اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ اَنّٰی یُصۡرَفُوۡنَ ﴿ۖۛۚ۶۹﴾
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں، کہاں پھیرے جا رہے ہیں۔
En
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ یہ کہاں بھٹک رہے ہیں؟
En
کیا تو نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، وه کہاں پھیر دیے جاتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 69) { اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ …:} اس سورت میں شروع سے یہاں تک کفار کے ناحق جدال کا اور اس کی مذمت کا پانچ مرتبہ ذکر آیا ہے۔ دیکھیے آیت (۴، ۵، ۳۵، ۵۶، ۶۹) یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان آیات کے سننے یا پڑھنے والے ہر شخص کو فرمایا کہ (سورت کے شروع سے یہاں تک کی تقریر سے) کیا تمھیں معلوم نہیں ہوا کہ اللہ کی آیات میں ناحق جھگڑا اور کج بحثی کرنے والے لوگ ان کے صحیح ہونے کے دلائل جاننے کے باوجود کہاں سے ٹھوکر کھا کر گمراہی کے گڑھے میں گر رہے ہیں؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
69۔ 1 انکار اور تکذیب کے لئے یا اس کے رد و ابطال کے لئے۔ 69۔ 2 یعنی ظہور دلائل اور وضوح حق کے باوجود وہ کس طرح حق کو نہیں مانتے۔ یہ تعجب کا اظہار ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
69۔ آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا، جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں؟ وہ کہاں سے پھرا دیئے [92] جاتے ہیں؟
[92] قرآن کی آیات سے اپنے نظریات کشید کرنا اور ان میں جھگڑا اور فرقہ بازی :۔
اللہ کی آیات سے مراد آیات آفاق و انفس بھی ہو سکتی ہے جن کا قرآن نے بے شمار مقامات پر اور یہاں بھی توحید کے دلائل کے طور پر ذکر کیا ہے۔ پھر بھی مشرک لوگ ان میں جھگڑا کرتے اور اللہ کے پیاروں کو اللہ کے اختیارات میں شریک بنا لیتے ہیں اور اگر ان آیات سے مراد اللہ کے احکام و ارشادات لئے جائیں تو اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی ایک پہلو کی انتہا کو پہنچ کر ایک نظریہ قائم کر لیتے ہیں پھر جو آیات اپنے اس قائم کردہ نظریہ کے خلاف نظر آئیں ان کی تاویل کر لیتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگوں نے جب موت و حیات اور رزق وغیرہ کے معاملہ میں انسان کی بے بسی دیکھی تو یہ نظریہ قائم کر لیا کہ انسان مجبور محض اور قدرت کے ہاتھوں میں محض ایک کھلونے کی حیثیت رکھتا ہے پھر جن آیات سے انسان کا اختیار ثابت ہوتا تھا ان کی تاویل کر ڈالی۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں کچھ دوسرے لوگ اٹھے جنہوں نے قرآن ہی کی آیات سے یہ نظریہ قائم کر لیا کہ انسان مختار مطلق ہے اور جو کام بھی وہ کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ اور ایسی آیات جن سے انسان کی بے بسی ثابت ہوتی تھی ان کی تاویل کر ڈالی۔ اس طرح اللہ کی آیات میں بحث و جدال اور ایک ہی طرف انتہا کو پہنچنے اور دوسرے پہلو سے صرف نظر کرنے کی بنا پر آغاز اسلام میں دو فرقے جبریہ اور قدریہ ایک دوسرے کے مدمقابل کے طور پر سامنے آگئے۔ وہی مسئلہ تقدیر جس پر بحث کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے روک دیا تھا۔ اسی مسئلہ پر بحث و جدال کے نتیجہ میں یہ دو فرقے پیدا ہوئے اور اپنے اپنے نظریہ کی حمایت میں قرآن کی آیات میں بحث و جدال اور انہی سے استدلال کرنے لگے۔ حالانکہ اس مسئلہ میں راہ صواب اور راہ اعتدال یہ ہے کہ انسان بعض معاملات میں مجبور ہے اور بعض میں مختار۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت ہے اب اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ جس کام میں انسان مجبور ہے وہاں اس پر کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا۔ مؤاخذہ یا باز پرس صرف اس کام کے متعلق ہو گی جس میں وہ مختار ہے۔ یا جس حد تک مختار ہے۔ بعد ازاں جتنے بھی بدعی فرقے پیدا ہوئے ہر ایک نے اپنی بنائے استدلال قرآن ہی پر رکھی اور من مانی تاویل حتیٰ کہ اپنی بات کی اپج میں آکر معنوی اور لفظی تحریف تک سے باز نہ آئے اور ایسی چند تاویلات ہم اپنے حواشی میں پیش کر چکے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اَڑتے ہیں؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات: 15] جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگِ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ» [55-الرحمن: 43، 44]۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا «ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ» [37- الصافات: 68] کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کیطرف ہے۔
سورۃ الواقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا «وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ» [56-سورة الواقعة: 41-44] بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند،
آگے چل کر فرمایا، «ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ هَـٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ» [56-سورة الواقعة: 51-56] اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہو گی۔
اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُونَ» [44- الدخان: 43-50]، یعنی یقیناً گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ، لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریم والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔
آگے چل کر فرمایا، «ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ هَـٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ» [56-سورة الواقعة: 51-56] اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہو گی۔
اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُونَ» [44- الدخان: 43-50]، یعنی یقیناً گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ، لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریم والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔
ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کر دیئے جائیں گے۔ (مجمع الزوائد:[18598]ضعیف)
پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہو گئے وہ تھے ہی بےسود۔
پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کر دیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ «وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» [6- الانعام: 23] اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔
یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بے وجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آ جاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہو جاؤ اب ہمیشہ یہیں پہ رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی ِگرو گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہو گئے وہ تھے ہی بےسود۔
پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کر دیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ «وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» [6- الانعام: 23] اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔
یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بے وجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آ جاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہو جاؤ اب ہمیشہ یہیں پہ رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی ِگرو گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔