(آیت 68) ➊ { هُوَالَّذِيْيُحْيٖوَيُمِيْتُ:} توحید اور آخرت کو ثابت کرنے کے لیے اپنی نعمتوں اور قدرتوں کے تذکرے سے بھرپور آیات کے اس سلسلے کو اس آیت پر ختم فرمایا کہ ”وہی ہے جو (جسے چاہتا ہے) زندگی عطا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) موت دیتا ہے۔“ موت و حیات مکمل طور پر اس کے ہاتھ میں ہے، کسی دوسرے کا اس میں کچھ دخل نہیں۔ ➋ {فَاِذَاقَضٰۤىاَمْرًافَاِنَّمَايَقُوْلُلَهٗكُنْفَيَكُوْنُ:} یعنی اسے پہلی مرتبہ یا دوبارہ کوئی چھوٹی یا بڑی چیز بنانے میں، یا کسی کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے اورقیامت برپا کرنے میں کیا مشکل ہو سکتی ہے؟ وہ تو جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو بس{ ”كُنْ“ } (ہو جا) کہتا ہے تو وہ کام ہو جاتا ہے۔ وہ اسباب کا محتاج نہیں، بلکہ اسباب اس کے حکم سے وجود میں آتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
68۔ 1 زندہ کرنا اور مارنا اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ ایک بےجان نطفے کو مختلف اطوار سے گزار کر ایک زندہ انسان کے روپ میں ڈھال دیتا ہے اور پھر ایک وقت مقررہ کے بعد اس زندہ انسان کو مار کر موت کی وادیوں میں سلا دیتا ہے۔ 68۔ 2 اس کی قدرت کا یہ حال ہے کہ اس کے لفظ کن (ہو جا) سے وہ چیز معرض وجود میں آجاتی ہے جس کا وہ ارادہ کرے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
68۔ وہی تو ہے جو تمہیں زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس اسے اتنا ہی کہتا ہے کہ ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتا [91] ہے۔
[91]﴿كُنْفَيَكُوْنُ﴾ کی تشریح کے لئے دیکھئے سورۃ یٰسین کی آیت نمبر 84 کا حاشیہ نمبر 74
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔