اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَکُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَکُمۡ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚۖ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۴﴾
اللہ وہ ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو رہنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمھاری صورت بنائی تو تمھاری صورتیں اچھی بنائیں اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، یہ ہے اللہ تمھارا رب، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
En
خدا ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھیرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی خوب بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے۔ پس خدائے پروردگار عالم بہت ہی بابرکت ہے
En
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنا دیا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمده عمده چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں، یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے، پس بہت ہی برکتوں واﻻ اللہ ہے سارے جہان کا پرورش کرنے واﻻ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 64) ➊ { اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا …:} اس سے پہلے لیل و نہار کے ذکر کے ساتھ زمانی نعمتوں کا ذکر فرمایا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنی بے شمار نعمتوں میں سے مزید پانچ نعمتوں کا ذکر فرما کر اپنے اکیلے رب ہونے کی یاد دہانی فرمائی۔ ان نعمتوں کا تعلق مکان سے ہے یا انسان کی ذات سے۔ پہلی نعمت زمین کو رہنے کی جگہ بنانا ہے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں، ایک یہ کہ اس نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی، پھر اس میں ایسے توازن و تناسب سے پہاڑ گاڑ دیے کہ وہ انسانوں اور تمام جانداروں کے لیے جائے قرار بن گئی۔ اگر اس میں مسلسل زلزلے کی کیفیت رہتی تو کوئی متنفس اس پر نہ بس سکتا۔ (دیکھیے نحل: ۱۵۔ انبیاء: ۳۱۔ لقمان: ۱۰) دوسری یہ کہ زمین انسان کو اور تمام جانداروں کو زندگی میں بسیرا مہیا کرتی ہے اور مرنے کے بعد بھی انھیں سمیٹتی ہے، اگر اس میں یہ وصف نہ ہوتا تو تعفن کی وجہ سے کوئی جاندار زندہ و سلامت نہ رہتا۔ (دیکھیے مرسلات: ۲۵، ۲۶) اور تیسری یہ کہ انسان کی تمام ضروریات کھانا پینا اور لباس وغیرہ سب زمین سے وابستہ ہیں، اگر اللہ تعالیٰ اس میں یہ صفت نہ رکھتا تو کوئی جاندار یہاں زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہ بات بیان ہوئی ہے۔ دوسری نعمت آسمان کو چھت بنانا ہے، چھت بھی ستونوں کے بغیر اور گرنے سے اور ہر قسم کی آفات سے محفوظ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء (۳۲)، رعد (۲) اور لقمان (۱۰)۔
تیسری نعمت انسان کی صورت بنانا ہے، وہ بھی نہایت اہتمام کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے۔ (دیکھیے سورۂ ص: ۳۸) چوتھی نعمت انسان کی صورت اچھی بنانا ہے، دوسرے جانوروں کے برعکس وہ سیدھے قد کے ساتھ دو پاؤں پر چلتا ہے اور ہاتھ کے ساتھ کھاتا پیتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۷۰): «وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ …» کی تفسیر دیکھیں۔ پانچویں نعمت ”طیبات“ (پاکیزہ چیزیں) بطور رزق عطا کرنا ہے۔{ ” الطَّيِّبٰتِ “} کا لفظ حرام و حلال کے سلسلے میں آئے تو مراد حلال چیزیں ہوتی ہیں اور انعام کے طور پر ذکر کیا جائے تو اس سے مراد لذیذ چیزیں ہوتی ہیں۔ یہاں یہی مراد ہے، کیونکہ تمام جانوروں کے برعکس انسان کی خوراک ہر چیز میں سے اس کا لذیذ ترین حصہ ہے۔ خوراک کے علاوہ اس میں نکاح، لباس، زینت اور بود و بوش کی بے شمار طیبات شامل ہیں۔
➋ { ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ:} اس کی تفسیر پچھلی آیات میں گزر چکی ہے۔
➌ {فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ: ”تَبَارَكَ“} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ملک کی پہلی آیت۔
تیسری نعمت انسان کی صورت بنانا ہے، وہ بھی نہایت اہتمام کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے۔ (دیکھیے سورۂ ص: ۳۸) چوتھی نعمت انسان کی صورت اچھی بنانا ہے، دوسرے جانوروں کے برعکس وہ سیدھے قد کے ساتھ دو پاؤں پر چلتا ہے اور ہاتھ کے ساتھ کھاتا پیتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۷۰): «وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ …» کی تفسیر دیکھیں۔ پانچویں نعمت ”طیبات“ (پاکیزہ چیزیں) بطور رزق عطا کرنا ہے۔{ ” الطَّيِّبٰتِ “} کا لفظ حرام و حلال کے سلسلے میں آئے تو مراد حلال چیزیں ہوتی ہیں اور انعام کے طور پر ذکر کیا جائے تو اس سے مراد لذیذ چیزیں ہوتی ہیں۔ یہاں یہی مراد ہے، کیونکہ تمام جانوروں کے برعکس انسان کی خوراک ہر چیز میں سے اس کا لذیذ ترین حصہ ہے۔ خوراک کے علاوہ اس میں نکاح، لباس، زینت اور بود و بوش کی بے شمار طیبات شامل ہیں۔
➋ { ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ:} اس کی تفسیر پچھلی آیات میں گزر چکی ہے۔
➌ {فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ: ”تَبَارَكَ“} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ملک کی پہلی آیت۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
64۔ 1 آگے نعمتوں کی کچھ قسمیں بیان کی جا رہی ہیں تاکہ اللہ کی قدرت کاملہ بھی واضح ہوجائے اور اس کا بلا شرکت غیرے معبود ہونا بھی۔ 64۔ 2 جس میں تم رہتے چلتے پھرتے کاروبار کرتے اور زندگی گزارتے ہو پھر بالآخر موت سے ہمکنار ہو کر قیامت تک کے لیے اسی میں آسودہ خواب رہتے ہو۔ 64۔ 3 یعنی قائم اور ثابت رہنے والی چھت اگر اس کے گرنے کا اندیشہ رہتا تو کوئی شخص آرام کی نیند سو سکتا تھا نہ کسی کے لیے کاروبار حیات کرنا ممکن ہوتا۔۔ 64۔ 4 جتنے بھی روئے زمین پر حیوانات ہیں، ان سب میں (تم) انسانوں کو سب سے زیادہ خوش شکل اور متناسب الا، عضا بنایا ہے۔ 64۔ 5 یعنی اقسام و انواع کے کھانے تمہارے لئے مہیا کئے، جو لذیذ بھی ہیں اور قوت بخش بھی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
64۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو جائے قرار [83] اور آسمان کو (بمنزلہ) چھت [84] بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں تو نہایت عمدہ [85] بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزوں [86] کا رزق دیا۔ یہ (ان صفات کا مالک) ہے تمہارا پروردگار جو بڑا برکت والا اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
[83] زمین کے جائے قرار ہونے کے مختلف پہلو :۔
زمین کے جائے قرار ہونے کے بھی کئی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے توازن و تناسب سے اس میں پہاڑ رکھ دیئے کہ وہ انسانوں اور تمام جانداروں کے لئے جائے قرار بن گئی۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان اسی زمین پر پیدا ہوتا ہے اسی پر زندگی گزارتا ہے اسی میں مرنے کے بعد دفن ہوتا ہے اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے کھانے، پینے، لباس اور دوسری تمام ضروریات اسی زمین سے وابستہ ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ زمین میں ایسی خصوصیات نہ رکھ دیتا تو نہ یہاں کوئی جاندار زندہ رہ سکتا اور نہ ہی زمین جائے قرار بن سکتی تھی۔
[84] آسمان ایک محفوظ چھت کیسے؟
اس مقام پر آسمان کو چھت قرار دیا گیا ہے جبکہ سورۃ انبیاء کی آیت نمبر 32 میں اسے ﴿سَقْفًا مَّحْفُوْظًا﴾ یعنی محفوظ چھت قرار دیا گیا ہے۔ اور چھت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آفات سماوی سے محفوظ رکھتا ہے یہی فائدہ آسمان دنیا کا ہے۔ اس وسیع کائنات میں لا تعداد سیارے، دمدار ستارے اور ٹوٹنے والے ستارے انتہائی تیز رفتاری سے تیرتے پھرتے ہیں۔ یہ آپس میں بعض دفعہ ٹکرا کر پاش پاش بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر اللہ نے ہمارے اوپر یہ محفوظ چھت بنا دی ہے۔ ورنہ عالم بالا کی آفات زمین پر بارش کی طرح برس کر زمین والوں کو تہس نہس کر دیتیں۔ اس آسمان سے گزر کر کوئی تباہ کن چیز ہم تک نہیں پہنچ سکتی۔ حتیٰ کہ آفاق کی مہلک شعاعیں بھی ہم تک نہیں پہنچ پاتیں۔ اسی وجہ سے ہم اس زمین پر امن و چین سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔
[85] جسمانی اعتبار سے انسان دوسرے جانوروں سے کن باتوں میں ممتاز ہے؟
تمہاری شکل و صورت تمام جانداروں سے اعلیٰ قسم کی بنائی۔ دوسرے جانداروں سے انسان کی نمایاں جسمانی خصوصیات یہ ہیں کہ تمام جاندار اپنے منہ سے غذا کھاتے ہیں جبکہ انسان اپنے ہاتھ سے خوراک منہ تک لے جاتا ہے اکثر جاندار زمین پر ہی رینگتے یا چار پیروں پر چلتے ہیں۔ جبکہ انسان دو پاؤں پر چلتا ہے اور اپنا جسم سیدھا رکھ کر چلتا ہے۔ انسان کے ہاتھ اور پاؤں کثیر المقاصد ہیں جتنا کام انسان اپنے ہاتھ پاؤں سے لے سکتا ہے۔ دوسرا کوئی جاندار نہیں لے سکتا اس کے بے نظیر جسم اور جسمانی صلاحیتوں کے علاوہ جتنی ذہنی صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بخشی ہیں وہ کسی دوسرے جاندار کو نہیں دی گئیں۔ اور یہ صلاحیتیں عطا کرنا محض اللہ کا فضل و کرم ہے جس میں کسی دیوتا، کسی نبی اور ولی اور بزرگ کا کچھ دخل نہیں ہوتا۔
[86] زمین کی پیدا وار کا بہترین حصہ انسان کے لئے ہے زمینی پیداوار سے انسان کا بیشمار اشیاء بنا کر کا لطف اٹھانا :۔
جتنی بھی پیداوار زمین سے اگتی ہے اس کا بہترین حصہ انسان کی خوراک کے کام آتا ہے کسی جاندار کو اتنی عمدہ اور لذیذ چیزیں کھانے کو میسر نہیں آسکتیں۔ جتنی انسان کو یہ میسر آتی ہیں۔ یہ ٹھنڈا میٹھا اور نتھرا ہوا صاف شفاف پانی، یہ غلے، یہ پھل، یہ ترکاریاں، یہ دودھ، یہ شہد، یہ گوشت، یہ نمک مرچ اور مسالے انسان کی صرف غذا کا ہی کام نہیں دیتے بلکہ انسان ان سے اور پھر ان سے دوسری بہت چیزیں تیار کر کے زندگی کا لطف اٹھاتا ہے۔ پھر انسان خوشبودار پھولوں اور ان سے عطریات تیار کر کے جو لطف اٹھاتا ہے وہ دوسرے کسی جاندار کے حصہ میں نہیں آتے۔ یہ سب چیزیں آخر کس نے اتنی فراوانی کے ساتھ زمین پر پیدا کی ہیں اور کس نے یہ انتظام کیا ہے کہ غذا کے یہ بے حساب خزانے زمین سے پے در پے نکلتے چلے آتے ہیں اور ان میں کبھی انقطاع واقع نہیں ہوتا اگر اللہ تعالیٰ تمہارے پاکیزہ رزق کا یہ انتظام نہ فرماتا تو تم خود سوچ لو کہ تمہاری زندگی کیسی بے کیف ہوتی۔ کیا یہ بات اس امرکا صریح ثبوت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ محض خالق ہی نہیں بلکہ وہ حکیم اور رحیم بھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔