان کے لیے استغفار کرتے ہیں، فرمایا: «تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَ۠ لِمَنْ فِي الْاَرْضِ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [الشورٰی: ۵] ”آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں، سن لو! بے شک اللہ ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“
➎ { رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا:} یہاں{” يَقُوْلُوْنَ“} (وہ فرشتے کہتے ہیں) محذوف ہے۔ یعنی تسبیح و تحمید کی طرح ایمان والوں کے لیے دعا کرنا بھی ان کے معمولات میں شامل ہے۔ اس سے ایمان کی فضیلت اور ایمان والوں کے باہمی تعلق اور محبت کا اندازہ ہوتا ہے کہ عرش کے پاس رہنے والے فرشتے زمین پر رہنے والے مومنوں کے حق میں دعائیں کرتے ہیں۔ اسی طرح اس سے دعا کا سلیقہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو {” رَبَّنَا “} (اے ہمارے رب! اے ہمارے پالنے والے!) کہہ کر پکارتے ہیں، پھر اس سے اس کی رحمت اور اس کے علم کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہیں، یعنی تیری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے (دیکھیے اعراف: ۱۵۶) اور تیرا علم بھی ہر چیز پر وسیع ہے۔ (دیکھیے انعام: ۸۰۔ طلاق: ۱۲)
➏ { فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا …:} اس لیے تو اپنی رحمت اور علم کے تقاضے کے مطابق ان گناہ گاروں کو بخش دے جو اپنے گناہوں سے توبہ کریں، ان سے باز آ جائیں اور تیرے راستے کی پیروی کریں، تو نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کریں اور جس سے منع کیا ہے اسے چھوڑ دیں اور اے اللہ! انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا لے۔ مزید دیکھیے سورۂ شوریٰ کی آیت (۵) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 اس میں ملائکہ مقربین کے ایک خاص گروہ کا تذکرہ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کی وضاحت ہے یہ گروہ ہے ان فرشتوں کا جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو عرش کے ارد گرد ہیں ان کا ایک کام یہ ہے کہ یہ اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں یعنی نقائص سے اس کی تنزیہ کمالات اور خوبیوں کا اس کیلیے اثبات اور اس کے سامنے عجز وتذلل یعنی ایمان کا اظہار کرتے ہیں دوسرا کام ان کا یہ ہے کہ یہ اہل ایمان کیلیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں کہا جاتا ہے کہ عرش کو اٹھانے والے فرشتے چار ہیں مگر قیامت والے دن ان کی تعداد آٹھ ہوگی۔ ابن کثیر
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ جو (فرشتے) عرش اٹھائے ہوئے ہیں [6] اور جو اس کے گرد ہیں سب اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے اور اس پر ایمان [7] رکھتے ہیں اور ایمانداروں کے لئے بخشش طلب کرتے (اور کہتے) ہیں: ”اے ہمارے پروردگار! تو نے اپنی رحمت اور علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے لہذا جن لوگوں نے توبہ کی اور تیری راہ کی پیروی کی انہیں بخش دے اور دوزخ [8] کے عذاب سے بچا لے
[6] ﴿حاملين﴾ عرش فرشتوں کی مومنوں کے حق میں دعا :۔
ان دندنانے والے کفار مکہ کے مقابلہ میں دوسری طرف مسلمان تھے جن پر کافروں نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا اور اسی وجہ سے کچھ مسلمان مکہ کو خیر باد کہہ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے تھے۔ ان کی تسلی اور دلجوئی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم پریشان کیوں ہوتے ہو۔ تمہارے حق میں تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور ان کے آس پاس رہنے والے سب کے سب دست بد دعا رہتے ہیں۔ اور اللہ کی حمد و ثنا جو ان کا وظیفہ اور روحانی خوراک ہے کے ساتھ ہی تمہارے لئے دعائیں کرتے ہیں اور چونکہ فرشتے وہی کچھ کرتے ہیں جو اللہ کی طرف سے انہیں حکم ملتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں یہ حکم دیا ہے کہ وہ مومنوں کے حق میں دعا و استغفار کرتے رہا کریں۔
[7] ان کا اللہ پر ایمان اس لحاظ سے مضبوط ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قریب رہتے ہیں۔ ان عرشیوں کی سب ہمدردیاں زمین والے مومنوں کے ساتھ ہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایمان کا رشتہ نہ صرف یہ کہ جغرافیائی حدود کا پابند نہیں بلکہ عرشیوں اور فرشیوں سب کو ایک رشتہ میں منسلک کر دیتا ہے۔
[8] یعنی تیرا علم اتنا وسیع ہے کہ تو اپنے بندوں کے سارے حالات ان کے گناہوں اور ان کے دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات تک سے واقف ہے تو تیری رحمت اس سے بڑھ کر وسیع ہے۔ لہٰذا جو لوگ توبہ کر چکے اور تیری راہ پر گامزن ہو چکے ہیں تو ان کے گناہ معاف کر کے انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
[7] ان کا اللہ پر ایمان اس لحاظ سے مضبوط ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قریب رہتے ہیں۔ ان عرشیوں کی سب ہمدردیاں زمین والے مومنوں کے ساتھ ہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایمان کا رشتہ نہ صرف یہ کہ جغرافیائی حدود کا پابند نہیں بلکہ عرشیوں اور فرشیوں سب کو ایک رشتہ میں منسلک کر دیتا ہے۔
[8] یعنی تیرا علم اتنا وسیع ہے کہ تو اپنے بندوں کے سارے حالات ان کے گناہوں اور ان کے دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات تک سے واقف ہے تو تیری رحمت اس سے بڑھ کر وسیع ہے۔ لہٰذا جو لوگ توبہ کر چکے اور تیری راہ پر گامزن ہو چکے ہیں تو ان کے گناہ معاف کر کے انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے ٭٭
عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایماندار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتے ان گناہوں کی معافی طلب کرنے کیلئے مقرر کر دیئے جو ان کے بن دیکھے ہر وقت ان کی تقصیروں کی معافی طلب کیا کرتے ہیں۔
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کیلئے اس کی غیر حاضری میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کی دعا پر آمین کہتا ہے اور اس کیلئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی یہی دے جو تو اس مسلمان کیلئے اللہ سے مانگ رہا ہے۔ [صحیح مسلم:2732]
مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے «زحل و ثور تحت وجل یمینہ» و «النسر للاخری و لیث مرصد» یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا و «الشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد» یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہو جاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے۔[مسند احمد:256/1:ضعیف]
اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔
مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے «زحل و ثور تحت وجل یمینہ» و «النسر للاخری و لیث مرصد» یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا و «الشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد» یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہو جاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے۔[مسند احمد:256/1:ضعیف]
اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔
جیسے قرآن مجید میں ہے «وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ» [69- الحاقة: 17] ہاں اس آیت کے مطلب اور اس حدیث کے استدلال میں ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ابوداؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ بطحاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ایک ابر کو گزرتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا کہ اس کا کیا نام ہے؟ انہوں نے کہا سحاب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اسے مزن بھی کہتے ہیں؟ کہا ہاں! فرمایا عنان بھی؟ عرض کیا ہاں!۔
پوچھا جانتے ہو آسمان و زمین میں کس قدر فاصلہ ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نہیں، فرمایا اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا راستہ پھر اس کے اوپر کا آسمان بھی پہلے آسمان سے اتنے ہی فاصلے پر اسی طرح ساتوں آسمان ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے جس کی اتنی ہی گہرائی ہے پھر اس پر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت کے ہیں جن کے کھر سے گھٹنے کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے ان کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے جس کی اونچائی بھی اسی قدر ہے۔ پھر اس کے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ [سنن ابوداود:4723،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ سیدنا شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى حِلْمِكَ بَعْدَ عِلْمِكَ» یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔ اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ على عَفْوك بَعْدَ قُدْرَتِکَ» یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہرچیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔
ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ سیدنا شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى حِلْمِكَ بَعْدَ عِلْمِكَ» یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔ اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ على عَفْوك بَعْدَ قُدْرَتِکَ» یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہرچیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔
بنی آدم کے تمام گناہ ان کی کل خطاؤں پر تیری رحمت چھائے ہوئے ہے، اسی طرح تیرا علم بھی ان کے جملہ اقوال و افعال کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ ان کی کل حرکات و سکنات سے تو بخوبی واقف ہے۔ پس تو ان کے برے لوگوں کو جب وہ توبہ کریں اور تیری طرف جھکیں اور گناہوں سے باز آ جائیں اور تیرے احکام کی تعمیل کریں نیکیاں کریں بدیاں چھوڑیں بخش دے، اور انہیں جہنم کے درد ناک گھبراہٹ والے عذابوں سے نجات دے۔ انہیں مع ان کے والدین بیویوں اور بچوں کو جنت میں لے جا تاکہ ان کی آنکھیں ہر طرح ٹھنڈی رہیں۔ گو ان کے اعمال ان جتنے نہ ہوں تاہم تو ان کے درجات بڑھا کر اونچے درجے میں پہنچا دے۔
جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے، «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» [52- الطور: 21]، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کر دیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کر دیں گے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مومن جنت میں جا کر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لیے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت «رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [40- غافر: 8] کی تلاوت فرمائی۔
جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے، «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» [52- الطور: 21]، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کر دیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کر دیں گے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مومن جنت میں جا کر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لیے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت «رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [40- غافر: 8] کی تلاوت فرمائی۔
سیدنا مطرف بن عبداللہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ایمانداروں کی خیر خواہی فرشتے بھی کرتے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی۔ اور شیاطین ان کی بدخواہی کرتے ہیں۔ تو ایسا غالب ہے جس پر کوئی غالب نہیں اور جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جو تو چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا۔ تو اپنے اقوال و افعال شریعت و تقدیر میں حکمت والا ہے، تو انہیں برائیوں کے کرنے سے دنیا میں اور ان کے وبال سے دونوں جہان میں محفوظ رکھ، قیامت کے دن رحمت والا وہی شمار ہوسکتا ہے جسے تو اپنی سزا سے اور اپنے عذاب سے بچالے حقیقتاً بڑی کامیابی پوری مقصد دری اور ظفریابی یہی ہے۔