ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 67

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ثُمَّ لِتَکُوۡنُوۡا شُیُوۡخًا ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی مِنۡ قَبۡلُ وَ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
وہی ہے جس نے تمھیں کچھ مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر ایک جمے ہوئے خون سے، پھر وہ تمھیں ایک بچہ بنا کر نکالتا ہے، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، پھر تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اورتم میںسے بعض وہ ہے جو اس سے پہلے قبض کر لیا جاتا ہے اور تاکہ تم ایک مقرر وقت کو پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سمجھو۔ En
وہی تو ہے جس نے تم کو (پہلے) مٹی سے پیدا کیا۔ ہھر نطفہ بنا کر پھر لوتھڑا بنا کر پھر تم کو نکالتا ہے (کہ تم) بچّے (ہوتے ہو) پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو۔ پھر بوڑھے ہوجاتے ہو۔ اور کوئی تم میں سے پہلے ہی مرجاتا ہے اور تم (موت کے) وقت مقرر تک پہنچ جاتے ہو اور تاکہ تم سمجھو
En
وه وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا پھر تمہیں بچہ کی صورت میں نکالتا ہے، پھر (تمہیں بڑھاتا ہے کہ) تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ پھر بوڑھے ہو جاؤ، تم میں سے بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، (وه تمہیں چھوڑ دیتا ہے) تاکہ تم مدت معین تک پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سوچ سمجھ لو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67) ➊ { هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ …:} یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور قیامت قائم ہونے کی دلیل ہے۔ اس کی تفسیر سورۂ حج (۵) اور سورۂ مومنون (۱۲ تا ۱۴) میں تفصیل سے گزر چکی ہے۔ البتہ یہاں چند الفاظ کی مختصر تشریح کی جاتی ہے۔
➋ { ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤااَشُدَّكُمْ } اور { ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُيُوْخًا } دونوں میں لامِ کے فعل محذوف کے متعلق ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے: { ثُمَّ يُرَبِّيْكُمْ } یعنی پھر وہ تمھاری پرورش کرتا رہتا ہے (تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، پھر تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ) یا { ثُمَّ يُبْقِيْكُمْ } ہے، یعنی پھر وہ تمھیں باقی رکھتا ہے (تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، پھر تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ)۔
➌ { وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ:} یعنی کوئی پیدا ہونے سے پہلے (اسقاط کی صورت میں)، کوئی جوانی کو پہنچنے سے پہلے اور کوئی بوڑھا ہونے سے پہلے فوت کر لیا جاتا ہے۔
➍ {وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى:} اس { لِتَبْلُغُوْۤا } کا تعلق پہلے { لِتَبْلُغُوْۤا } کے لیے مقدر فعل کے ساتھ نہیں ہو گا، بلکہ اس کے لیے الگ فعل مقدر ماننا پڑے گا، مثلاً {وَ فَعَلَ لَكُمْ ذٰلِكَ لِتَبْلُغُوْا أَجَلًا مُّسَمًّي} اور اس نے تمھارے ساتھ یہ معاملہ اس لیے کیا ہے کہ تم موت کے اس وقت تک پہنچ جاؤ جو تم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی کوئی علقہ بننے تک، کوئی مضغہ یا عظام بننے تک، کوئی ولادت تک، کوئی لڑکپن تک، کوئی جوانی تک اور کوئی بڑھاپے تک پہنچ کر مرے۔ (ابن جزی)
➎ { وَ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں زندگی کے ان مختلف مراحل سے اس لیے گزارتا ہے کہ جب تم اس حیرت انگیز نظام پر غور کرو تو سمجھ جاؤ کہ کوئی خالق ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا فرمایا ہے اور وہ ایک ہی ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ورنہ کائنات کے اس سلسلے میں ہر چیز کی ایک دوسرے کے ساتھ نہ اتنی زبردست موافقت و مناسبت ہوتی اور نہ ہی یہ نظام ایک لمحے کے لیے چل سکتا یا باقی رہ سکتا۔ اور تاکہ یہ بھی سمجھ جاؤ کہ یہاں ہر مرحلے کے بعد اگلا مرحلہ ہے، مٹی اور نطفے سے پیدا کرنے والے اور اسے ایک وقت تک پہنچانے کے بعد قبض کر لینے والے کے لیے کچھ مشکل نہیں کہ وہ تمھیں دوبارہ زندہ کرلے اور تمھارا حساب لے۔ یعنی اگر غور کرو تو پیدائش کے اس سلسلے سے اللہ تعالیٰ کا وجود، اس کی وحدانیت اور تمھیں دوبارہ زندہ کرنے پر اس کا قادر ہونا آسانی سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: یعنی اتنے احوال تم پر گزرے، شاید ایک حال اور بھی گزرے (اور) وہ (ہے) مر کر جینا۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم ؑ کو مٹی سے بنایا جو ان کی تمام اولاد کے مٹی سے پیدا ہونے کو مستلزم ہے پھر اس کے بعد نسل انسانی کے تسلسل اور اس کی بقا وتحفظ کے لیے انسانی تخلیق کو نطفے سے وابستہ کردیا اب ہر انسان اس نطفے سے پیدا ہوتا ہے جو صلب پدر سے رحم مادر میں جا کر قرار پکڑتا ہے سوائے حضرت عیسیٰ ؑ کے کہ ان کی پیدائش معجزانہ طور پر بغیر باپ کے ہوئی جیسا کہ قرآن کریم کی بیان کردہ تفصیلات سے واضح ہے اور جس پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ 67۔ 2 یعنی ان تمام کیفیتوں اور اطوار سے گزارنے والا وہی اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ 67۔ 3 یعنی رحم مادر میں مختلف ادوار سے گزر کر باہر آنے سے پہلے ہی ماں کے پیٹ میں، بعض بچپن میں، بعض جوانی میں اور بعض بڑھاپے سے قبل فوت ہوجاتے ہیں۔ 67۔ 4 یعنی اللہ تعالیٰ یہ اس لئے کرتا ہے تاکہ جس کی جتنی عمر اللہ نے لکھ دی ہے، وہ اس کو پہنچ جائے اور اتنی زندگی دنیا میں گزار لے۔ 67۔ 5 یعنی جب تم ان اطوار اور مراحل پر غور کرو گے کہ نطفے سے علقہ پھر مضغۃ، پھر بچہ، پھر جوانی، کہولت اور بڑھاپا، تو تم جان لو گے کہ تمہارا رب بھی ایک ہی ہے اور تمہارا معبود بھی ایک اس کے سوا کو‏ئی معبود نہیں علاوہ ازیں یہ بھی سمجھ لو گے کہ جو اللہ یہ سب کچھ کرنے والا ہے اس کے لیے قیامت والے دن انسانوں کو دوبارہ زندہ کردینا بھی مشکل نہیں ہے اور وہ یقینا سب کو زندہ فرما‏ئے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ وہی تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے، پھر نطفہ سے، پھر لوتھڑے سے پیدا کیا، پھر تمہیں بچے کی شکل میں (ماں کے پیٹ سے) نکالتا ہے۔ پھر (انہیں بڑھاتا ہے) تاکہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جاؤ۔ پھر (اور بڑھاتا ہے) تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو۔ پھر تم میں سے کسی کو پہلے ہی وفات دے دی [90] جاتی ہے تاکہ تم اس مدت کو پہنچو جو تمہارے لئے مقرر ہے اور (یہ سب کچھ اس لئے ہے) تاکہ تم عقل سے کام لو۔
[90] انسان کی تخلیق اور زندگی کے مختلف مراحل سے بعث بعد الموت پر دلیل :۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کے بے جان ذروں سے تمہارے لئے خوراک پیدا کی۔ اسی بے جان خوراک سے کئی مراحل طے کرنے کے بعد تمہارے اندر منی پیدا ہوئی اور اطباء کے قول کے مطابق منی چوتھے ہضم کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ پھر اسی منی کا قطرہ جب ماں کے رحم میں داخل ہوتا ہے اور اسے رحم مادر قبول کر لیتا ہے تو اس پر کئی ادوار آتے ہیں بعد میں اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ اور ایک مقررہ مدت کے بعد خوبصورت شکل اور محیر العقول صلاحیتیں لے کر رحم مادر سے باہر آجاتا ہے۔ اس وقت وہ نہ چل سکتا ہے نہ بول سکتا ہے نہ کچھ سمجھ سکتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس میں وہ قوتیں نشوونما پانے لگتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں رکھ دی ہیں۔ انسان کے بڑھنے کے ساتھ اس کی عقل، اس کا فہم، اس کی جسمانی قوت، اس کا قد وقامت غرض ہر چیز بڑھتی چلی جاتی ہے۔ پھر اس پر بڑھاپے کا وقت آتا ہے تو پہلے جیسی غذائیں کھانے کے باوجود قد بڑھنا رک جاتا ہے اور دوسری قوتوں میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اور آخری مرحلہ موت ہے۔ جو کبھی تو بچپن میں ہی آجاتی ہے، کبھی اسقاط ہو جاتا ہے کبھی جوانی میں انسان مرتا ہے اور کبھی بوڑھا کھوسٹ ہونے کے باوجود بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑتا رہتا ہے مگر اسے موت نہیں آتی۔ ذرا سوچو! ان مراحل میں سے کوئی مرحلہ بھی تمہارے اپنے اختیار میں ہے۔ پھر اگر بعث بعد الموت کا ایک اور مرحلہ تم پر گزر جائے تو تم اسے کیسے محال سمجھتے ہو؟
موت سے متعلق چند اٹل حقائق :۔
پھر موت ایک ایسا اضطراری امر اور اٹل حقیقت ہے جو اپنے اندر کئی تلخ حقائق سمیٹے ہوئے ہے۔ کوئی فقیر، کوئی امیر، کوئی بادشاہ اس کی گرفت سے نہ آج تک بچ سکا ہے نہ آئندہ بچ سکے گا۔ پھر اس کا جو وقت مقرر ہے وہ بھی آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ بعض دفعہ انسان بے شمار حوادث سے بچ نکلتا ہے اور موت کے منہ سے بچا رہتا ہے۔ اور بعض دفعہ ایک معمولی سا حادثہ اس کا جان لیوا ثابت ہو جاتا ہے۔ کوئی بادشاہ کسی اعلیٰ سے اعلیٰ ہسپتال سے داخل ہو کر اور ماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرنے کے باوجود موت کے وقت کو آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔ اور اس میں جو ایک مرد مومن اور صاحب عقل کے لئے سبق ہے وہ یہ ہے کہ دشمن اسلام طاقتیں جتنا بھی زور لگا لیں، جتنی بھی سازشیں تیار کر لیں کسی کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتیں جب تک کہ اس کی موت کا وقت نہ آئے۔ سیدنا خالد بن ولید تقریباً ایک سو جہاد کے معرکوں میں شریک ہوئے لیکن موت آئی تو بستر مرگ پر گھر میں ہی آئی۔ یہ عقیدہ ایک مجاہد میں بے پناہ جرأت پیدا کر دیتا ہے۔ پھر اس کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے ایک خطہ زمین جس میں ایک ہی قسم کا بیج ڈالا جائے۔ سیراب ایک ہی طرح کے پانی سے ہو، موسم اور آب و ہوا ایک جیسی ہو۔ نگہداشت ایک جیسی ہو اس خطہ زمین کے سارے پودے تقریباً ایک ہی جیسی پرورش اور زندگی پاتے ہیں۔ مگر ایک ہی والدین کے چھ بچے جن کی خوراک ایک، آب و ہوا ایک، گھر ایک ماں باپ ایک، لیکن عمریں سب کی جدا جدا ہوتی ہیں کوئی بچپن میں مرتا ہے، کوئی جوانی میں اور کوئی اتنا بوڑھا اور ذلیل ہو جاتا ہے کہ وہ خود چاہتا ہے کہ اللہ اسے دنیا سے اٹھا لے مگر اسے موت نہیں آتی۔ کیا یہ سب باتیں اس حقیقت کی نشاندہی نہیں کرتیں کہ کوئی قادر مطلق ہستی ہماری موت و حیات پر حکمران ہے۔ کسی دیوتا، کسی پیر، پیغمبر، کسی ستارے اور آستانے والے کا اس میں کچھ دخل نہیں یا کم از کم حکیم اور ڈاکٹر خود تو نہ مرتے۔ ہر کسی کی بے بسی ایک جیسی ہے تو ایسے بے بسوں کو عبادت کا مستحق کیسے قرار دیا جا سکتا ہے اور کتنے نادان ہیں وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کی خدائی تسلیم کر لیتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشرکین کو دعوت توحید ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی «وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ» نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر سے ہوتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے؟
بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گر جاتے ہیں۔ حمل ساقط ہو جاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ چنانچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے «وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى» [22- الحج: 5]‏‏‏‏ یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔