تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تیسری نعمت انسان کی صورت بنانا ہے، وہ بھی نہایت اہتمام کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے۔ (دیکھیے سورۂ ص: ۳۸) چوتھی نعمت انسان کی صورت اچھی بنانا ہے، دوسرے جانوروں کے برعکس وہ سیدھے قد کے ساتھ دو پاؤں پر چلتا ہے اور ہاتھ کے ساتھ کھاتا پیتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۷۰): «وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ …» کی تفسیر دیکھیں۔ پانچویں نعمت ”طیبات“ (پاکیزہ چیزیں) بطور رزق عطا کرنا ہے۔{ ” الطَّيِّبٰتِ “} کا لفظ حرام و حلال کے سلسلے میں آئے تو مراد حلال چیزیں ہوتی ہیں اور انعام کے طور پر ذکر کیا جائے تو اس سے مراد لذیذ چیزیں ہوتی ہیں۔ یہاں یہی مراد ہے، کیونکہ تمام جانوروں کے برعکس انسان کی خوراک ہر چیز میں سے اس کا لذیذ ترین حصہ ہے۔ خوراک کے علاوہ اس میں نکاح، لباس، زینت اور بود و بوش کی بے شمار طیبات شامل ہیں۔
➋ { ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ:} اس کی تفسیر پچھلی آیات میں گزر چکی ہے۔
➌ {فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ: ”تَبَارَكَ“} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ملک کی پہلی آیت۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الله الذي جَعَلَ لكم الأرضَ قراراً}؛ أي: قارَّةً ساكنةً مهيأةً لكلِّ مصالحكم، تتمكَّنون من حرثها وغرسها والبناء عليها والسفر والإقامة فيها، {والسماء بناء}: سقفاً للأرض الذي أنتم فيها، قد جعل الله فيها ما تنتفعون به من الأنوار والعلامات، التي يُهتدى بها في ظلمات البرِّ والبحر، {وصوَّركم فأحسن صُوَرَكم}: فليس في جنس الحيوانات أحسنُ صورةً من بني آدم؛ كما قال تعالى: {لقد خَلَقْنا الإنسان في أحسن تقويم}، وإذا أردت أن تعرفَ حسنَ الآدميِّ وكمال حكمةِ الله تعالى فيه؛ فانْظُرْ إليه عضواً عضواً؛ هل تجدُ عضواً من أعضائه يليقُ به ويصلحُ أن يكون في غير محلِّه، وانظر أيضاً إلى الميل الذي في القلوب بعضهم لبعض؛ هل تجدُ ذلك في غير الآدميِّين، وانظر إلى ما خصَّه الله به من العقل والإيمان والمحبَّة والمعرفة التي هي أحسن الأخلاق المناسبة لأجمل الصور. {ورزَقَكُم من الطيباتِ}: وهذا شاملٌ لكلِّ طيِّب من مأكل ومشربٍ ومنكح وملبسٍ ومنظرٍ ومسمع وغير ذلك من الطيِّبات التي يسَّرها الله لعبادِهِ ويسَّر لهم أسبابها ومنعهم من الخبائث التي تضادُّها وتضرُّ أبدانهم وقلوبَهم وأديانَهم. {ذلكم}: الذي دبَّر الأمور وأنعم عليكم بهذه النعم، {اللهُ ربُّكم فتبارَكَ الله ربُّ العالمين}؛ أي: تعاظم وكَثُر خيرُه وإحسانُه، المربِّي جميع العالمين بنعمه.